कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تقویٰ کی فضیلت

از قلم٠ محمد خواجہ پاشاہ حسامی خادم منبر ومحراب فاؤنڈیشن حیدرآباد

اسلام کی تعلیمات میں تقویٰ کو سب سے بلند مقام حاصل ہے۔ قرآن و حدیث میں جابجا تقویٰ کی اہمیت و فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ تقویٰ دراصل اس کیفیت کا نام ہے جس میں بندہ اپنے رب کے خوف اور محبت کے ساتھ ہر اس بات سے بچتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرے اور ہر اس عمل کو اختیار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنے۔
تقویٰ کی تعریف:
تقویٰ” کا مطلب ہے بچاؤ۔ یعنی اپنے آپ کو گناہوں، برائیوں اور اللہ کی نافرمانی سے بچانا، اور نیک اعمال کو اختیار کرنا۔ تقویٰ دل کی ایسی حالت ہے جو انسان کو ہر حال میں رب تعالیٰ کی یاد اور خوف میں رکھتی ہے۔
قرآن مجید میں تقویٰ کی فضیلت:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بشارتیں دی ہیں:
ہدایت:
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ” (البقرۃ: 2)
یہ قرآن متقیوں کے لیے سراپا ہدایت ہے۔
اللہ کی محبت:
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ” (التوبۃ: 4)
بلاشبہ اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔
کامیابی:
وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ” (البقرۃ: 189)
اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
مشکلات سے نجات:
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا” (الطلاق: 2)
جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔
احادیث مبارکہ میں تقویٰ کی فضیلت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنتَ”
(جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو)۔
ایک اور حدیث میں فرمایا:
اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو” (ترمذی)۔
صحابہ کرام کے واقعات اور تقویٰ :
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:
ایک مرتبہ غلام نے کھانا پیش کیا، بعد میں بتایا کہ یہ مال جاہلیت میں کہانت سے کمایا گیا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے فوراً کھایا ہوا لقمہ الٹ دیا اور فرمایا:
میں نہیں چاہتا کہ میرے جسم میں حرام کا ایک لقمہ بھی جائے۔”
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ:
آپ کے دور میں بیت المال سے شہد آیا۔ بیٹے نے تھوڑا سا مانگا تو فرمایا:
یہ شہد عوام کا ہے، اگر اپنے بیٹے کو دے دوں تو یہ خیانت ہوگی۔”
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ:
آپ اکثر قبرستان جا کر اتنا روتے کہ داڑھی مبارک تر ہوجاتی۔ فرماتے:
قبر آخرت کا پہلا مرحلہ ہے، اگر یہ آسان ہوا تو سب آسان، ورنہ سب مشکل۔”
حضرت علی رضی اللہ عنہ:
جنگ کے دوران ایک دشمن پر قابو پا لیا۔ اس نے آپ پر تھوک دیا۔ آپ نے فوراً تلوار روک لی اور فرمایا:
اب اگر میں اسے قتل کرتا تو اس میں میری ذاتی نفرت شامل ہوجاتی، اور میں چاہتا ہوں کہ میرا ہر عمل صرف اللہ کے لیے ہو۔”
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ:
ایک چرواہے سے کہا: "مجھے ایک بکری بیچ دو۔”
چرواہے نے کہا: "یہ میری نہیں، مالک کی ہے۔”
ابن عمرؓ نے کہا: "کہہ دینا کہ بھیڑ مر گئی۔”
چرواہے نے جواب دیا: "پھر اللہ کو کیا جواب دوں گا؟”
یہ سن کر حضرت ابن عمرؓ رو پڑے اور غلام کو آزاد کردیا۔
تقویٰ کے بے شمار فوائد چند درج ذیل بیان کئے جارہے ہیں :
1. دل کو سکون اور روح کو پاکیزگی ملتی ہے۔
2. انسان گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔
3. دعا کی قبولیت میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
4. آخرت میں کامیابی اور جنت کی ضمانت ہے۔
تقویٰ وہ عظیم صفت ہے جو مومن کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرتی ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر اللہ کے نزدیک انسان کی عزت و مقام کا فیصلہ ہوتا ہے، نہ کہ مال و دولت اور نسب پر۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں تقویٰ کو اختیار کرے، تاکہ دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی روشن ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے