कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلامی نظام عمل اور ہم

تحریر: مولانا میر ذاکر علی پربھنی 98818363729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ نے اپنے شعر میں زمانہ کے لوگوں کی بہت خوب عکاسی کی ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں۔ مست رکھو ذکر وفکر صبحگاہی میں اسے پختہ تر کرو مزاج خانقاہی میں اسے۔ اسلام اور اسلامی دستور ساری زندگی پر محیط ہے۔ اسلام نے انسانیت کو وہ سب کچھ عطا کیا ہے۔جس میں انسانیت اور اسکی بقاء ہے۔ اسلام ہی وہ دستور حیات اورساری دنیا کے لیے ایک عظیم سسٹم اور لائحہ عمل ہے۔ لیکن westren civilization مغربی تہذیب اور آزاد خیال اور بے راہ روی پر چلنے والےدزدیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ کیونکہ وہ اس بات سے خائف اور ڈرے ہوے ہیں کہ اسلامی کلچرل کہیں ہماری زندگیوں پر آشکارہ نہ ہو جاے۔ اور یہ دستور حیات اور یہ دین الاہی کی (reality ) حقانیت اور صداقت جب ان پر آشکاہ ہوتی ہے تو انکے کامیابی اور فتوحات کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ لیکن علامہ اقبال رح نے جو فرمایا۔ بے شک اللہ کے ذکر اور اسکے کائنات میں غور و فکر کرنا ، اور اسکی صداقت اور ربوبیت کو آشکارا کرنا، عبادات اور ریاضیات کرنا بہت خوش آئیند بات ہے۔ لیکن خانقاہی نظام اور اپنے ہی دائرہ کار میں رہکر دین کو مکمل سمجھنا اور دنیا و مافیہا سے علیحدہ ہوکر زندگی گذارنا رہبانیت اور دنیا و مافیہا سے غافل رہنے کے مترادف ہے۔ اسلام کا دائرہ اتنا ہی نہیں ہے ، بلکہ وہ ساری انسانیت کے بھلائ اور کامیابی کے لیے تخلیق پایا ہے۔ اللہ نے انسان کو ( talent ) صلاحیت عطا کی ہے۔ چنانچہ انسان نے چاند پر قدم رکھا ہے۔ اور چاند کی خاک کو چھانا ہے۔ سائنس اور ٹیکنا لوجی اور( modren science ) جدید ماڈرن سائنس کہیں زیادہ آگھے نکل گیا ہے۔ اور یہ یقینا خدا کے تخلیق کو آشکارہ کرتی ہے. لیکن آج ہم محدود دائرہ کار میں رہکر سمٹ گئے ہیں۔ اللہ نے تمام کائنات کو مومنوں اور اللہ کی وحدانیت کے ماننے والوں کی طفیل میں یہ دنیا کا آغاز اور اس کی( creation ) تخلیق کی۔ وہ قوم جس کو ساری دنیا کی قیادت اور رہنمائ کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ قوم جس کو دنیا میں عد ل و انصاف قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ وہ قوم جس کے پاس دنیا میں بہترین زندگی گذارنے کے لیے ایک ایسا جامع اور منظم خدائ دستور جو قرآن کی شکل میں دیا گیا ہے۔ جس میں دنیا کے ہر مسئلہ کا (solution ) رکھا گیا ہے۔ وہ کلام الاہی وہ خدائ دستور جو انسانو ں کے ذہنوں کو صاف و شفاف اور وہ قرآن کریم جس کا مقصد انسانوں کی مکمل ذہنی ارتقاء اور (mindfulness ) ذہن سازی کرکے ایسی( distination ) منزل مقصود کی طرف لیجانا چاہتی ہے۔ جہاں انسانوں کے کامیابی اور اور ان کے ہدایت و رشد کا مسکن ہو۔ وہ ذہن سازی جہاں انسان قرآن کے (message ) پیغام اور اس کے مقصد کو جو سمجھے وہ ہر چیز پر ترقی اور leadeship قائدانہ صلاحیت رکھتا ہے۔ جو لوگوں نے اس عظیم پیغام کو سمجھا مثلا خلفاء راشدین اور ان کے اصحاب جنہوں دستور اور قرآن کا عمیق اور گہرا مطالعہ کرکے اور اس پر مکمل عمل پیراء ہوکر ساری دنیا کو بتایا کہ دنیا میں leadership) and justice قائدانہ صلاحیت انصاف اور عدل کو کیسے رائج کیا جاے۔ اخوت و محبت کیسی کی جاے۔ معاشرتی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے میں خدا اور اس کے رسول کی مکمل (obey ) تابعداری کیسے ہو۔ معاشیات اور اقتصادیات کو مستحکم کرنے کے لیے کیا کیا جاے۔ ۔ یہی وہ اسلام ہے جس نے عورت کو وہ مقام عطا کیا ہے ، جو آج تک کسی دین یا مذہب نے عطا کیا ہو۔ آج جہاں انسان آزاد اور کھلی سانس لیکر جینا چاہتا ہے ۔ وہیں قرآن نے یہ بتا یا کہ ہر انسان اپنا اپنا مکلف ہے۔ یہ کہ وہ آزاد ہے۔ لیکن اس معنوں میں نہیں کہ وہ آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاے اور اللہ کے عذاب کا شکار بنے۔ اللہ اس چیز سے انسان کو روکتا ہے۔ اورقرآن کا یہ مقصد نہیں کہ وہ تم کو مقید یا پھر جسمانی تکلیف مقدر کرے۔ بلکہ قرآن اس انسانوں کے قلوب کو پاک اور ذہنوں کی صفائ کرتا ہے۔ جب ہمارے اور ہماری قوم کے پاس اتنا بڑا ( asset) اثاثہ ہو۔ اور بیش بہا قیمتی دستور حیات ہو۔ اور وہ پیغمبر اسلام جو ساری دنیا کے لیے (mercy) رحمت ہو۔ دنیا میں سب سے زیادہ لٹریچر ہو۔ جہاں جامعات ہوں ۔ پھر بھی ہمارا کوئ قائد یا رہنما نہ ہو۔ نہ ترجمان ہو یہ ایک عظیم المیہ ہے ۔ آبادی کے کے تناسب سے ہم بہتر اور تشفی بخش ہو۔ لیکن تعلیمی معیار میں سب سے پیچھے ہو۔ یہ ہماری قوم و ملت کا المیہ ہے۔ ہماری آبادی کا تناسب ملک عزیز میں توریبا 25 کروڑ ہے۔ اور ہمارے ایجوکیشن کا فیصد صرف تین یا چار ہے دیگر اقوام جو تعداد میں کافی کم ہیں۔ جیسے برہمن قوم کی آبادی 3 فیصد تو ان کا تعلمیی فیصد 86 ہے۔ یعنی مکمل تشفی بخش ہے۔ جو ایک تعلیمی میدان میں ایک انقلابی حیثیت رکھتا ہے۔ جس قوم کو ہر میدان میں پیش پیش رہنا تھا ۔ وہ قوم آج سب سے پیچھے اور پسماندہ ہوگئ ہے۔ جبکہ سب سے پہلے قرآن کریم نے علم سیکھنے کو کہا ہے۔ اور یہ کہ سب سے پہلے اللہ نے علم سے متعلق آیت نازل فرمائ۔ اس اعتبار سے ہماری قوم یعنی مسلمان کو علم میں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اور ہر انسان اپنے آپ کو بڑا اور اعلی سمجھنے لگا ہے۔ کوئ بھی چھوٹا بننا نہیں چاہتا۔ جس دن ہم اپنے آپ کو سیدھا اور درست کرلینگے ۔ تو ہم میں ایجوکیشنسٹ، سائنٹیسٹ ، (scholars )اچھے قائدین رہنما اور سیاست دان جنم لینگے۔ ہمیں دنیا کے ہر فلڈ میں اور ہر شعبہ میں بہتر سے بہتر کام کرنے کے لیے اس کے نکات کو سمجھنا ہوگا ۔ تب ہی ہمارے لیے آسان ہوگا۔ اس کی مثال اس سے بہتر نہیں ہوسکتی کہ ایک باپ نے اپنے بیٹے کو دنیا کا نقشہ بتایا۔ کہ یہ انگلینڈ ہے ، یہ جاپان ہے، یہ اسٹریلیا ہے۔ یہ ہندوستان ہے ۔ اور یہ افریقہ ہے۔ پھر اس نے اس نقشہ کو بے ترتیب کرکے بچے سے کہا کہ اب اس نقشہ کو درست کرلو۔ باپ نے سمجھا بس دو تین گھنٹے لگ جائینگے۔ لیکن بچہ نے نقشہ کے عقب میں ایک آدمی کی تصویر دیکھا تھا۔ پھر اس نے فورا آدمی کی تصویر برابر کردی اور اس طرح نقشہ اپنے آپ درست ہوگیا۔ بس اسی طرح ہمیں زندگی کے شعبوں میں اور زندگی کے ہر میدان میں اہم پہلوؤں کو سمجھنا ہوگا۔ کہ سیاست کیسے کی جاے۔ قائدانہ صلاحیت اور رہنما کیسے بنا جاے۔ اور یہ کہ تعلیمی میدان میں کیسے انقلاب لایا جاے۔ ایک سوکھا پتہ تالاب میں گرا، تالاب میں کوئ ہلچل ہوئ اور نہ کوئ لہریں اٹھی۔ اس بار تالاب میں پتھر گرا اور تالاب میں ہلچل ہوئ، اور لہریں اٹھی۔ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کسی میدان میں انقلاب لانے کے لئے صلاحیت اور وزنی ہونا ضروری ہے۔ بے وزنی لوگوں سے انقلاب نہیں آتے۔ جس طرح ایک ہلکے اور سوکھے پتہ سے تالاب میں کوئ لہر نہیں اٹھی۔ اور وزنی پتھر گرنے سے ایک ہلچل سی پیدا ہوگئ۔ اب ہمیں صرف بغدادی قائدہ نورانی قائدہ گلستاں اور بوستاں اس درس نظامی کی حد تک ہی محدود رہنا نہیں ہے۔ بلکہ عصری علوم و فنون کے حصول کو لازمی جز سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ باہر کی دنیا میں کیا تبدلیاں رونما ہورہی ہیں۔ آپ کے ساتھ کیا سازشیں ہوری ہے۔ جاننا ضروری ہے۔ ہمارے بہت سارے اہل علم کو یہ بھی نہیں معلوم کہ مسئلہ فلسطین کیا ہے۔ اور کیسے وقوع میں آیا ہے۔ اور اس کا جغرافیہ کیا ہے۔ ہمارے ایک دوست بتاتے ہیں کہ میں ایک جگہ روس کے تعلق سے گفتگو کر رہا تھا۔ کہ ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا روس ہندوستان میں ہے ؟ یہ ہماری قوم و ملت کا المیہ ہے ۔ علم کا سیلاب ہم تک آرہا ہو۔اور ہم اس سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں ۔ ہم میں کچھ مزید خامیاں ہیں ۔ جس کا سد باب بہت ضروری ہے۔ آپ کتنی بھی تعلیم حاصل کرلیں اور وقت کے علامہ بن جاے لیکن آپ میں کبر نفس ہو تو آپ قوم و ملت کے لیے خیر کا باعث نہیں بن سکتے۔ البتہ اللہ کے عذاب کے مستحق ضرور ہو سکتے ہیں۔ ہماری خامی یہ بھی ہے کہ ہم (character assination ) کسی باصول شخص کو چھوٹا دکھانے میں کسر نہیں چھوڑتے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے