कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عیدالاضحی کی تنہائی: ایک درد بھری داستان

از قلم: مولانا فضیل اختر قاسمی بھیروی
(متعلم ازہر دکن جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد تلنگانہ)

عیدالاضحیٰ کا دن تھا، وہ دن جس کا انتظار ہر دل میں خوشیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اس بار میرے لیے عید کوئی خوشی نہ لائی۔ سورج کی پہلی کرن جب دارالعلوم حیدرآباد کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی، تب دل میں ایک ویرانی سی چھائی ہوئی تھی۔ میں اپنے کمرے میں خاموش بیٹھا تھا، نہ کوئی ماں کی آواز سنائی دی، نہ ابو کی شفقت بھری پکار، نہ چھوٹے بھائی کی شوخی، نہ بہن کی ہنسی۔
میرے ذہن کے پردے پر گھر کا ایک ایک منظر یوں ابھرنے لگا جیسے سب کچھ ابھی ابھی ہوا ہو۔ امی کی آواز فجر سے پہلے ہی سنائی دیتی: "بیٹا! اٹھ جاؤ… تمہارے کپڑے میں نے استری کر دیے ہیں، جلدی سے غسل کر لو، سب نماز کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ "ابو کچن میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کہہ رہے ہوتے: "بچو، جلدی کرو، عیدگاہ جانے میں دیر ہو رہی ہے۔”امی ایک ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کی بوتل لیے، دوسرے ہاتھ سے میرا سر سہلاتے ہوئے نرمی سے کہتیں: "جلدی پی لو بیٹا، دھوپ تیز ہے، کہیں تھکن نہ ہو جائے۔”
بہن دوپٹے کو درست کرتے ہوئے زور زور سے امی سے بحث کر رہی ہوتی: "امی! یہ جوڑا نہیں پہننا آج، میری سہیلی نے بھی یہی لیا ہے! "چھوٹا بھائی چمچماتے نئے جوتے پہنے، آنگن میں خوشی سے اچھلتا کودتا، بار بار پاؤں زمین پر مار کر کہتا: "بھائی! سُن رہے ہو نا؟ میرے جوتے کی آواز آ رہی ہے، چرر چرر! دیکھو نا کیسا بجتا ہے! "اور میں، میں ابو کے ساتھ گھر کے باہر کھڑا ہوتا، اور ہم دونوں مل کر اپنے قربانی کے جانور کو دیکھتے، اُسے ہاتھ لگاتے، پیار کرتے، اُس کے لیے پانی رکھتے۔
عید کی نماز کے بعد سب گلے ملتے۔ امی کی آنکھوں میں آنسو ہوتے، اور وہ مجھے سینے سے لگاتیں۔ ابو مجھے زور سے تھپتھپاتے اور مسکراتے ہوئے کہتے: "بیٹا میرے لیے دعا کرنا، اور یہ لو عیدی! "پھر ہم سب بیٹھ کر ایک دسترخوان پر ناشتہ کرتے۔ امی ہاتھوں سے نوالے بنا کر ہمیں کھلاتی رہتیں، اور ابو بار بار کہتے: "آج کا گوشت ذرا خاص انداز میں بنے گا، میری پسند کا!”
لیکن افسوس! آج نہ وہ صدا تھی، نہ وہ سہارے والے ہاتھ، نہ وہ مہربان آنکھیں، نہ وہ گھر کی مہک۔ کمرہ سناٹا بول رہا تھا، دیواریں خالی نگاہوں سے مجھے گھور رہی تھیں، پنکھے کی آواز میں امی کی لوری سنائی دے رہی تھی۔ میں بس فرش پر بیٹھا روتا رہا۔ ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔ کسی نے تسلی نہیں دی۔ کسی نے گلے نہیں لگایا۔ کوئی یہ کہنے والا نہ تھا: "بیٹا، عید مبارک!”
فجر کی نماز پڑھ کر تنہا بیٹھا رہا۔ باہر بچوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ کوئی اپنے نئے کپڑے دکھا رہا تھا، کوئی عیدی کے نوٹ گن رہا تھا۔ اور میں ایک کونے میں بیٹھا، آنکھوں میں آنسو لیے اُن لمحوں کو یاد کر رہا تھا جب ہر عید پر امی صبح سویرے جگا دیا کرتی تھیں، اور کہتی تھیں: "بیٹا جلدی اٹھو، نماز کے بعد مہمان آئیں گے، قربانی بھی ہے۔”
ابو ہنستے ہوئے کہتے: "دیکھو بھئی، عیدی کے لیے پہلے سلام تو کرو! "اور ہم سب بھائی بہن ایک دوسرے سے لپٹ کر روایتی عیدی کی ضد کرتے۔
*لیکن اس بار کچھ بھی ویسا نہ تھا۔*
عید کی نماز کے لیے جب باہر نکلا، ہر چہرے پر خوشیاں تھیں، لیکن میرے چہرے پر خاموشی کا ایک دبیز پردہ تھا۔ نماز کے بعد سب ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، لیکن میں ایک طرف کھڑا بس دیکھ رہا تھا۔ کوئی اپنوں جیسا نہیں لگا۔ کسی نے گلے نہیں لگایا۔ نہ وہ "عید مبارک” کہنے والا چہرا تھا، نہ وہ گرمجوشی، نہ وہ اپنائیت۔ جب میں نماز کے بعد واپس آیا اور کمرے کا دروازہ کھولا، تو ایسا لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ ہر چیز خاموش، ہر زاویہ خالی، ہر دیوار افسردہ۔ بستر پر وہی چادر بچھی تھی، جو کئی دنوں سے دھوئی نہیں گئی تھی۔ پانی کی بوتل بھی خالی تھی، جیسے جان بوجھ کر میرا ساتھ چھوڑ چکی ہو۔ میں بستر پر بیٹھا، ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا اور دل سے ایک سرد آہ نکلی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے میرے اندر کا سب کچھ ٹوٹ چکا ہے، بکھر چکا ہے۔ کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔ بچے اپنے والدین کے ساتھ جامع مسجد (مسجدِ عاقل حسامی) جا رہے تھے، کہیں قہقہے تھے، کہیں مسکراہٹیں، کہیں پکار تھی، کہیں بلائیں،اور میرے پاس صرف خاموشی تھی۔ ایک ایسی خاموشی جو چیخ رہی تھی، جو کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر میرے دل کو لہو لہان کر رہی تھی۔ مجھے وہ لمحہ یاد آیا جب پچھلے سال عید پر امی نے میری پیشانی چومی تھی اور کہا تھا: "پتا نہیں اگلی عید تم ہمارے ساتھ مناؤ یا نہ مناؤ۔” اُس وقت تو مسکرا دیا تھا، لیکن آج وہ بات بجلی بن کر دل پر گر رہی تھی۔
نماز کے بعد جب میں واپس آیا تو دل جیسے ایک ٹکڑے کی طرح بکھر گیا۔ کمرے میں داخل ہوا تو امی کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی: "بیٹا آج قربانی کا دن ہے، گوشت لانا مت بھولنا۔” اور ابو کی وہ نظریں یاد آئیں جو ہر بار خاموشی سے میرے چہرے کی خوشی پڑھ لیا کرتی تھیں۔
*اب کیا تھا؟* آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ گھر کی ہر یاد دل کو چیر کر رکھ رہی تھی۔ امی کا ہاتھ، ابو کا سایہ، بہن کا ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونا۔ سب جیسے سامنے کھڑے تھے، اور میں بس روتا جا رہا تھا۔ ذاتِ حق جل مجدہ سے بہت دعائیں کیں: "یا اللہ! صبر دے، دل کو قرار دے، یہ تنہائی ختم ہو جائے، یہ دیواریں بولنے لگیں، یہ کمرہ پھر سے گھر بن جائے…” لیکن آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ کبھی سوچتا ہوں، کاش آج میں گھر ہوتا، کاش امی کے ہاتھ کا ناشتہ کھا رہا ہوتا، کاش ابو کے ساتھ بازار جا رہا ہوتا، کاش آج میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ قربانی کے جانور کے پاس بیٹھا ہوتا، اُسے پیار کرتا، پانی پلاتا، اور اس کی رسی تھامے خوشی سے جھوم رہا ہوتا… مگر نہیں، میں یہاں ہوں ایک طالب علم، اپنی ذات، اپنی راحت، اپنی خوشی، حتیٰ کہ اپنی عید بھی اللہ کی رضا کے لیے قربان کر چکا ہوں۔ہم نے ماں کی ممتا، باپ کی شفقت، بہنوں کی ہنسی، بھائیوں کی شوخی، سب قربان کر دیا۔ اے مالک! یہ قربانی قبول فرما، ہمیں دنیا میں بھی اپنی رضا کی ٹھنڈک عطا فرما، اور آخرت میں بھی۔ یہ عید میرے لیے "عیدالاضحیٰ” نہیں رہی، بلکہ اپنوں کی جدائی کا ایک دن، "عیدِ تنہائی” بن گئی ہے۔
ہم تنہا نہیں ہیں، ہمارا رب ہمارے ساتھ ہے۔ وہی رب جس نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا تھا: "قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا” وہی رب آج اپنے ہر طالب علم سے کہتا ہے: "میں تمہاری تنہائی، تمہاری قربانی، تمہارا درد دیکھ رہا ہوں، اور میں تمہارے صبر کا بدلہ ضرور دوں گا”۔
دنیا کی ہر وہ ساعت جو کسی مسافرِ علم کے دل پر گزرتی ہے، اس میں ایک رنگ ہوتا ہے: یا تو تنہائی کا، یا محبتوں کا۔ اور بسا اوقات یہ دونوں رنگ بیک وقت اس کی زندگی کے کینوس پر اُترتے ہیں۔ جب بندہ نے عیدالاضحی کی تنہائی کے عنوان سے پہلی قسط تحریر کی، تو وہ دراصل ان لمحوں کی تصویریں تھیں جو اجنبیت کے سناٹے، خاموش دعاؤں، اور بکھرتے جذبات کے سائے میں دل پر اتریں۔ وہ لمحے جب انسان عید جیسے خوش گوار موقع پر والدین کی شفقت، بہن بھائی کی ہنسی، اور گھر کے دسترخوان کی سادگی سے بھرپور گرمی کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔
تحریر مکمل ہوئی، مگر دل میں ایک احساس ادھورا سا باقی رہا، یوں لگا جیسے جذبات کی ایک پرت ابھی باقی ہے، جسے کاغذ تک آنا ہے۔ ارادہ یہی تھا کہ ایک دو دن میں دوسری قسط بھی رقم ہو جائے، لیکن تھوڑی مصروفیت ایسی آئی کہ جس کی وجہ سے مہلت نہ مل سکی، اور یہ ادھورا احساس کاغذ پر مکمل ہونے سے رہ گیا۔ اب جب کچھ سکون میسر آیا ہے تو دل چاہتا ہے کہ وہ سب کچھ لکھ دوں، جو اُس وقت دل کے نہاں خانوں میں باقی رہ گیا تھا۔ اور جو دراصل اُن لمحات کا خلاصہ ہے، جنہوں نے عیدالاضحی کے بعد دل کی تنہائی کو مسکراہٹ میں بدل دیا۔
مگر ہر اندھیری شب کی طرح، وہ تنہائی بھی ایک سفر تھی۔ اور ہر سفر کی منزل کوئی نہ کوئی روشنی ہوتی ہے۔ میری تنہائی کا یہ سفر بھی بالآخر ایک ایسی منزل پر آن رُکا، جہاں جدائی کی کسک، الفت کے لمس میں بدل گئی، اور محرومی کی سرگوشیاں، محبت کے بول بن گئیں۔ وہ دن جو عید کے بعد خاموشی میں ڈوبے تھے، اب ایک نئے ماحول میں ایک نئی روشنی کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ میرا داخلہ عیدالفطر کے بعد ہی جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد میں ہو چکا تھا۔ یہاں پہنچتے ہی احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جن محبتوں سے کچھ دنوں کے لیے جدا کیا تھا، اُن کی جگہ کچھ نئی محبتیں، نئے چہرے، اور نئے سائے عطا فرما دیے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ میرے مربی و مشفق استاذ حضرت مولانا مفتی محمد نوشاد نوری صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ (استاذِ فقہ و عربی ادب دارالعلوم وقف دیوبند) نے مجھے یہاں بھیجنے سے قبل نہایت شفقت کے ساتھ جامعہ ہذا کے مایہ ناز استاذ حضرت مولانا مفتی امدادالحق بختیار صاحب قاسمی حفظہ اللہ (استاذ حدیث و فقہ جامعہ ہذا ) سے رابطہ کیا اور فرمایا: *”یہ میرے عزیز شاگرد ہیں، آپ ان کا خیال رکھیے گا۔”* اسی طرح میرے ایک اور مشفق استاذ حضرت مولانا مفتی محمد سجاد حسین صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ (استاذِ عربی ادب دارالعلوم وقف دیوبند) نے بھی فون پر حضرت مفتی امدادالحق بختیار صاحب سے بات کی اور فرمایا: *”فضیل اختر ہمارا شاگرد ہے، اس کی مکمل نگرانی فرمائیں، اس کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔”* اور ان مشفقینِ کرام کی صف میں ایک اور درخشندہ نام حضرت مولانا سعید الظفر صاحب مدظلہ العالی کا ہے، جو دارالعلوم رحمانیہ حیدرآباد کے ممتاز استاذ اور میرے ہی گاؤں (بھیرہ) کے پڑوسی ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے انہوں نے بھی بڑی محبت سے حضرت مفتی امدادالحق بختیار صاحب سے فون پر گفتگو کی اور فرمایا: *”یہ ہمارے گاؤں کا بچہ ہے، اس کا خیال رکھیے گا، ہر پہلو سے اس کی تربیت میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔”*
ان تینوں بزرگوں کے کلماتِ خیر، محبت بھرے انداز، اور دل سے نکلی دعائیں میرے لیے وہ قیمتی زادِ راہ ہیں جنہوں نے میرے اس تعلیمی سفر کو تنہائی سے نکال کر ایک تربیتی قافلہ بنا دیا۔ ان حضرات کی محبت اور دعا کی روشنی میں میرا دل مطمئن ہے کہ میں تنہا نہیں، بلکہ عظیم شخصیات کی نظرِ عنایت میں ہوں۔
اگر یہ کہوں کہ حضرت مولانا مفتی محمد نوشاد نوری صاحب میرے صرف استاذ ہی نہیں بلکہ میری زندگی کے اُن عظیم محسنوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف میری علمی تربیت کی، بلکہ میرے مزاج، میرے رجحانات، اور میری داخلی کیفیت کو بھی سمجھا، تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ حضرت کا ہر جملہ، ہر مشورہ، اور ہر فیصلہ میرے لیے چراغِ راہ رہا ہے۔ انہی کی دعاؤں، نگرانی، اور علمی بصیرت کا نتیجہ ہے کہ میں آج اس ماحول میں اپنی علمی و فکری پیاس بجھانے کے قابل ہوا ہوں۔
اور پھر ہوا بھی یوں کہ حضرت مفتی امدادالحق بختیار قاسمی صاحب حفظہ اللہ نے محض رسمی طور پر نہیں، بلکہ ایک سچے مربی کی حیثیت سے دل کی گہرائیوں سے میری سرپرستی فرمائی۔ جن محبتوں سے وقتی طور پر فراق ہوا تھا، حضرت نے اپنے کردار، شفقت، اور علمی وقار سے وہ خلا بھر دیا۔
حضرت نے نہ صرف میرے لیے وقت نکالا، بلکہ میری ضروریات، مزاج، ماحول سے مانوسیت، اور تعلیمی ترتیب تک ہر پہلو کو اپنی خصوصی توجہ میں رکھا۔ عیدالاضحی کی تعطیلات کے ان چند دنوں میں حضرت نے بارہا اپنے دولت کدے پر مدعو فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ تمہارا اپنا گھر ہے جب دل چاہے آجایا کرو لیکن یہ دعوتیں محض کھانے کی نہیں تھیں، بلکہ ان میں محبت، اپنائیت، رہنمائی اور دل کی ضیافت کی ایک مکمل دنیا آباد تھی۔ کبھی مسکرا کر حوصلہ دیا، کبھی علمی لطافت کے موتی بکھیرے، اور کبھی زندگی کے کسی نکتے پر ایسی بصیرت عطا کی جو صرف وہی عطا کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دلوں پر اثر دینے والا بنایا ہو۔
یوں محسوس ہوتا رہا کہ میں کسی ادارے میں نہیں، بلکہ ایک ایسے تربیتی قافلے کا حصہ ہوں جس کے ہر راہبر کو میرے ہر قدم کی فکر ہے، اور ہر ایک میرے وجود میں کسی عظیم مقصد کے لیے روحانی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
اسی سلسلۂ محبت و شفقت کو آگے بڑھاتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمد تبریز عالم حلیمی قاسمی صاحب بھی اپنی بھرپور محبتوں کے ساتھ سامنے آئے۔ نہایت تواضع، خلوص اور اپنائیت کے ساتھ اپنے گھر مدعو فرمایا۔ ان کے اندازِ میزبانی میں وہ پدرانہ شفقت جھلکتی تھی جو عید کے بعد کسی بیٹے کو گھر واپس لانے میں پنہاں ہوتی ہے۔ ان کے ہاں گزارا گیا وقت، خالص محبت، مانوس باتوں، اور دل نواز رویّوں کی خوشبو سے لبریز تھا۔ ایک اور یادگار لمحہ وہ تھا، جب ایک صبح حضرت مولانا مفتی جمال الدین صاحب دامت برکاتہم (صدر مفتی جامعہ) نے خصوصی طور پر ناشتے پر مدعو فرمایا۔ اور اسی طرح حضرت مولانا مفتی عبداللہ صاحب مدظلہ العالی، صدر مفتی جامعہ کے فرزندِ ارجمند، کی طرف سے دی گئی دعوت نے صرف دسترخوان ہی نہیں، دل کو بھی سیراب کر دیا۔ انہی محبت بھرے لمحوں میں ایک اور مبارک لمحہ وہ بھی تھا، جب حضرت مولانا مفتی مکرم محی الدین صاحب حفظہ اللہ (استاذِ حدیث و فقہ) نے ایک روز صبح ہی مجھے فون کیا: *”فضیل! آج آپ کو ہمارے گھر پر کھانا کھانا ہے!”* اور پھر انہوں نے خود ریپیڈو (Rapido) بُک کر کے مجھے بلایا۔ میں ان کے دولت کدے پر حاضر ہوا، جہاں ان کے والد ماجد (جو خود بھی ایک جید عالمِ دین ہیں) سے ملاقات ہوئی۔ دسترخوان پر بیٹھے، طعام کے ساتھ علمی گفتگو کا خوب سلسلہ چلا۔ حضرت کے والد محترم نے بڑی علمی و فکری باتوں کی طرف توجہ مبذول فرمائی، جو میرے لیے مشعلِ راہ بن گئیں۔ یوں ہی نہیں، بلکہ واپسی کے لیے بھی حضرت نے خود ریپیڈو بک کیا، اور نہایت محبت بھرے انداز میں رخصت کیا۔ سلام، مسکراہٹ، اور دعاؤں کے ساتھ وہ لمحہ ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی مہربان والد اپنے بیٹے کو رخصت کر رہا ہو۔ حضرت کا یہ اندازِ شفقت، اہتمام، اور خیال رکھنا دل کو بے اختیار یہ یقین دلا گیا کہ یہ سب لوگ میرے لیے اجنبی نہیں، بلکہ میرے اپنے ہیں۔ بالکل گھر کے افراد کی طرح، جنہیں میرے ہر چھوٹے بڑے امر کی فکر ہے، اور جن کے دل میں میرے لیے بےلوث محبت رواں دواں ہے۔
ایک طرف جہاں اساتذہ نے کچھ کسر نہ چھوڑی، وہیں کچھ رفقائے درس نے بھی بھائی سے بڑھ کر محبت کا ثبوت دیا۔ ان میں مولوی منیب الرحمن قاسمی حسامی حیدرآبادی قابلِ ذکر ہیں، جو کئی بار نہ صرف ملاقات کے لیے آئے بلکہ مجھے ہوٹل پر لے جا کر کھانا کھلایا اور نہایت محبت سے کہا: *”آپ گھر سے کافی دور ہیں، لیکن ہم احباب کس کام کے، اگر اتنا بھی خیال نہ رکھ سکیں”* اسی طرح مولوی حبیب اللہ قاسمی، جو اس وقت شاہین نگر میں بحیثیت مدرس ہیں، انہوں نے بھی بار بار دعوت کا اصرار کیا۔تو وہاں بھی گیا اور ان کے یہاں بھی بڑے اہتمام سے مختلف انواع کے کھانے پیش کیے۔ ان کی اپنائیت نے دل کو خوش کر دیا۔
ان سب کے ساتھ ساتھ اگر جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد کے نظام و انتظام کا تذکرہ نہ کیا جائے بالخصوص شعبۂ تخصص فی الفقہ و الافتاء والقضاء کا، تو یہ بڑی ناانصافی ہوگی۔ یہاں کے اساتذہ کا تدریسی معیار، طلبہ سے برتاؤ، اور روزمرہ کا نظم و نسق اس قدر متوازن اور مؤثر ہے کہ دل کو سکون اور طبیعت کو یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ اساتذہ طلبہ کو محض تعلیم ہی نہیں دیتے بلکہ ان کی تربیت بھی ایسے انداز سے کرتے ہیں گویا وہ اپنے ہی گھر کے بچے ہوں۔ جامعہ کی فضا علمی بھی ہے، روحانی بھی، اور تربیتی بھی۔ اس جامعہ نے مجھے صرف علم ہی نہیں دیا بلکہ تنہائی کے ان لمحوں میں محبت، حوصلہ، اور امید بھی عطا کی۔ ان سب مہربان چہروں نے میری اُس تنہائی کو، جو پہلی قسط کا مرکزی عنوان تھی، ایسی محبتوں میں لپیٹ دیا کہ دل بے ساختہ شکر کے آنسو بہا بیٹھا۔ تب دل نے یہ حقیقت پائی:
*”تنہائی اللہ کی راہ کے مسافر کے لیے عارضی ہوتی ہے۔ راستہ چاہے کتنا بھی سنّاٹا لیے ہو، اللہ ہر موڑ پر ایسے اساتذہ، ایسے رفیق، اور ایسے سایے کھڑے کرتا ہے، جو اُس کے بندے کے لیے سائبان بن جاتے ہیں۔”*
پہلی قسط، میرے دل کی تپش تھی۔ یہ دوسری قسط، میرے دل پر اللہ کی ان گنت نعمتوں کا روشن اعتراف ہے۔ ایک طرف فراق کے آنسو تھے، تو دوسری طرف محبتوں کی مٹھاس۔ ایک طرف تنہائی کا درد، تو دوسری طرف تربیت کا نور۔
ذاتِ حق جل مجدہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے دین کے لیے خالص بنا دے، ہمیں ایسی صحبتوں میں رکھے جو دنیا و آخرت دونوں میں خیر کا ذریعہ بنیں، اور ہمارے اس سفرِ علم کو اپنی رضا اور مقبولیت کی منزل تک پہنچا دے۔

🔸 17 ذی الحجہ 1446ھ مطابق 15 جون 2025ء بروز اتوار
✍️ فضیل اختر قاسمی بھیروی
متعلم جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد تلنگانہ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے