कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اور صبح ہوگئی

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

سال 2020 ء ۔۔۔۔مارچ کا مہینہ ،۔۔۔کرونا کی بیماری ۔۔ اور حکومت نےکہا ۔۔۔۔(complete lock down)
اب اس لاک ڈاؤن میں کیا کیا جائے؟؟؟
ہمارے ان پاکستانی بھائی بہن کا شکریہ کہ انھوں نے ہمیں ترکی کے مشہور و معروف اور مقبول ترین سیریز ارطغرل غازی کا اردو زبان میں ترجمہ پیش کیا،کہیں سب ٹائٹل تو کہیں ڈبنگ!! لاک ڈاؤن جیسی مصیبت میں بیزار ہو رہے ہم نے ارطغرل غازی کی ابتدا ء کی ۔۔۔۔۔
پہلے پہل تو بہت اچھا لگا ،لیکن جب نویان جیسے دشمن نے اس میں قدم رکھا ہم نے تو اسی پل ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ٹھان لی تھی۔۔۔
رات کا وقت تھا ہم گھر کے تمام افراد لاک ڈاؤن کے بے کار ، ارطغرل غازی سیریز دیکھنے میں مصروف تھے، ایک جانب وہی ارطغرل غازی کی ہمت ،بلند ترین حوصلہ،اور اس کی مکمل امید، تو دوسری جانب نویان جیسے طاقتور ظالم دشمن کا ظلم ۔۔۔ رات کافی ہوچکی تھی ۔ تقریباً دو بج چکے تھے ۔نہ اگلے دن کوئی منصوبہ تھا نہ ہی جلد جاگنے کی فکر ، لیکن ان دنوں لڑکیوں یا عورتوں کے کام میں اضافہ ہو گیا تھا ، یہ الگ بات ہے کہ کہیں مرد حضرات نے ان کے کام میں ضرور ہاتھ بٹایا تھا ،لیکن امی جان نے نہ ہی والد صاحب سے مدد لی نہ ہی بھائیوں کو تکلیف دی ، ان کی خودداری کی مثال ان دنوں کھل کھل کر عیاں ہو رہی تھی ،لیکن ماں کی مدد ایک بیٹی ہی کیا کرتی ہے!! غرض مجھے بہت نیند آنے لگی ،لیکن کوئی پلک بھی جھپکنے کو تیار نہ تھا، میری آنکھیں بند ہورہی تھیں ، کمپیوٹر میں ڈرامہ جاری ہی تھا ،میں وہاں سے اٹھی اور بستر پر لیٹ گئی۔۔
میں نے دیکھا کہ اب تو میں خوفناک سے ایک بڑےمیدان میں خوف کے مارے بھاگے جارہی تھی ،ایک تو ہاتھ میں تلوار تھی ،جس کے بوجھ کے سبب میں تیزی سے دوڑ نہیں ہاری تھی۔۔۔ میں نے تلوار نکال ہی پھینکی اور تیز دوڑنے لگی۔دوڑتے دوڑتے میں ایک غار نما جگہ پر پہنچ گئی،پہلے کچھ سکون کا سانس لیا، اور اللہ اللہ کہنے لگی،
ابھی کچھ لمحہ ہی گزرا تھا کہ غار کے اندر سے بہت سارے منگول فوج ،چیونٹیوں کی مانند رونما ہوئے ان کی تعداد کو میں گن بھی نہ پائی،
وہ ایک مخصوص سی آواز میں شور مچاتے ہوئے میرے آس پاس منڈلانے لگے،اسی کشمکش میں مبتلا میرے ذہن کوپتہ چل گیا کہ ضرور یہ نویان ظالم کی ہی فوج ہے!! ہم نے بھی ارادہ کیا کہ ضرور اس دشمن ظالم کے ظلم سے عوام کو بچائیں گے،اور اگر تھوڑا بھی ظلم ہورہا ہو تو اسے ضرور روکیں گے، تاکہ ظلم بڑھنے نہ پائے۔۔
اسی وقت ڈرامہ کا ڈائیلاگ یاد آگیا سوچا موت بھی ہوتی ہے تو شہید کہلائے جائیں گے،اگر ہم نے فتح حاصل کی اور جیت گئے تو غازی!!
اچانک کوئی طاقتور ،غصیلے آنکھوں والا انسان نظر آیا ، اس کے ہاتھ میں تلوار تھی،اور وہ کچا گوشت چباتے ہوئے کسی شیطانی عمل میں مصروف تھا،،ہم ٹھہرے اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے نافرمان ،گنہہ گار ، سیہ کار،۔۔۔ اس شیطانی عمل کو روکنے کے لیے کچھ ذکر ورد کرنا چاہتے تھے،سوچا لا حول ولا قوۃ  ہی پڑھ لیا جائے! آیت الکرسی کا یاد آنا تو بہت دور ،، اللہ کا نام بھی لیتے نہ بنا،وہ ہٹا کٹا انسان قریب آنے لگا ،ہم ڈرنے لگے ،لیکن اس سے اپنے خوف کا اظہار ہرگز نہیں کیا،،وہ قریب آتا گیا ،لاکھ کاوشوں بعد ایک مرتبہ اس وزنی زبان سے اللہ کی آواز نکلی ،وہ پیچھے ہوا، لیکن کچھ دیر بعد وہ ہمارے مزید قریب ہوگیا،ہم سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگا ،مسلمان ہو؟؟؟ہم بے ساختہ کہہ پڑے ہاں ہم مسلمان ہیں۔۔ کم سے کم دین سے دوری نے اتنا تو نہ بھلایا کہ ہم مسلمان ہی ہیں!!!
اس شخص کو ہم پہچان گئے وہ نویان ظالم ہی تھا۔۔ اس نے تلوار نکالی ،ہوا میں اچھالی، گول گول گھومنے لگا کبھی خود رقص کرتا کبھی تلوار کو نچاتا۔۔
یکایک نویان نے ہماری گردن پر تلوار رکھی ،کہا میری اطاعت قبول کرو گے؟ ہم نے گردن ہلا کر اپنے انکار کا اظہار کیا،ہم نے اپنی تلوار تو پھینکنے کی غلطی کر ہی ڈالی تھی،اب کوئی راستہ نہیں تھا،لیکن ہم نے یاد کیا کہ ارطغرل غازی کا جاں نشیں تلوار کے بغیر بھی ایک دفعہ جنگ کے میدان میں کود پڑا تھا،ہم نے ہمت کی اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھین ہی رہے تھے کہ اس نے ایک لمحہ بھر میں ہماری گردن کاٹ ڈالی ، ہم زوروں چیختے ہوئے جاگ گئے ۔۔۔
اور صبح ہوگئی!!!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے