कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

واجد اختر صدیقی کی وجد آمیز ’نقش تحریر‘

از: ڈاکٹر سلمان عبدالصمد
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ٔاردو خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی، گلبرگہ کرناٹک
موبائل نمبر:9810308692

واجد اختر صدیقی فعال،ملنسار اور ماہر قلم کار ہیں۔ ان کی فعالیت سے زمانہ واقف ہے۔ ان کی ملنساری کے ہم سب گواہ ہیں۔ قلمی مہارت کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے ان کی تصانیف کافی ہیں۔”نشانات سہروردی“ کے بعد واجد اختر صدیقی نے ” نقش تحریر “ میں اپنے تقریباً پچاس مضامین کو یکجا کردیا ہے۔ طباعتی زیور سے آراستہ ہونے والا یہ مجموعہ ¿ مضامین گویا ”نشانات واجدی“ ہے۔
پیش نظر کتاب ” نقش تحریر “ کے مضامین میں متعدد رنگ واضح ہوتے ہیں۔ کسی میں وہ ناقد نظر آتے ہیں تو کسی میں مبصر ، تو کسی میں ناقد ومبصر دونوں! ان کے کئی مضامین میں تاریخی حسیت اپنی اہمیت درج کراتی ہے تو کسی میں تعارفی نقطہ ¿ نظر۔ اس لیے ہم واجد اختر صدیقی کے رنگا رنگ مطالعاتی سروکار کے قائل ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی تحریریں ہمیں قائل کرتی ہیں اور مائل بھی۔ یہی سبب ہے کہ ان کے کسی ایک مضمون کی قرا ¿ت کے بعد ہم دوسرے مضمون کی طرف خود بہ خود ہم مائل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ واجد اختر صدیقی کے چھوٹے چھوٹے جملوں میں تحیر آمیزی پائی جاتی ہے اور فکشن کی طرح تجسس خیزی بھی۔ انھوں نے موضوعاتی مضامین کم لکھے ہیں۔ اس مجموعے میں شخصی مضامین کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کے شخصی مضامین میں ایک طرح سے ” بائیو فکشن “ کا گمان گزرتا ہے۔ کیوں کہ وہ صاحب کتاب ( متعلقہ کتب )کا تعارف دل کش انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے اندازِ پیش کش میں دقت نظری، خاکے کی حسیت اور تنقیدی بصیرت نظر آتی ہے ۔
راقم نے اس کتاب کے تقریباً ڈیڑھ درجن مضامین کا انہماک سے مطالعہ کیا ہے۔ مطالعے کے بعد پانچ باتیں بہت واضح طور پر سامنے آتیں :
اول: شوقِ مطالعہ
دوم: علاقائیت وآفاقیت
سوم: اختصار وارتکاز
چہارم: خلوص ووجد
پنجم : اعتدال ومعیار
ذیل میں ہم ان ہی پانچ امور کے مدنظر پیش نظر کتاب ” نقش تحریر “ پر لب کشائی کریں گے۔ کیوں کہ ان نکات کے محور پر پوری کتاب گردش کرتی ہے ۔
بلاشبہ آج کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے اور ہنوز قارئین کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ۔ اس صورتِ حال میں واجد اختر صدیقی کا پچاس کتابوں /شخصیتوں کا مطالعہ ہمیں پُرامید کرتا ہے، اور یہ احساس دلاتا ہے کہ چراغوں میں تیل کم ہوا مگر اب بھی اتنا ضرور باقی ہے جس سے مطالعے کا مستقبل روشن ہوسکے گا۔” نقش تحریر “ کو سامنے رکھنے سے دو طرح سے ہم حیرت واستعجاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اول ، یہ کہ ایک نوجوان اتنی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کرتا ہے۔ دوم، وہی فرد ان کتابوں کے مشمولات اور موضوعات کی تشریح وتعبیر کرتا ہے۔یہ امرواقعی قابل تعریف ہے کہ واجد اختر صدیقی کب پڑھتے ہیں اور مستقل مزاجی سے کیسے لکھتے ہیں! شوقِ مطالعہ کا یہ معاملہ جہاں اپنے آپ میں قابل قدر ہے، وہیں نوجوان ادیبوں کے مشعل راہ بھی۔ کیوں کہ پڑھنے والے پڑھ جاتے ہیں۔ لکھنے والے لکھ جاتے ہیں اور واجد اختر صدیقی کی طرح درجنوں کتابوں اور ادیبوں سے ہمیں روبرو کراجاتے ہیں۔بلاشبہ یہ کتاب مطالعاتی نظام میں درس عبرت ہے۔ واجد اختر صدیقی درس وتدریس سے وابستہ ہیں ۔ پھر ان کی فعالیت؛ بزموں میں نور وروشنی پیدا کردیتی ہے۔ ان سب کے علاوہ ذاتی تقاضے اور خانگی ذمے داریاں ،اور قلم کی یہ جولانیاں ، سبحان اللہ !
بلاشبہ انسانی ذہنوں میں آفاقی معاملات کے متعلق بہت کچھ موجود ہوتا ہے، اور انسان آفاقی بن جانا بھی چاہتا ہے۔ اس کے متعلق تگ ودو کرتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ علاقیت کی پگڈنڈیوں کے سہارے ہی ہم آفاقی شاہ راہوں تک پہنچتے ہیں۔ حالاں کہ اس سچائی کو بہت سے افراد فراموش کرجاتے ہیں۔ واجد اختر صدیقی نے اپنی ادبی راہوں میں علاقائیت اور آفاقیت کے سنگ میل لگائے ہیں۔ انھوں نے گلبرگہ اور اس کے اطراف کے ادیبوں پر زیادہ توجہ دی ہے۔ گویا وہ آفاقیت اور علاقائیت میں ایک طرح سے تال میل بٹھانا جانتے ہیںاور انھیں معلوم ہے کہ مٹی کا قرض اتارے بغیر کوئی فرد آفاق سے رشتہ نہیں جوڑ سکتا ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ واجد اختر صدیقی کتابوں کے مطالعے میں اختصار وارتکاز سے کام لیتے ہیں۔ وہ نہ صرف کتابوں کو پڑھتے ہیں بلکہ شخصیات کا باریکی سے مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ گویا ان کے اندر ایسی قوت موجود ہے کہ وہ شخصیات اورکتب کو تول لیتے ہیں اور اختصار کے ساتھ ان کے متعلق اظہار خیال کرلیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کے یہاں اختصار کی کیفیت ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے۔ رہی بات ارتکاز کی تو عموماً اِسے افسانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ وہی مضمون جامع ہوسکتاہے جس میں ارتکاز کا عمل نظر آئے۔ بکھراو ¿ سے جس طرح ایک افسانہ کمزور ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک مضمون بھی۔ لفظ” مضمون “اور لفظ ” افسانہ“ پر غور کرنے سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ افسانہ کے مقابلے مضمون میں ملانے اور جوڑنے والی معنویت زیادہ پائی جاتی ہے ۔اس لیے جو مضمون بکھراو ¿ اور غیر ضروری طوالت کا شکار ہوجائے، اس کے ادبی مقام کے متعلق ہم خود سمجھ سکتے ہیں۔ واجد اختر صدیقی کے مضامین میں بکھراو ¿ کی کیفیت نظر نہیں آتی۔ وہ کتب اورشخصیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اہم امور کو ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کے مضامین میں دل چسپی پیدا ہوجاتی ہے اور تجسس آمیزی بھی ۔
واجد اختر صدیقی کے مضامین میں خلوص کا جذبہ پایا جاتا ہے ۔ وہ کتابوں پر ”ہلابول“ کی روش اختیار نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ انہماک سے پڑھتے ہیں اور خلوص کے ساتھ اپنی رائے کااظہار کرتے ہیں۔ اسلوبیاتی سطح پر ان کے جملوں میں نرمی پائی جاتی ہے۔ گویا واجد اختر صدیقی ہر مصنف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی محنتوں اور مشقتوں کا احترام کرتے ہیں۔ احترام کا یہی پہلو جب عروج تک پہنچتا ہے تو وجد آفرینی کا احساس ہوتا ہے۔ گویا وہ کتابوں کے مباحث سے سرسری نہیں گزرتے بلکہ لفظوں کو ٹٹولتے ہیں۔ جملوں کو محسوس کرتے ہیں۔اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے مقاصد کا احترام کرتے ہیں۔
سب سے اہم نکتہ جو ان کے مضامین سے ہاتھ آتا ہے،وہ یہ ہے کہ وہ متعدل رویوں کے ساتھ جملے تخلیق کرتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ ان کی لفظیات میں غضب ناکی نہیں ہوتی ہے۔ انتہائی سلجھے انداز میں وہ کتابوں کے پیچیدہ مسائل کو سلجھاتے ہیں اور قارئین کو ہم خیال کرتے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہاں اعتدال کی کیفیت ہوتی ہے،وہاں معیار کا مسئلہ ازخود سامنے آتاہے۔ گویا واجد اختر صدیقی اپنی تحریروں میں معیار واعتدال سے رشتہ نبھاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی تحریروں میں شگفتگی پیدا ہوجاتی ہے ۔
الغرض پیش نظر کتاب ” نقش تحریر“ تنقیدوتبصرے کے لحاظ سے اہم ہے اور علاقائیت وآفاقیت کے تناظر میں قابل قدر۔ اختصار وارتکاز کے پس منظر میں دل چسپ ہے اور خلوص ووجد کے باب میں دل کش۔ اسی طرح اعتدال ومعیار کے پہلو سے بھی پرکشش! بلاشبہ ناقدانہ اور عالمانہ شعار کے لیے واجد اختر صدیقی ہم سب کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے