कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دور دراز علاقوں کے مریضوں سے تعصب!۔۔۔شہری ہسپتالوں میں انسانیت دم توڑ رہی ہے

تحریر:ایم شفیع میر

جدید دنیا میں جہاں صحت کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جاتا ہے، وہیں ہمارے معاشرے میں صحت کی سہولیات کے معاملے پر طبقاتی تفریق اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ شہری علاقوں کے سرکاری ہسپتال، جنہیں عوامی خدمت کے مراکز ہونا چاہیے، اب بعض مقامات پر ایسی بے حسی اور غیر انسانی رویوں کا گہوارہ بن چکے ہیں، جہاں دور دراز کے مریضوں کا آنا گویا جرم تصور کیا جا رہا ہے۔
ریاست جموں کشمیر میں دیہی و پہاڑی علاقوں کے عوام ہمیشہ سے ہی طبی سہولیات کے فقدان کا شکار رہے ہیں۔ پرائمری ہیلتھ سینٹرز سے لے کر ضلعی اسپتالوں تک، ہر سطح پر بنیادی سہولیات کا فقدان، ماہر ڈاکٹروں کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی، اور ایمرجنسی سروسز کی بدحالی ایسے مسائل ہیں جنہوں نے عوام کو بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے جب مریض دیہی علاقوں سے سینے میں درد، زچگی، حادثات یا دیگر پیچیدہ امراض کی صورت میں اْمید لے کر شہر آتے ہیں، تو وہ ایک بہتر علاج کی خواہش رکھتے ہیں نہ کہ تذلیل اور رسوائی کا سامنا۔بدقسمتی سے شہروں کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نہایت افسوسناک ہوتا جا رہا ہے۔ طبی عملہ اکثر مریضوں سے ان کا پتہ دریافت کرتے ہی ان کے ساتھ تعصب کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ جب عملے کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مریض کسی دور دراز یا بیرون ضلع علاقے سے آیا ہے، تو وہ نہ صرف چڑ جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات بدتمیزی، طنز اور صریح انکار تک کی نوبت آ جاتی ہے۔
یہ رویہ نہ صرف مریضوں کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے بلکہ بنیادی انسانی اقدار کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ طبی پیشہ جسے خدمتِ خلق کا درجہ حاصل ہے، اس میں اگر غریب و مجبور افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ہو تو یہ پورے نظام صحت پر سوالیہ نشان ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شہری ہسپتالوں میں ہی دور دراز کے لوگوں کا علاج ممکن نہیں تو وہ کہاں جائیں؟ کیا دیہی علاقوں کی حالت ایسی ہے کہ وہ نازک حالات میں اپنے مریضوں کا علاج کر سکیں؟ کیا یہ ذمہ داری حکومت کی نہیں کہ وہ ملک کے تمام حصوں میں یکساں طبی سہولیات فراہم کرے؟ اگر دیہی علاقوں کا طبی نظام پسماندہ ہے تو اس کی سزا ان بے بس مریضوں کو کیوں دی جاتی ہے جو محض زندگی کی خاطر طویل سفر طے کر کے شہر پہنچتے ہیں؟
اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو شہری اسپتالوں کے عملے کو سختی سے ہدایت دی جانی چاہیے کہ وہ تمام مریضوں کے ساتھ برابری کا سلوک کریں۔ کسی بھی قسم کا لسانی، جغرافیائی یا طبقاتی تعصب طبی اخلاقیات کے سراسر خلاف ہے۔ ایسے طبی عملے کے خلاف کارروائی کی جائے جو اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہیں یا انسانیت سوز رویہ اپناتے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو دیہی علاقوں میں طبی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے۔ دیہی اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹرز، جدید مشینری، ایمبولینس سروس، لیبارٹری سہولیات اور ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ لوگ اپنے ہی علاقے میں معیاری علاج حاصل کر سکیں۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انسانیت، مساوات اور ہمدردی ہی وہ اقدار ہیں جن پر ایک مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ جب ایک بیمار، کمزور، اور لاچار انسان کسی ہسپتال کے دروازے پر امید لے کر آتا ہے، تو اس کے ساتھ کیا جانے والا ہر سلوک اْس معاشرے کے اخلاقی معیار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم شہری اور دیہی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک متحد، موثر اور عوام دوست نظام صحت کی بنیاد رکھیں۔ حکومت کو شہری اسپتالوں میں تربیتی پروگرامز، نگرانی کے نظام، اور شکایت کے موثر طریقہ کار متعارف کروانے چاہییں، تاکہ ہر مریض کو عزت اور وقار کے ساتھ علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ورنہ یہ سماجی بے حسی، وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا زخم بن جائے گی جسے بھرنے میں نسلیں لگ جائیں گی اور شاید تب تک بہت سی قیمتی جانیں تلف ہوچکی ہوں گی۔
یہ ایک نہایت افسوسناک اور تشویشناک حقیقت ہے کہ سرینگر جیسے تاریخی اور روحانی لحاظ سے بلند مقام رکھنے والے شہر کے سرکاری ہسپتالوں، خصوصاً لل دید اسپتال جیسے اداروں میں، مریضوں کے ساتھ غیر انسانی اور غیر اخلاقی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ لل دید کا نام سنتے ہی کشمیری تہذیب، پاکیزگی، قربانی اور علم و معرفت کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔ایسی ہستی جس نے کشمیرکی روحانی اور ثقافتی ورثے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ مگر یہ کس قدر بدقسمتی ہے کہ اْسی کے نام سے منسوب ادارے میں خواتین مریضوں کے ساتھ بے حسی، بدتمیزی اور غیر پیشہ ورانہ برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ اس قسم کے رویے نہ صرف انسانیت کے خلاف ہیں بلکہ کشمیریت کو داغدار کرتے ہیں جس پر ہمیں فخر ہے۔
سرکاری طبی عملے کا یہ ناروا سلوک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے اداروں میں جوابدہی اور احساسِ ذمہ داری کس حد تک فقدان ہے۔ ایسے طبی اہلکار صرف اپنی نوکری کا تقدس پامال نہیں کرتے بلکہ ایک عظیم خاتون’’لل دید‘‘کے نام کو بھی بدنام کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اگر ہمارے معاشرے میں ایسی بے حسی کو روکا نہ گیا اور اصلاحی اقدامات نہ کئے گئے، تو یہ رویے نہ صرف مریضوں کی جسمانی اذیت میں اضافہ کریں گے بلکہ معاشرتی اعتماد، وقار اور انسانی ہمدردی کو بھی گہرا نقصان پہنچائیں گے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے