कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تحفظ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر:قاری عبدالرقیب رحمانی
مدرسہ دارالملت، اورائی، مظفرپور
رابطہ : 7970461032

عقید ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا، نہ کوئی نیا شریعت لانے والا اور نہ ہی کوئی نبی۔ یہ عقیدہ قرآن مجید، احادیث نبویہ اور امت کے اجماع سے ثابت ہے۔ تحفظ ختم نبوت کا مطلب اس عقیدے کی حفاظت کرنا، اسے پھیلانا اور اس کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے، کیونکہ اس عقیدے کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ گزشتہ صدیوں میں اس عقیدے پر متعدد حملے ہوئے، جن میں مسیلمہ کذاب سے لے کر قادیانی فتنہ تک شامل ہیں اور مسلمانوں نے ہمیشہ اس کی حفاظت کے لیے قربانیاں دیں۔
قرآن مجید میں ختم نبوت کی تقریباً سو آیات صراحتاً یا اشارتاً موجود ہیں، جو اس عقیدے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ سب سے واضح آیت سور احزاب کی آیت 40 ہے:ترجمہ:محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے(الاحزاب: 40)۔
یہ آیت واضح طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیتی ہے، جس کا مطلب آخری نبی ہے۔ علماء کے مطابق، "خاتم” کا لفظ ختم کرنے والے کو کہا جاتا ہے، یعنی سلسل نبوت آپ پر مکمل ہو گیا۔
ایک اور اہم آیت سور مائدہ کی آیت 3 ہے:ترجمہ:آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا (المائدہ: 3)۔۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام مکمل ہو چکا ہے، اس لیے کسی نئے نبی یا شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ امام خازن اور ابن کثیر جیسی تفاسیر میں اسے ختم نبوت کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔
دیگر آیات جیسے سور اعراف آیت 158 ، ترجمہ: آپ کی رسالت کو تمام انسانوں کے لیے عام قرار دیتی ہیں، جو ختم نبوت کی تائید کرتی ہیں۔ سور انعام آیت 38 سے یہ واضح ہے کہ قرآن میں کوئی چیز نہیں چھوڑی گئی، اس لیے کوئی نیا پیغام یا نبی کی ضرورت نہیں۔
احادیث میں ختم نبوت کی دو سو سے زائد روایات موجود ہیں۔ ایک مشہور حدیث ہے:ترجمہ:میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔یہ حدیث سنن ترمذی اور دیگر کتب میں موجود ہے۔
ایک اور حدیث میں فرمایا:ترجمہ:رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا، میرے بعد نہ کوئی رسول نہ نبی۔یہ حدیث سنن ترمذی میں ہے اور اس سے واضح ہے کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:ترجمہ:میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے، ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ حدیث جھوٹے مدعیان نبوت کی پیشین گوئی بھی ہے۔
امت مسلمہ کا متفقہ اجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ امام غزالی، علامہ قسطلانی اور امام ابو حنیفہ جیسی شخصیات نے لکھا ہے کہ ختم نبوت کا منکر کافر ہے اور اس سے دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے۔تاریخی طور پر، عہد صدیقی میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں 1200 صحابہ شہید ہوئے، جن میں 700 حفاظ قرآن شامل تھے، صرف ختم نبوت کی حفاظت کے لیے۔
برطانوی دور میں قادیانی (احمدیہ) فتنہ اٹھا، جہاں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ احمدیہ جماعت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن "خاتم” کو بہترین کے معنی میں لیتے ہیں اور مرزا غلام احمد کو امتی نبی (ظلی یا بروزی) قرار دیتے ہیں، جو نئی شریعت نہیں لائے۔ تاہم، یہ تفسیر امت کے اجماع کے خلاف ہے اور قرآن و حدیث کی صریح نصوص سے متصادم ہے، اس لئے یہ قابل قبول نہیں۔
عقید ختم نبوت کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے اس عقیدے پر غیر متزلزل ایمان رکھنا، قرآن و حدیث سے اسے سمجھنا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں سے براء ت کرنا۔ دلائل سے اسے بیان کرنا، جھوٹے مدعیان نبوت کی مخالفت کرنا ہی ہماری اصل ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے۔ اس عقیدے کی حفاظت ملت اسلامیہ کی بقا ہے۔ خلاصہ یہ کہ عقید ختم نبوت اسلام کا کلیدی عقیدہ ہے، جس کی حفاظت اللہ کی طرف سے ہم پر فرض ہے۔ قرآن، حدیث اور تاریخ اس کی گواہی دیتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اسے دل و جان سے مان کر اس کی حفاظت کریں، تاکہ آخرت میں شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہو۔ اللہ ہمیں اس عقیدے پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔(واللہ اعلم باالصواب)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے