कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وسعتیں، خاموشیاں، گہرائیاں :مولانا امین عثمانی ندوی

(یومِ وفات : 2 ستمبر 2020ء)

تحریر: سید سعادت اللّہ حسینی
(امیرِ جماعتِ اسلامی ہند)

مولانا امین عثمانی ندوی صاحب کی رحلت سے ہم نے امت کا ایک اور قیمتی اثاثہ کھو دیا۔ نہایت خاموشی، سنجیدگی اور استقلال کے ساتھ دین، علومِ دینیہ اور اسلامی تحریک کی جو گراں قدر خدمات انھوں نے انجام دی ہیں، بلاشبہ اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ فقہ اکیڈمی کی تاسیس اور استحکام میں تو ان کا کلیدی رول رہا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی احیائے دین سے متعلق بہت سے منصوبے تھے جن سے وہ وابستہ رہے۔ جدید مسائل پر اجتہادی اسپرٹ کے ساتھ غور کرنا اور ان کے حل تلاش کرنا، دنیا بھر کے اصحابِ علم و فضل سے مستقل ربط اور ان سے مشاورت و استفادہ، نوجوان اہلِ علم کی سرپرستی، تحقیق و تصنیف اور ترجمہ و تالیف کے نت نئے میدان ڈھونڈھنا اور ان میں ٹھوس کاموں کی تحریک و سرپرستی، یہ اور اس جیسے بے شمار کام اُن کی شناخت اور پہچان بن چکے تھے۔ کس موضوع پر دنیا کے کس صاحبِ علم سے مدد مل سکتی ہے؟ یہ سوال جب بھی پیدا ہوتا اس کے لیے آسان پتہ امین عثمانی صاحب مرحوم ہی کا تھا۔ آپ عالمِ اسلام کی تمام اہم ترین شخصیتوں سے واقف و متعارف تھے۔ کس نے کیا کتابیں لکھی ہیں؟ کون کس موضوع کا ماہر ہے؟ اور کس کے تازہ ترین احوال کیا ہیں؟ ان سب معلومات کے لیے انھیں کبھی ڈائری دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں پیش آتی۔ پھر یہ تعارف یک طرفہ نہیں تھا۔ ہر اہم آدمی امین صاحب مرحوم کا قدر دان ہوتا۔ عالمِ اسلام کے کسی بھی کونے میں مشکل سے مشکل شخصیت کو رام کرنے کے لیے ان کا ایک ای-میل کافی ہوتا۔ عالمی کانفرنسوں میں شرکت ہوتی تو ہندوستان کا ذکر آتے ہی لوگ امین عثمانی صاحب کا نام لیتے اور ان کے بارے میں دریافت کرتے۔
تحریکی نوجوانوں سے انھیں بڑی محبت تھی اور نوجوانوں میں تحریکی کام سے بڑی دل چسپی۔ وہ خود بھی طالب علمی کے زمانے میں تعلیمی اداروں میں تحریکی سرگرمی کا وسیع تجربہ رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ آج بھی تحریکی نوجوان تعلیمی اداروں پر ٹھوس اثر ڈالیں۔ نوجوانوں کے لیے انھوں نے تعلیمی اداروں میں کام سے متعلق رہنمائی کرنے والی ایک گراں قدر کتاب ‘طلبائی جہدوجہد : کیمپس میں کام سے متعلق عملی رہنمائی’ تحریر فرمائی جو ایس آئی او کے اشاعتی ادارے سے شائع ہوئی۔ یہ ایک انوکھی بات تھی کہ ایک بزرگ صاحبِ علم نے نوجوانوں کی تحریکی جدوجہد کے عملی مسائل کو اپنی تصنیفی کاوش کا موضوع بنایا تھا۔ اس سے نوجوانوں میں اس کام سے اُن کی دل چسپی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کتاب کا مقدمہ لکھنے کی سعادت میرے حصے میں آئی۔
وقفے وقفے سے ان کے گراں قدر خطوط ملتے جن میں انتہائی مفید مشورے ہوتے۔ زیادہ تر مشورے علمی کاموں سے متعلق ہوتے۔ لیکن کبھی ملک کے حالات اور تحریک کے دیگر کاموں کے حوالوں سے بھی قیمتی تجاویز سے نوازتے رہتے۔ کبھی مسجدِ اشاعتِ اسلام میں مختصر ملاقات ہوجاتی۔
نئی میقات میں اُن سے شریعہ کونسل جماعتِ اسلامی ہند کی رکنیت قبول کرنے کی درخواست کی گئی تھی جسے انھوں نے نہ صرف قبول کیا بلکہ بہت سرگرمی کے ساتھ کونسل کے کاموں میں حصہ لے رہے تھے اور امید تھی کہ ان کے علم و فضل سے بہت فائدہ حاصل ہوگا۔ لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے۔ اُن کی خاموش مخلصانہ مساعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور تحریکِ اسلامی اور امتِ مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین!
(ستمبر 2020)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے