कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا ہم آزاد ہیں ؟

(یوم آزادی کے موقع پر آزادی کے حقیقی معنی اور اس کی اہمیت)

از قلم… شیخ تسنیم کوثر عبدالمنان
(معلمہ.. غیبن شاہ نگر میونسپل اردو اسکول نمبر 1، کرلا. ممبئی)

آج کا دن ہم سب کے لیے ایک نعمت، ایک فخر، اور ایک عہد کا دن ہے۔ 15 اگست صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ ہماری قوم کی قربانیوں، بہادری اور عزم کی پہچان ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ آزادی ہمیں آسانی سے نہیں ملی۔ صدیوں کی غلامی، ظلم و جبر، اور قربانیوں کے بعد ہمیں یہ دن نصیب ہوا۔ انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے نہ جانے کتنے سپاہی شہید ہوئے، کتنے جوان جیلوں میں قید ہوئے، اور کتنے گھروں نے اپنے پیارے کھوئے۔
اگر مہاتما گاندھی کا عدم تشدد نہ ہوتا، بھگت سنگھ اور اشفاق اللہ خان کی قربانی نہ ہوتی، سبھاش چندر بوس ،خان عبدالغفار خان ،مولانا ابوالکلام آزاد کی جرات نہ ہوتی، اور لاکھوں گمنام مجاہدین کا خون نہ بہتا — تو آج ہم یہ آزادی کا جشن نہ منا رہے ہوتے۔
15 اگست 1947 کو جب ہمارے پہلے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا تھا:
At the stroke of the midnight hour means the clock strikes twelve midnight it signifies the precise moment the old day ends and newday begins.”
( آدھی رات کے وقت کا مطلب ہے کہ جب گھڑی آدھی رات کے 12 بجاتی ہے تو یہ عین وقت اس لمحے کی نشاندہی کرتا ہے جب پرانا دن ختم ہوتا ہے تو نیا دن شروع ہوتا ہے)
تو یہ صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ کروڑوں خوابوں کی تعبیر تھی۔
آج سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ہم آزاد ہیں… کیا واقعی ہم آزاد ہیں؟
یاد کیجیے 1947 کی وہ رات…
جب ملک کا ہر کونا خوشی سے جھوم رہا تھا، جب جیلوں کے دروازے کھل گئے تھے، جب آزادی کا سورج طلوع ہوا تھا۔ یہ آزادی ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملی تھی — یہ لاکھوں قربانیوں، ہزاروں شہادتوں، اور ان گنت آنسوؤں کا نتیجہ تھی۔
آزادی صرف زمین کا ٹکڑا جیتنے کا نام نہیں، بلکہ ہر دل کو خوف، بھوک اور ناانصافی سے آزاد کرنے کا نام ہے۔
آج ہم دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں، دنیا ہمیں ترقی یافتہ قوموں میں گننے لگی ہے…
مگر پھر بھی — کہیں ایک کسان قرض کے بوجھ تلے دب کر جان دیتا ہے،
کہیں ایک بیٹی خوف میں جینے پر مجبور ہے،
کہیں ایک نوجوان تعلیم کے باوجود بے روزگار ہے،
کہیں مذہب اور ذات کے نام پر نفرت کی دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
یہ وہ بھارت نہیں، جس کا خواب گاندھی جی، بھگت سنگھ، مولانا آزاد اور دیگر مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا۔
آج ہم آزاد ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس آزادی کی حفاظت کر رہے ہیں؟
آزادی کی اصل حفاظت تب ہوتی ہے جب ہم اپنے ملک کے لیے ایمانداری، محنت، اتحاد اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتے..
ہمارا فرض ہے کہ ہم مذہب اور ذات پات کے اختلافات کو بھلا کر "ایک مہان بھارت، شریشٹھ بھارت” کی طرف بڑھیں۔
آئیں! اس موقع پر ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے پیارے وطن کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے دن رات محنت کریں گے۔
کیونکہ یاد رکھو — ملک ہم سب کا ہے، اور اس کی حفاظت بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔….

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے