कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سکوت و وقار کی تصویر: صادق احمد صدیقی

از قلم: شیخ اعجاز
( مدرس مدینۃ العلوم ہائی اسکول ناندیڑ)

مدینۃ العلوم جونیئر کالج، ناندیڑ کے وائس پرنسپل جناب صادق احمد صدیقی مورخہ 31 اگست 2025 کو اپنی 32 سالہ تدریسی و عملی زندگی مکمل کر کے ریٹائرمنٹ کی منزل کو پہنچ چکے ہیں۔ یہ لمحہ ہمارے لیے نہایت جذباتی ہے، کیونکہ ایک بااخلاق، مخلص اور غیر معمولی ساتھی کی رخصتی محض ایک رسمی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا خلا ہے جس کا پُر ہونا آسان نہیں۔ زندگی کی راہوں میں بعض شخصیات ایسی بھی ملتی ہیں جو اپنی سادگی، خلوص اور خاموش خدمت سے دلوں پر ان مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں، اور جناب صدیقی انہی نادر روزگار ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ علمی سطح پر فزکس جیسے دقیق مضمون پر گہری دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار کے میدان میں بھی روشنی کا مینار ہیں۔ ان کی طبیعت کی سادگی اور معاملہ فہمی نے انہیں ہر حال میں ایک خاموش مگر نمایاں موجودگی بنا دیا۔ ایسے لوگ اپنی ذات کو نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، کیونکہ عزت اور وقار خود بخود ان کے گرد سایہ فگن رہتے ہیں۔
ادارے میں میری تقرری (1999) کے بعد ہی سے صادق صاحب کا ساتھ نصیب ہوا اور یہ رفاقت ہمیشہ خوشگوار یادوں کا حصہ رہے گی۔ صادق صاحب فطری طور پر نرم دل اور عافیت پسند انسان ہیں۔ وہ غیر ضروری میل جول سے گریز کرتے رہے، کیونکہ ان کے نزدیک "زیادہ افراد، زیادہ مسئلے”۔ یہ رویہ کمزوری نہیں بلکہ ایک باشعور احتیاط تھی؛ وہ جانتے تھے کہ اجتماعیت اپنی جگہ فائدہ مند ہے، مگر اس کے ساتھ بعض مسائل بھی جڑے ہوتے ہیں جن سے وہ خود کو دور رکھنا چاہتے تھے۔ اس کے باوجود، جب بھی ادارے میں کوئی اجتماعی کام انجام پاتا تو انہوں نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، بلکہ اپنی خاموش تائید سے حوصلہ افزائی کرتے۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے خودنمائی یا تکبر کو کبھی قریب نہ آنے دیا۔ وہ خاموشی سے انفرادی سطح پر دوسروں کی مدد کرتے اور ہر ایک کے ساتھ اخلاق و شرافت کے ساتھ پیش آتے۔ ان کی نگاہ ہمیشہ وسیع تر تناظر میں معاشرتی پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔
مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے پہلی بار ان کی موٹر سائیکل اسکول کے میدان میں کھڑی دیکھی۔ ہینڈل پر انگریزی میں لکھا تھا: Be Positive۔ یہ الفاظ محض ایک نعرہ نہیں تھے بلکہ ان کی شخصیت کا آئینہ دار تھے۔ وہ ہمیشہ اسی مثبت سوچ کے ساتھ لوگوں سے معاملات کرتے رہے۔
جناب صادق صاحب نے اپنے کیریئر کا آغاز ادارے میں ایم سی وی سی ڈپارٹمنٹ سے کیا اور دو سال تک وہاں اپنی خدمات پیش کیں۔ بعد ازاں جونیئر کالج میں بہ حیثیت لیکچرار فزکس مقرر ہوئے اور لمبے عرصے تک (32 سال) طلبہ کو علم و بصیرت سے منور کرتے رہے۔ ان کی تدریس کا اسلوب سادہ مگر دل نشین تھا۔ وہ اکثر اپنی بات کو وضاحت اور مثالوں کے ساتھ پیش کرتے تاکہ طلبہ کے ذہنوں میں بات راسخ ہو جائے۔
ابتدا سے ہی ان کا رجحان دینی مزاج کی طرف رہا۔ اسی لیے ان کی گفتگو میں وعظ و نصیحت کا پہلو نمایاں دکھائی دیتا۔ وہ روزمرہ کی باتوں کو بھی دین کی روشنی میں ڈھالتے اور دوسروں کو درست رخ دکھانے کی کوشش کرتے۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ جب حالات ناسازگار ہوتے تو وہ خود کو تنہائی میں الگ کر لیتے۔ یہ ان کی کمزوری نہیں بلکہ ایک اخلاقی احتیاط تھی؛ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ظلم یا ناانصافی کے جواب میں ان کے قلم یا زبان سے کوئی ایسی بات نکلے جو دوسروں کے لیے نقصان دہ ہو۔
میں اور میرے ساتھی محمد عبدالعلیم اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کا دل نہایت نرم، شفاف اور عافیت پسند تھا۔ تاہم ان کی شخصیت کا ایک پہلو ہمیں ہمیشہ چونکاتا رہا—کبھی کبھار وہ یوں اوجھل ہوجاتے کہ جیسے کسی اور ہی جہان میں کھو گئے ہوں۔ نہ ہم اس فاصلے کو ماپ پاتے اور نہ ہی اس کی وجہ سمجھ آتی؛ گویا وہ لمحے ان کے اپنے اندرونی مکالمے اور خاموش دنیا کے لیے مخصوص ہوتے۔
ایک دلچسپ یاد یہ بھی ہے کہ ہم تینوں نے ایک ساتھ کمپیوٹر ہارڈویئر سیکھنے کا سفر شروع کیا تھا۔ صادق صاحب چونکہ الیکٹرانکس کی ابجد سے بخوبی واقف تھے، اس لیے ہارڈویئر کی تکنیکی اصطلاحات اور اس کی باریکیوں کو ہم دونوں سے کہیں بہتر سمجھتے تھے۔ میرا رجحان زیادہ تر سافٹ ویئر کے استعمال اور اس سے استفادے کی طرف رہا، اس لیے میں نے اپنی دلچسپیاں وہیں تک محدود رکھیں۔ لیکن صادق صاحب نے کمپیوٹر کے رویّے اور اس کے تکنیکی عمل کو گہرائی سے پڑھا اور سمجھا، جس کا فائدہ انہیں عملی زندگی میں بارہا ہوا۔ اس موقع پر اکثر ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ ہارڈویئر کی دنیا میں ہم سے ایک قدم آگے چل رہے ہیں۔
انسان کی اصل ذمہ داری سب سے پہلے اس کے اپنے گھر اور اپنے پریوار کے تئیں ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے گھر والوں کے دکھ سکھ، ضرورتوں اور خوشیوں کو نظرانداز کرکے دوسروں کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے، وہ دراصل جھوٹی شان میں مبتلا ہوتا ہے۔ خاندان ہی وہ پہلا دائرہ ہے جہاں انسان کی سچائی، محبت اور خدمت کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر کوئی اس دائرے میں ناکام ہو جائے تو پھر اس کی باہر کی ساری قربانیاں محض دکھاوا اور خودفریبی رہ جاتی ہیں۔ صادق احمد صدیقی کی ایک نمایاں خوبی یہ رہی کہ انہوں نے اپنے پریوار کو وقت دیا اور اپنے اصل فریضے کو نبھایا۔ یہی رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ محض اچھے استاد ہی نہیں بلکہ ایک سچے انسان اور ذمہ دار فرد بھی ہیں۔
صادق احمد صدیقی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ سماجی رویّوں پر اکثر دل گرفتہ رہتے۔ انہیں بہت سی ناہمواریاں کھٹکتی تھیں، مگر اپنی فطری نرم مزاجی اور احتیاط پسندی کے باعث وہ ان کے خلاف عملاً کوئی بڑا قدم نہ اٹھا پاتے۔ یہی بےبسی ان کے دل میں ایک مسلسل کرب کو جنم دیتی ۔بعض اوقات کوئی نہایت معمولی بات ان کے ذہن میں اس طرح اٹک جاتی جیسے وہی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہو، اور وہ دیوار ان کے سامنے ایسی کھڑی ہو جائے جس کا گرنا ناممکن ہو۔ دراصل یہ ان کی حساس طبیعت کی علامت تھی؛ وہ چھوٹی چیزوں کو محض چھوٹی چیزیں سمجھنے کے بجائے، ان کے پس منظر اور اثرات کو بڑے تناظر میں دیکھتے۔ اس گہرے شعور نے ان کی فکر کو بوجھل بھی کیا، مگر یہی بوجھل پن ان کی سنجیدگی، اخلاص اور دنیا کو بہتر دیکھنے کی تڑپ کا آئینہ بھی تھا۔
چونکہ صادق صاحب بنیادی طور پر فزکس کے استاد ہیں، اس لئے ان کی شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں فزکس کے کچھ بنیادی اصول یاد آتے ہیں۔ مثلاً: نیوٹن کا تیسرا قانون کہتا ہے: “ہر عمل کا برابر اور مخالف ردعمل ہوتا ہے”۔ مگر صادق صاحب کی زندگی اس اصول کا ایک مختلف پہلو دکھاتی ہے۔ وہ دوسروں کے منفی عمل کے جواب میں ردعمل دینے کے بجائے خاموشی اور برداشت کا راستہ اپناتے۔ گویا وہ فزکس کے فارمولے کو اخلاقیات کی دنیا میں "Positive Modification” کے ساتھ برتتے تھے۔
جب سے صادق احمد صدیقی لیکچرر کے بعد وائس پرنسپل کے منصب پر فائز ہوئے، ان کی ذمہ داریاں کہیں زیادہ بڑھ گئیں۔ ذمہ داریوں کے اس بوجھ نے جہاں ان کی انتظامی صلاحیتوں کو نکھارا، وہیں ساتھیوں کے ساتھ اختلافات کے امکانات بھی زیادہ نمایاں ہونے لگے۔ بسا اوقات یہ اختلافات ان کی حساس اور نرم دل طبیعت کے لیے بھاری بھی ثابت ہوئے، مگر ان سب کے باوجود وہ اصولوں پر قائم رہے اور اپنی ذمہ داریوں کو حتی المقدور دیانت داری کے ساتھ نبھاتے رہے۔
میں نے صادق احمد صدیقی صاحب کے ساتھ کئی سفر کیے ہیں۔ یہ سفر عام لوگوں کی طرح ہنسی مذاق یا روایتی انجوائے منٹ سے عبارت نہیں تھے بلکہ زیادہ تر فکری مکالمے کا رنگ رکھتے تھے۔ ہم دونوں کے درمیان اکثر اوقات اختلافِ رائے رہتا؛ وہ اپنے موقف پر پوری شدت سے ڈٹے رہتے اور میں اپنی دلیل پر قائم رہتا۔ کبھی ایسا ہوتا کہ وہ میری بات مان لیتے، لیکن جلد ہی کوئی ایسا جملہ کہہ دیتے جس سے یوں محسوس ہوتا کہ انڈا ابھی کچا ہی ہے۔ یہ کیفیت کبھی بوجھل نہیں لگتی تھی بلکہ ان کی شخصیت کی اس علمی ضد اور استقامت کا اظہار تھی جس نے ان کے شاگردوں کو بھی سوچنے اور سوال اٹھانے پر مجبور کیا۔ ان مکالموں نے سفر کو محض راستہ طے کرنے کے بجائے ایک فکری ریاضت میں بدل دیا تھا۔
یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ جب صادق احمد صدیقی صاحب اپنی 32 سالہ عملی و تدریسی زندگی کو اختتام پذیر کر کے ریٹائرمنٹ کی منزل پر پہنچے، تو اس موقع پر وہ اپنے ساتھیوں سے رخصتی کے لمحے نہیں ملے۔ بظاہر یہ رویہ حیران کن ہے، مگر ان کی نفسیات کو جاننے والے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ان کے مزاج اور شخصیت کے عین مطابق تھا۔ وہ ہمیشہ سے اجتماعیت میں کتراتے رہے، زیادہ میل جول کو مسائل کی جڑ سمجھتے تھے اور تنہائی کو اپنے لیے سکون کا وسیلہ بناتے تھے۔ شاید انہیں یہ اندیشہ رہا ہو کہ ملاقات کے جذباتی لمحات ان کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوں گے، یا یہ کہ رخصتی کے موقع پر وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو الوداعی تکلفات کی بجائے اپنی خاموش یادوں اور مخلص رویّوں کے ساتھ چھوڑنا چاہتے ہوں۔
یوں لگتا ہے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کو کسی تقریب یا شور و شغب کے بجائے ایک خاموش باب کے اختتام کی مانند دیکھنا چاہتے تھے—ایسا اختتام جس میں شور نہیں بلکہ سکوت ہو، دکھاوے نہیں بلکہ وقار ہو۔ اور یہی سکوت و وقار ان کی پوری زندگی کا نچوڑ رہا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے