कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شیخ عبد الرحیم صاحب — ایک باوقار تعلیمی و سماجی شخصیت

تحریر: شیخ شفیق الرحمٰن شیخ احمد

ابتدائی تعارف اور خاندانی پس منظر:
سوشل ورک اور تعلیم کے میدان میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی محنت، قربانی اور لگن سے نہ صرف اپنی زندگی سنوارتی ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا چراغ بنتی ہیں۔ انہی درخشاں شخصیات میں سے ایک نام شیخ عبد الرحیم صاحب کا ہے۔
آپ کا تعلق ضلع اورنگ آباد کی تحصیل سلوڈ سے ہے، اور ایک خوشحال مگر محنتی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والد محترم شیخ بابو شیخ ایوب (سابق کارپوریٹر) ایک باوقار، عوام دوست اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ عوامی خدمت کے لیے وقف کیا۔ آپ کی والدہ محترمہ آبیدہ بی ایک نیک سیرت، باحیا اور تربیت یافتہ خاتون ہیں جنہوں نے نہ صرف گھر کو محبت اور سکون کا گہوارہ بنایا بلکہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
تعلیمی سفرـ:
شیخ عبد الرحیم صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم نیشنل اردو پرائمری و ہائی اسکول، سلوڈ میں حاصل کی۔
یہاں سے آپ نے پہلی سے دسویں جماعت تک تعلیم مکمل کی، اور بچپن ہی سے محنت، دیانت اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
تعلیم کا شوق اور آگے بڑھنے کی لگن آپ کو گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے مولانا محمد علی جوہر اردو جونیئر سائنس کالج، سلوڈ تک لے گئی، جہاں آپ نے سائنس مضامین میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ نے یَشونت راؤ چوہان کالج، سِلّوڈ کا انتخاب کیا، جہاں سے آپ نے بی ایس سی (B.Sc) کی ڈگری حاصل کی۔
لیکن آپ کا مقصد صرف ڈگری لینا نہیں تھا بلکہ تعلیم کو عوامی خدمت اور قوم کی ترقی کے لیے استعمال کرنا تھا۔ یہی جذبہ آپ کو تدریسی میدان کی طرف لے آیا۔
اسی لیے آپ نے ڈی ایڈ (D.Ed) کی تعلیم مولانا محمد علی جوہر اردو ڈی ایڈ کالج، سِلّوڈ سے مکمل کی، تاکہ آپ عملی طور پر معلم کے شعبے میں قدم رکھ سکیں۔
کالج کے زمانے کی جدوجہد — طلبہ کے لیے آواز:
شیخ عبد الرحیم صاحب کی شخصیت کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ آپ نے اپنے طالب علمی کے دور ہی سے طلبہ کے حقوق اور ان کے مسائل کے لیے آواز بلند کی۔
کالج کے زمانے میں جب اکثر نوجوان اپنی ذاتی زندگی میں مگن رہتے ہیں، عبد الرحیم صاحب نے اپنے ساتھی طلبہ کی تعلیمی مشکلات، اسکالرشپ کے مسائل، سہولیات کی کمی اور نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے محنت کی۔
آپ نے متعدد بار تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کے سامنے طلبہ کے مسائل رکھے اور ان کے حل کے لیے جدوجہد کی، جس سے آپ طلبہ میں مقبول اور ان کے ہمدرد سمجھے جانے لگے۔
تدریسی زندگی کا آغاز:
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے بحیثیت استاد اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔
استاد بننا آپ کے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقصد تھا۔ آپ نے نہ صرف نصاب پڑھانے پر توجہ دی بلکہ طلبہ کی کردار سازی، اخلاقی تربیت اور ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا۔
آپ کا یہ ماننا ہے کہ "ایک استاد صرف کتاب کا علم نہیں دیتا بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے”۔
طلبہ اور اساتذہ کے لیے خدمات:
شیخ عبد الرحیم صاحب نے تدریسی میدان میں آتے ہی یہ فیصلہ کیا کہ وہ صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تعلیمی میدان میں ایک وسیع دائرہ کار میں کام کریں گے۔
آپ نے کئی بار تعلیمی سیمینارز، ورکشاپس اور ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا، جن میں طلبہ اور اساتذہ دونوں نے بھرپور شرکت کی۔
طلبہ کے لیے آپ نے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری، اسکالرشپ فارم بھرنے میں مدد، اور مفت تعلیمی رہنمائی جیسے منصوبے شروع کیے۔
اساتذہ کے لیے آپ نے جدید تدریسی طریقوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے تربیتی پروگرامز منظم کیے
Happy to Help Foundation — خدمت کا ایک نیا باب:
آپ کی سماجی خدمات کا سب سے نمایاں اور منظم پہلو Happy to Help Foundation کی شکل میں سامنے آیا۔
یہ ادارہ نہ صرف تعلیم بلکہ سماجی بہبود کے مختلف شعبوں میں سرگرم ہے۔
اس فاؤنڈیشن کے ذریعے آپ نے غریب اور ضرورت مند طلبہ کو کتابیں، اسکول بیگز، یونیفارم اور دیگر تعلیمی وسائل فراہم کیے۔
اس کے علاوہ فاؤنڈیشن نے صحت کے میدان میں بھی قابلِ ذکر کام کیا، جیسے مفت میڈیکل کیمپ، بلڈ ڈونیشن ڈرائیو، اور آگاہی مہمات۔
Happy to Help Foundation کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ صرف امداد دینے تک محدود نہیں بلکہ ضرورت مند افراد کو خود مختار بنانے کے لیے تربیتی پروگرامز بھی چلاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج یہ ادارہ نہ صرف سِلّوڈ بلکہ آس پاس کے علاقوں میں بھی ایک پہچان رکھتا ہے۔
ذاتی خوبیوں کا ذکر:
شیخ عبد الرحیم صاحب کی شخصیت عاجزی، خلوص، بردباری اور ثابت قدمی کا حسین امتزاج ہے۔
آپ ہمیشہ مسکرا کر ملتے ہیں اور ہر فرد کو عزت و احترام دیتے ہیں۔
مشکل حالات میں حوصلہ نہ ہارنا، مسائل کا حل نکالنا، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا آپ کی فطرت کا حصہ ہے۔
مستقبل کے عزائم:
شیخ عبد الرحیم صاحب کا خواب ہے کہ ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔
آپ چاہتے ہیں کہ Happy to Help Foundation کو ایک ایسے ادارے کی شکل دی جائے جو نہ صرف سِلّوڈ بلکہ پورے مہاراشٹر میں تعلیمی اور سماجی انقلاب برپا کرے۔
آپ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اساتذہ کے لیے جدید ترین تربیتی سہولیات مہیا ہوں تاکہ وہ نئی نسل کو بہتر انداز میں پڑھا سکیں۔
نتیجہ اور پیغام:
شیخ عبد الرحیم صاحب کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر نیت صاف اور مقصد عظیم ہو تو محدود وسائل بھی کامیابی کا زینہ بن سکتے ہیں۔
آپ نے تعلیم کو صرف ذاتی ترقی کے لیے نہیں بلکہ قوم کی فلاح کے لیے استعمال کیا۔
آپ کا پیغام سادہ مگر بامعنی ہے:
’’تعلیم روشنی ہے، اور اس روشنی کو ہر دل تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے