कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ بنا کربلا، مسلمان بنے کوفی، امت کی بے حسی آج بھی برقرار !

تحریر:احساس نایاب ۔شیموگہ

ہر دور کی تاریخ ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے
مسلمانوں کے دشمن ہمیشہ باہر سے نہیں آتے، اکثر وہ اپنی ہی آستینوں میں پلتے ہیں۔
کربلا سے آغاز کریں تو ہمیں وہ منظر یاد آتا ہے جب نواسۂ رسول ﷺ کو اپنی ہی امت کے لوگ دشمن کے سامنے تنہا چھوڑ گئے۔
ظلم کرنے والے بھی مسلمان تھے اور خاموش رہنے والے بھی۔
حق کے علمبردار کربلا میں پیاسے شہید ہوئے اور امت خاموش رہی، ننھے اصغر کی شہادت اور معصوم سکینہ پر ڈھائے گئے ظلم پر بھی مسلمانوں کا خون نہیں کھولا ، یہ خاموشی، یہ بےحسی آج تک امت کے زخموں پر نمک چھڑکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
پھر محمد بن قاسم کی داستان دیکھیے، وہ سترہ سالہ نوجوان فاتح جس نے سندھ میں انصاف اور عدل کی بنیاد رکھی، لیکن دربار دمشق کی سازشوں اور حسد نے اسے زنجیروں میں جکڑ کر شہید کر دیا۔
ایک ایسا ہیرو، جس نے امت کو دنیا کے آگے فخر شان و شوکت دی، مگر بدلے میں کیا ملا ؟
اپنے ہی مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں رسوا کر دیا گیا۔
اسی طرح تاریخ کے ہر موڑ پر بہادر رہنما سامنے آئے
صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے مقابلے میں بیت المقدس کو آزاد کرایا،
مگر انہوںنے بھی اپنی زندگی میں دیکھ لیا کہ مسلم دنیا دوبارہ فرقوں اور اقتدار کی لڑائیوں میں بٹ گئی۔
جلال الدین خوارزم شاہ نے چنگیز خان جیسے طوفان کو روکا، لیکن وقت آنے پر اپنے ہی ہمسایہ مسلم بادشاہوں کے دروازے ان پر بند ملے۔
یپو سلطان نے انگریزوں کے مقابلے میں اپنی جان قربان کی، مگر وہ اپنے ہی کچھ مسلم اور ہندو سرداروں کی غداری کا شکار ہوئے ۔۔۔۔
اور آج؟
جی ہاں آج غزہ جل رہا ہے۔ غزہ مین بھوک اور پیاس کا تانڈؤ جاری ہے، فلسطینی بچے، عورتیں، بزرگ خاک و خون میں نہا رہے ہیں۔
اسرائیل کھلے عام جارحیت کر رہا ہے اور مسلم حکمران ہمیشہ کی طرح بزدل و بےحس تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
کسی کے ایئرپورٹ پر روشنیوں کا شو چل رہا ہے، کوئی اربوں ڈالر کے بزنس معاہدے کر رہا ہے، تو کوئی محض تشویش و مذمتی بیان دے کر سو رہا ہے ۔۔۔۔۔
یہاں سب کو اپنا اپنا مفاد پیارا ہے ، اپنی اپنی ایکنامی سے مطلب ہے ، معصوم مسلمانوں کی نسل کشی سے کسی کو فرق نہیں پڑرہا ۔ اُمت ایک جسم ہوکر بھی آج ایک دوسرے کے درد بالخصوس فلسطین و غزہ کے درد سے بےحس ہوچکی ہے ۔۔۔۔۔۔
اے مسلمانوں سنو !
تاریخ چیخ چیخ کر ہمیں بتا رہی ہے
جب ہم نے حسین رضی اللہ عنہ کو تنہا چھوڑا،
جب ہم نے محمد بن قاسم کو زنجیروں میں مرنے دیا،
جب ہم نے ٹیپو سلطان کو غداروں کے سپرد کیا —
تبھی آج کے غزہ میں بچے مر رہے ہیں۔ اور یہی منافقت اور بے حسی امت کو صدیوں سے کمزور کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
اے امت کے نوجوانوں سنو
اے اسلام کے شہسواروں سنو
اے اسلام کی پردہ نشیں شہزادیوں آپ تو سن لو
فلسطین ہمیں پکار رہا ہے، غزہ ہمیں بلارہا ہے، کربلا کا قرض آج بھی ہم پر باقی ہے ، شہیدوں کی روحیں ہمیں پکار رہی ہے ، اقصی اب ہماری ذمہ داری ہے ،
وقت آ گیا ہے کہ اب غفلت سے جاگ جائیِں، اور صرف رونا اور ماتم کرنا چھوڑیں اور خود کو بدلیں۔
ورنہ آنے والی نسلیں بھی ہمیں اسی طرح یاد کریں گی جیسے آج ہم یزید، ضحاک بن قیس اور میر جعفر کو یاد کرتے ہیں، بزدل ، منافق، غدار اور بے حس ۔۔۔۔۔۔
اے میرے پاک پروردگار، اے محبوب رب العالمین ﷺ!
ہم کمزور ہیں، ہم بےبس، بےسہارا ہیں، ہم ناتواں ہیں،
مگر تیرے دین کا درد اور غزہ کے مظلوموں کا درد ہم اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں۔
اے اللہ! جو جذبہ اور غیرت ہماری رگوں میں ابھی زندہ ہے وہ تیرا کرم ہے،
ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی ذمہ داری ادا کریں
یا اللہ، یا میرے مالک ، یا میرے پروردگار روزِ محشر ہمیں بزدل، دنیا پرست اور منافق کہہ کر ذلیل و خوار نہ کرنا۔
ہمیں اور ہماری نسلوں کو بزدلی اور ذلت بھرے خاتمے سے بچا لے۔
ہمیں وہ حوصلہ دے کہ ہم اپنے دین کے خاطر جئیں اور اپنے دین کے خاطر مریں،
ہماری نسلوں کو بھی دین کا شہسوار بنا دے،
اور ہمیں حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کے ساتھ،
محمد ﷺ کے جھنڈے تلے، کامیاب اور سرخرو کر دے ۔۔۔۔۔
لبیک یا غزہ
لبیک یا فلسطین
لبیک یا اقصیٰ
لبیک یا حسین
لبیک یا عثمان
لبیک یا شہداء

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے