कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مصنوعی ذہانت (AI):نوجوان نسل پر اثرات اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر: شبانہ رضوان عرب
انچارج پرنسپل (ریسرچ اسکالر)
اردو ثانوی و اعلیٰ ثانوی مدرسہ، بوپوڑی، پونے ۴۱۱۰۲۰

آج کی دنیا میں کوئی چیز اتنی تیزی سے ہماری زندگی کا حصہ نہیں بن رہی جتنی کہ مصنوعی ذہانت (AI)۔ یہ اب صرف فلموں اور سائنس فکشن کی کہانیوں تک محدود نہیں، بلکہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو ہمارے سامنے کئی اہم سوالات کھڑی کرتی ہے: کیا AI آنے والے کل کے بچوں کی ذہانت اور صلاحیتوں پر مثبت اثرات مرتب کرے گی یا ان کے لیے نئی مشکلات پیدا کرے گی۔
جہاں مصنوعی ذہانت کے کئی فوائد ہیں، وہیں ہمیں کئی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ AI بچوں کے لیے ایک شاندار معاون ثابت ہو سکتی ہے، ایک ایسا استاد جو ہر بچے کی رفتار اور سمجھ کے مطابق اسے سکھا سکتا ہے۔ اس کی مدد سے ذاتی نوعیت کی تعلیم (Personalized Learning) ممکن ہو چکی ہے، جو ہر بچے کی انفرادی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ AI سے چلنے والے گیمز اور ایپس بچوں میں منطقی استدلال اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کو بھی AI نے ایک نئی سمت دی ہے؛ بچے اب AI ٹولز کی مدد سے کہانیاں، نظمیں اور تصاویر بنا کر اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔
لیکن اس کا دوسرا رخ بھی ہے جو ہمیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر بچے ہر چھوٹے بڑے سوال کے لیے AI پر انحصار کرنے لگیں گے تو ان میں خود سے سوچنے اور تحقیق کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔ ان کی تجسس اور تخلیقی سوچ پر بھی اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ وہ صرف AI کی بنائی ہوئی چیزوں کی نقل کرنا سیکھیں گے۔ اس کے علاوہ، AI کا زیادہ استعمال بچوں کو معاشرتی طور پر الگ تھلگ کر سکتا ہے۔ جب وہ سارا وقت اسکرین کے سامنے گزاریں گے تو دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور سماجی مہارتیں سیکھنے میں پیچھے رہ جائیں گے۔
اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ AI کا استعمال فائدہ مند بھی ہے اور نقصان دہ بھی، اس پر مناسب حدیں اور قوانین لگانا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ AI کو انسانی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس کی جگہ لینے کے لیے نہیں۔ بچوں کے ڈیٹا اور معلومات کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے؛ کوئی بھی AI ایپ بچوں کی ذاتی معلومات ان کی یا والدین کی اجازت کے بغیر جمع نہ کرے۔ اساتذہ اور والدین کا کردار آج پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہیں AI کے استعمال پر نظر رکھنی ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بچے ٹیکنالوجی کا مثبت اور تعمیری استعمال کریں۔ ہمیں بچوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی سے باہر بھی ایک دنیا ہے اور انہیں کھیلوں، سرگرمیوں اور سماجی میل جول میں حصہ لینے کا وقت اور موقع دینا چاہیے۔
یہ خوش آئند ہے کہ ہماری قومی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) نے اس حقیقت کو سمجھا ہے۔ اس پالیسی کے تحت، حکومت نے AI کو باقاعدہ طور پر نصاب کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمارے بچے صرف AI کے بارے میں سنیں گے نہیں، بلکہ اسے باقاعدہ پڑھیں گے اور استعمال کرنا سیکھیں گے۔ اس طرح انہیں اس جدید دنیا کے لیے تیار کیا جائے گا جہاں ٹیکنالوجی ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔
آج ہمارے سامنے ایک نئی دنیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے بے شمار فوائد بھی ہیں اور اس کے خطرات بھی موجود ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو AI کے صحیح استعمال کا طریقہ سکھائیں۔ اگر ہم اس ٹیکنالوجی کو صرف ایک آلے کے طور پر استعمال کریں اور انسانیت کے اصولوں کو فراموش نہ کریں، تو یہ یقیناً ہماری آنے والی نسلوں کی ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور مجموعی نشوونما کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے۔ یہ تبدیلی کا وقت ہے، اور ہمیں اسے حکمت اور بصیرت کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے