कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہندوستانی معاشرے میں جاہلانہ رسوم کے نام پر خواتین کا استحصال

تحریر: ابو خالد
فاضل دار العلوم دیوبند

اسلام وہ کامل اور ہمہ گیر دین ہے جو انسانیت کو عدل و انصاف کا پیغام دیتا ہے، اور عورت کو غلامی اور محکومیت کے اندھیروں سے نکال کر عزت و وقار کا بلند مقام عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید نے عورت کو مرد کے مساوی انسانی شرف بخشا، اس کی روحانی اور اخلاقی حیثیت کو تسلیم کیا اور اس کے معاشرتی، مالی اور خاندانی حقوق کی حفاظت کے لیے روشن اصول مقرر کیے۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنے قول و عمل سے واضح کر دیا کہ عورت ایک انسان ہے، اور اس کے حقوق کی پامالی اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔
اسلام کا اصل پیغام اور معاشرتی رویہ:
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دین اسلام نے عورت کو وہ سب حقوق دیے جن کی وہ دنیا کے کسی بھی دوسرے نظام میں متلاشی رہی۔ لیکن ہندوستانی معاشرہ، جو صدیوں سے ذات پات، رسم و رواج اور صنفی امتیاز کی بنیاد پر تشکیل پایا، مسلم طبقے کو بھی متاثر کیے بغیر نہ رہ سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہی مرد جو بظاہر دیندار اور شریعت کے پابند نظر آتے ہیں، خواتین کے معاملے میں غیر اسلامی اور جاہلانہ رویے اختیار کرتے ہیں۔
والدین کی تربیت کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ بیٹے کو طاقت اور اقتدار کا تصور دے کر پروان چڑھایا جاتا ہے، جب کہ بیٹی کو کمزور اور محتاج سمجھا جاتا ہے۔ لڑکا یہ سوچ لے کر جوان ہوتا ہے کہ وہ گھر کی ملکیت کا بلاشرکتِ غیرے مالک ہے، اور لڑکی یہ احساس لے کر پرورش پاتی ہے کہ وہ دوسروں کی جاگیر ہے، جہاں اس کی اپنی مرضی اور اختیار کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہی سوچ جب ازدواجی زندگی تک پہنچتی ہے تو مرد صرف اپنے حقوق کی وکالت کرنا جانتا ہے، لیکن عورت کے حقوق کا تصور اس کے ذہن سے محو ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ قرآن کی اس آیت کو تو یاد رکھتا ہے: "الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ” (النساء: 34)
مگر یہ بھول جاتا ہے کہ اس قوامیت کی بنیاد "بِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ” یعنی مالی ذمہ داری ہے، نہ کہ جبر و تسلط۔ وہ یہ تو جانتا ہے کہ "مرد عورت پر درجہ رکھتے ہیں” مگر یہ نہیں جانتا کہ اسی قرآن نے حکم دیا ہے: "وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ” (النساء: 19) — "بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ رہو”۔
اسی طرح وہ شوہروں کے فضائل والی احادیث ازبر رکھتا ہے، مگر رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان بھول جاتا ہے: "اتقوا الله في النساء” (اللہ سے ڈرو عورتوں کے بارے میں)۔
وہ نکاح کے موقع پر بڑے فخر سے کہتا ہے: "مجھے جہیز نہیں چاہیے” لیکن رخصتی کے بعد اس کا رویہ بدل جاتا ہے اور وہ چھپے تقاضے کرنے لگتا ہے۔ وہ "خیر متاع الدنیا المرأة الصالحة” (دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ نیک بیوی ہے) سن کر بھی اس حقیقت سے غافل رہتا ہے کہ نیک بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کی ضروریات پوری کرنا شوہر پر فرض ہے۔
ہندوستانی تہذیب کے اثرات:
ہندوستان کا معاشرہ صدیوں سے اس سوچ کا اسیر ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں کمتر ہے۔ اکثریتی طبقہ اسے نہ تعلیم دینے کا حامی ہے، نہ آزادی دینے کا۔ یہ دباؤ مسلم سماج پر بھی پڑا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ بعض دیندار گھرانوں میں بھی عورت محض ایک محکوم سمجھی جانے لگی۔ مذہب کے نام پر مرد اپنی خواہشات کا جواز ڈھونڈنے لگے۔
یہی وجہ ہے کہ جہیز جیسی لعنت اور وراثت میں خواتین کو حصہ نہ دینا جیسے جرائم ایسے لوگوں سے بھی سرزد ہو رہے ہیں جو ظاہری طور پر نماز روزے کے پابند ہیں۔ شادی کے موقع پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نہ جہیز چاہیے نہ رسمیں، مگر اندرونی طور پر وہ انہی مطالبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ بہنوں کا وراثتی حق مارنے کے لیے وہ قطع رحمی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کا کردار اس مثل کی واضح تفسیر ہے: "ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور”۔
تلخ نتائج اور معاشرتی بحران:
یہ دوغلا پن روزمرہ کی زندگی میں کئی سانحات کو جنم دیتا ہے: کبھی جہیز نہ ملنے پر لڑکی کا قتل کر دیا جاتا ہے۔
کبھی دیندار شوہر اپنی نیک بیوی پر بدچلنی کا الزام لگاتا ہے۔
کبھی لڑکی گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور ہو جاتی ہے کیونکہ اسے بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ "جہاں رخصت ہو کر جائے، وہیں سے جنازہ اٹھے”۔
کبھی کمزور ایمان والی لڑکی حالات سے تنگ آ کر خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھاتی ہے۔
یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ شریعت کے اصل مزاج کو چھوڑ دیا گیا ہے اور دین کا نام صرف دکھاوے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
وجوہات:
اس بگاڑ کی بڑی وجوہات یہ ہیں:
١. شریعت کا حقیقی اور مکمل علم نہ ہونا۔
٢. والدین کی تربیت میں غفلت اور عدم سنجیدگی۔
٣. بیٹے اور بیٹی کے درمیان امتیاز۔
٤. بااثر افراد کا معاشرتی جرائم پر خاموش رہنا۔
٥. جہیز اور جاہلانہ رسموں میں شریک افراد کا سماجی بائیکاٹ نہ ہونا۔
اصلاح کے طریقے:
ان مسائل کا حل یہ ہے کہ معاشرے میں دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ اس کے لیے:
علماء و خطبا منبر و محراب سے والدین کو اولاد کی دینی تربیت کی تاکید کریں اور اسلام کا بنیادی علم عام کریں۔
جہیز کے خلاف واضح آواز بلند کی جائے اور عورتوں کے وراثتی حقوق کو طاقتور انداز میں پیش کیا جائے۔
والدین اپنی تربیت میں بیٹے اور بیٹی دونوں کو حقوق و فرائض سے آگاہ کریں۔ بیٹے کو سکھائیں کہ اگر وہ قوام ہے تو بیوی کی ضروریات پوری کرنا اس پر فرض ہے۔
معاشرے کے بااثر افراد ایسے واقعات پر سخت اقدام کریں، مجرموں کو سزا دلوائیں اور منافقانہ کردار رکھنے والوں کو بے نقاب کریں۔
تعلیم یافتہ طبقہ پری میرج کونسلنگ اور ازدواجی ورکشاپس منعقد کرے، جہاں ضد، انا پرستی، شکوک و شبہات اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال جیسے مسائل پر کھل کر گفتگو ہو اور ان کے حل تجویز کیے جائیں۔
الغرض اسلام عورت کے ساتھ عدل اور حسن سلوک کا حکم دیتا ہے، لیکن دین کے نام پر خواتین کے حقوق پامال کرنا عین جاہلیت ہے۔ جب تک دل حبِ الٰہی اور خوفِ آخرت سے معمور نہ ہوں، اصلاح ممکن نہیں۔ ایسے دل ہی والدین کو ذمہ دار بناتے ہیں اور ایسی اولاد ہی آگے چل کر خاندان کی سربراہی اور ملت کی قیادت کر سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ملت کے بیٹوں کو شعور دے کہ وہ عورت کے حقوق پہچانیں، انصاف قائم کریں اور اپنے کردار سے ملت کے معمار بنیں۔
آمین یا رب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے