कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو تحقیق و تنقید اور تدریس کا ایک عظیم خسارہ

(پروفیسر سی ایم نعیم کا سانحۂ ارتحال ایک عہد کا خاتمہ)

تحریر: فیضان الحق ،مہاراشٹر

اردو زبان کا آسمان آج ایک ایسے تابندہ ستارے سے محروم ہو گیا ہے جس کی ضو فشانی نے برصغیر سے لے کر مغرب کی علمی فضا تک روشنی پھیلائی۔ پروفیسر چودھری محمد نعیم، جنہیں دنیا سی ایم نعیم کے نام سے جانتی تھی، اب ہم میں نہیں رہے۔ 9 جولائی 2025 کی صبح شکاگو میں ان کا انتقال ہوا، اور یوں اردو تحقیق، تدریس، تنقید اور ترجمہ نگاری کا ایک عظیم باب بند ہو گیا۔
سی ایم نعیم کا تعلق بارہ بنکی، اترپردیش سے تھا، مگر ان کا فکری سفر سرحدوں کا پابند نہیں رہا۔ ان کی علمی زندگی کی جڑیں ہندوستان کی مٹی میں پیوست تھیں، اور شاخیں شکاگو جیسے علمی مراکز تک پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ صرف اردو زبان کے عاشق نہیں تھے بلکہ اس کے مزاج، اس کی نفسیات اور اس کی تہذیبی روح کے نباض تھے۔
ان کا تدریسی سفر یونیورسٹی آف شکاگو سے جُڑا رہا، جہاں انہوں نے جنوبی ایشیائی زبانوں کے شعبے میں نصف صدی سے زائد عرصہ گزارا۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ مغربی دنیا میں اردو کی شناخت محض "ایک مشرقی زبان” کے طور پر نہیں ہونے دیتے، بلکہ اسے ایک زندہ تہذیبی اظہار کے طور پر پیش کرتے رہے۔
ان کا قلم، ان کا زاویۂ نگاہ، ان کی تحریر کی جاذبیت اور ان کا استدلال، سب کچھ ایسا تھا کہ وہ پڑھنے والے کو نہ صرف متاثر کرتے بلکہ سوچنے پر مجبور بھی کر دیتے۔ ان کے تراجم خاص طور پر نقوش، افسانہٴ جدید، اور دیگر اردو کلاسیکی متون کے ترجمے ایسے تھے جنہوں نے اردو ادب کو انگریزی داں دنیا سے روشناس کرایا۔
انہوں نے صرف ادب ہی نہیں پڑھایا، بلکہ ادب میں چھپے ہوئے تہذیبی دباؤ، تاریخی حوالوں اور معاشرتی رمزوں کو وا کیا۔ ان کی تازہ ترین کتاب "Urdu Crime Fiction: 1890–1950” اسی بات کا ثبوت ہے کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے اردو مزاج کے بھی شناسا تھے۔
ان کی شخصیت میں ایک عجیب سا وقار، تہذیب، شائستگی اور علمی توازن پایا جاتا تھا۔ ان کے اندر کوئی خودنمائی نہیں تھی، کوئی لفاظی نہیں، بلکہ اخلاص، گہرائی اور سادگی تھی۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جنہیں پڑھانا صرف پیشہ نہیں، عبادت لگتا تھا۔
آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، تو اردو زبان صرف ایک استاذ سے محروم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نظریاتی رہنما، ایک علمی قندیل اور ایک سچے عاشقِ اردو سے محروم ہو گئی ہے۔
ہم ان کی یاد میں آنسو بہا سکتے ہیں، لیکن ان کا اصل خراج یہی ہوگا کہ ہم ان کے چراغ سے چراغ جلائیں، تحقیق کریں، زبان سے محبت کریں، اور اردو کو اس کے وقار کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور اردو دنیا کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے