कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گداگروں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے:یعنی پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک نہیں دینا چاہیے

از قلم :مفتی محمد اسلم جامعی
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جس نے دنیائے انسانیت کی فلاح و بہبود اور خیر و خوبی کے لیے ایسی جامع تعلیمات عطا فرمائی ہے جس میں زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط پنہاں ہے، ان ہی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم، کسی کے آگے دست درازی سے گُریز کرنا بھی ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الید العلیا خیر من الید السفلی (بخاری و مسلم) دستِ اعلیٰ دستِ اسفل سے بہتر ہے، یعنی سخاوت گداگری سے بہتر ہے، اس روایت میں گداگری کی قباحت اور مذمت بیان کی گئی، اور دست درازی سے گُریز کرنے کی تلقین کی گئی، بلکہ امام عزالی رح نے احیاء علوم الدین میں ایک روایت نقل کی، جس کو امام ترمذی رح نے الفاظ کے معمولی فرق سے اپنی سنن میں ذکر کیا اور اس کی اسنادی حالت کے متعلق فرمایا کہ اسنادہ حسن، (یعنی یہ روایت مستند ہے) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا من فتح علی نفسه بابا من السؤال فتح الله علیه سبعين بابا من الفقر (إحیاء علوم الدین) جو شخص اپنی ذات پر گداگری کا ایک دروازہ کھولتا ہے خداوند متعال اس پر فقر کے ستّر دروازے کھول دیتا ہے، اور تجربہ بھی اس کا شاہد ہے کہ بلاعُذرِ شدید دستِ درازی کرنے والے گداگری کے بھنور میں پھنستے چلے جاتے ہیں، بزرگوں کی کتابوں میں سیکڑوں اس طرح کے واقعات ثبت ہے، کہ ابتداء میں بطورِ حاجت و ضرورت یا مجبوری میں گداگری سے وابستگی اختیار اور پھر بطورِ پیشہ اس مشغلے میں ترقی کرتے رہے، اور وہ عار، حجاب اور شرم و حیاء بھی ختم ہوگئی جو ایک انسان کا زیورِ حیات ہوتی ہے اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں دیگر اہم امور پر صحابہ کرام سے بیعت لی وہی اس بات پر بھی بیعت لی کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں یعنی لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کریں، صحابہ کرام نے پوری زندگی اس پر عمل کیا بعض روایات میں آتا ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ سے کوڑا گِر جاتا تھا تو گھوڑے سے اُتر کر اس کو اُٹھاتے مگر کسی کو اُٹھانے کے لیے سوال نہیں کرتے گویا پوری زندگی اس پر عمل پیرا رہے، اس لیے شریعتِ مطہرہ نے بھیک مانگنے سے منع کیا سیکڑوں احادیث اس بابت وارد ہوئی ہے کہ بطورِ پیشہ گداگری کو اختیار کرنے والے آخرت میں مختلف قسم کے عذابات میں مبتلا ہوگے اس لیے شریعت نے بیکارگی اور گداگری کے مقابلہ میں کسبِ معاش کو اختیار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بیکاری پسند نہیں، میں اس شخص پر حیرت زدہ ہو جو نہ دنیا کے کام میں مصروف ہیں اور نہ دین کے کام میں، (إحیاء علوم) ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کو محبوب رکھتا ہے جو لوگوں سے بے نیاز ہونے کے لیے کوئی پیشہ اختیار کریں، (إحیاء علوم) اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ کوئی شخص رسّی لیکر اپنی پست پر لکڑیاں لائیں یہ عمل اس شخص کے لیے اس سے بہتر ہے کہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالی نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہو اس کے سامنے دستِ طلب دراز کرے وہ اس کو دے یا منع کردے، (بخاری و مسلم) اس روایت میں بھی کسبِ معاش اختیار کرنے کی فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی اور بلا وجہ دستِ سوال کو ناپسند کیا گیا، موجودہ زمانے میں چوک، چوراہے، گلی، محلے، مسجد، ہوٹل، تفریحی مقامات اور سواریاں اور گاڑیوں کی آمد و رفت کی جگہوں پر گداگروں کا ایک غول نظر آتا ہے جو مختلف قسم کی صداؤں کے ذریعے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک پیسہ نہیں ملتا، ہٹتے نہیں، پیچھا نہیں چھوڑتے، اس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں مرد بھی عورتیں بھی نوجوان لڑکیاں بھی چھوٹے بجے بھی بلکہ نوجوان لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اکثر عورتیں برقعہ میں ملبوس ہوکر بھیک مانگتی ہے، حالانکہ بیشتر عورتیں برقعہ میں ملبوس غیر مسلم ہوتی ہے جو بھیک کے لیے برقعہ پہن لیتی ہے، اس سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں میں ایک غلط میسیج جاتا ہے، خود دارالعلوم محمدیہ کے گیٹ پر روزانہ ایک دو عورتیں برقعہ میں ملبوس ہوکر بھیک مانگتی اگر یہ واقعی ضرورتمند ہے تو کوئی ذریعۂ معاش اختیار کرنا چاہیے، یا اہلِ خیر حضرات ضرورت مند اور بے سہارا خواتین و افراد کا مستقبل آمدنی کا کوئی انتظام کردینا چاہیے تاکہ اس طرح سے مسلمانوں کی شبیہ خراب نہ ہو، اور اسلام نے کسی بھی صورت میں گداگری اور بھیک مانگنے کو پسند نہیں کیا، اس لیے مسلمانوں کو بھی ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ان کو بھیک نہیں دینی چاہیے تاکہ وہ اس پیشہ سے تہی دست ہوکر جائز ذریعۂ معاش کو اختیار کریں، خواتین اور بچوں کو بھی بھیک نہیں دینی چاہیے کیونکہ ان میں بیشتر ضرورت اور حاجت کے لیے نہیں بلکہ بطورِ پیشہ بھیک مانگتے ہیں،
منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مالدہ شیوار مالیگاؤں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے