कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مہاراشٹر میں قریش برادری کی تحریک

تحریر: مفتی محمد احمد خان قاسمی
(امام وخطيب مسجد قریشہ بارہ امام منیار گلی ناندیڑ)
8605132315

اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو اپنوں اور غیروں سب کے نشانے پر ہے، اسلام پر لگاتار ہر وقت تنقید وتعریض کا سلسلہ جاری ہے، لیکن جس قدر اس پر تنقید ہوتی ہے او اس کی تعلیمات پر لعن طعن کیا جاتا ہے اسی قدر اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام کی ہر تعلیم میں انسانیت کی فلاح وکامیابی کا مضمر ہے، مذہب اسلام عقل سے قریب ہے اور دل کی دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے. جو بدبخت لوگ اسلام کی تعلیمات پر تنقید کرتے ہیں در اصل وہ اسلام کی مقبولیت سے خوف زدہ ہیں.
موجودہ حکومت ہر وقت اس موقع کی تلاش اور جستجو میں لگی رہتی ہیں کہ کس طرح مسلمانوں پر ظلم کیا جائے زیادتی کی جائے ،انہی میں سے ایک ظلم وزیادتی گائے نام پر وشوہند پریشد اور گائے کے نام پر غنڈہ گری کرنے والوں کی ہیں، جس میں 2014 ءسے کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوگیا اور پچھلے چار پانچ سال میں گائے کے نام پر ظلم وزیادتی کی انتہا ہو چکی ہے، ان حالات میں ظلم وزیادتی کو روکنے کے لیےقریش برادری نے پورے مہاراشٹر میں جو تحریک چلائی ہے قابل تعریف ہے ،احتجاج جمہوری نظام میں اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کا راستہ ہے، ظلم پر احتجاج اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے کسی بات پر ناراضگی کا اظہار یہ انسان کی بنیادی حقوق میں سے ہے، اور اسلام بھی اس کی اجازت دیتا اور اس حق کو تسلیم کرتا ہے. سورہ نساء کی آیت نمبر 148 میں اللہ نے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بری بات کے زور سے کہنے کو پسند نہیں کرتا ہے، سوائے اس کے کہ کوئی مظلوم ہو ،اللہ سننے والے اور جاننے والے ہیں۔
فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے تحریر کیا ہے کہ اس آیت سے ظلم اور نا انصافی کے خلاف مناسب طریقہ سے احتجاج اور مظاہرہ کرنے کا جواز معلوم ہو تا ہے. شریعت میں ظلم کرنے سے بھی منع کیا ہے اور ظلم سہنے کی بھی اجازت نہیں دی ہے بلکہ اسلام ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ ایک موقعہ پر بڑے خوب صورت انداز میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے ظالم ہو یا مظلوم ‘‘اور فرمایا ’’ظالم کو ظلم سے روکنا اس کی مدد ہے ‘‘گائے کے نام پر ظلم اپنے انتہا کو پہنچ چکا ہے اور اب تک کئ قریش برادری کے افراد کی جان جا چکی ہے ، کئی افراد کو زخمی کیا گیا جیلوں میں بند کیا گیا ہر جگہ پیسوں کو وصول کیا گیا ، ان حالات سے مجبور ہو کر قریش برادری نے احتجاج کی آواز بلند کی ہے۔اور اپنے کاروبار کو بے مدت بند کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں ہے بلکہ بڑی ہمت وجرات کا یہ فیصلہ ہے اور بڑے صبر واستقامت کی ضرورت ہوتی ہے،ایسے موقع پر تمام ہی مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ قریش برادری کا اس تحریک میں ہر طرح کا ساتھ دے ، اللہ رب العزت اس تحریک کو کامیاب فرمائے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے