कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اقبال کا شاہین نوجوان‎

از قلم :- عبدالکریم اشعر
اردھاپور، ناندیڑ،مہاراشٹرا

ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی.
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی.”
نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں . کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں اس قوم کے نوجوان کلیدی کردار ادا کرتے ہیں . فی زمانہ امّت مسلمہ جس زبوں حالی اور انحطاط کا شکار ہے اس کی ایک بڑی اور اہم وجہ ہمارا عمل سے عاری مسلمان نوجوان ہے .
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا خدا فریبی کہ خود فریبی.
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ.”””
آج ہمارا نوجوان بے مقصد زندگی گزار رہا ہے .اس کی فکر محدود ہوگئی ہے اور ذھن جمود کا شکار ہے .ایسے میں اس فکری سکوت اور ذہنی جمود کو دور کرنے کے لئے کلام اقبال بہترین طریقہ علاج ثابت ہو سکتا ہے .
یوں تو اردو شاعری میں کئی شاعر ہوئے ہیں لیکن جو مقام حکیم الامّت شاعرِ اسلام ڈاکٹر علامہ سر محمّد اقبال کو ملا وہ مقام کسی اور کو نہیں ملا .
اسلامی نشاتہ الثانیہ اور بیدارئ امّت علامہ کی شاعری کی امتیازی خصوصیت ہے بالخصوص نوجوان ،اقبال کی شاعری کا مرکزی موضوعِ سخن ہیں . علامہ نے مسلمانوں کے زوال کے
اسباب پر گہرا غور کیا تھا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کے مسلمانوں کی بے عملی مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے، وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اس بے عملی سے باز آجا ئیں ایک آگ تھی جو اقبال کے سینے میں جل رہی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ اس آگ کی حرارت امّت کے ہر نوجوان تک پہنچے.
نوجوانوں کو میری آہِ سحر دے.
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے.
خدایا میری آرزو یہی ہے.
میرا نور بصیرت عام کر دے .”””””
اقبال خوابِ غفلت میں سوے ہوئے نوجوان کو جگانے کے لئے اسے اپنی شاندار تاریخ یاد دلاتے ہیں .
کبھی ائے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے .
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا .”
کیوںکہ اقبال جانتے تھے کہ یہ نوجوان ھی ہوتے ہیں جن کے بیدار ہو جانے پر قوموں کے تن مردہ میں نئی جان پڑ جاتی ہے .
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں .
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں .””
اقبال نےنوجوان کو شاہین سے تعبیر کیا ہے.ایک ایسا پرندہ جو اپنی اونچی پرواز کے لئے جانا جاتا ہے .
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا.
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں .”
اقبال چاہتے تھے کہ امّت کا ہر نوجوان شاہین بنے ،ایسا شاہین جس کی پرواز آسمان کی وسعتوں کو چیر دے، جو دور اندیش ہو ، خوددار ہو ،جو اپنے لئے جہان تازہ تلاش کرے .
جو مشرق سے مغرب تک اپنی بلند پرواز سے جہاں کو تسخیر کر لے .
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر.
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں”
درویشی، خودداری، اور بے نیازی اس پرندے کی نمایاں خصوصیات ہیں .اقبال چاہتے تھے کہ ان کے شاہین نوجوان بھی ان خصوصیات سے متصف ھوں .
پرندوں کی دنیا کا درویش ھوں میں.
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ.”
اقبال اپنے شاہین صفت نوجوان کے کردار سازی پر بھی زور دیتے ہیں .کیونکہ یہ کردار ھی ہوتا ہے جو بلندی عطا کرتا ہے .
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا.
شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری .”
دور حاضر کے دگر گوں حالات یقیناً سازگار نہیں ہیں بالخصوص نوجوانوں کے لئے لیکن مایوسی اور نا امیدی کفر ہے خدا سے امید رکھنا مرد مومن کے لئے لازمی ہے .
نہ ہو نومید،نو میدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں .”
یقیناً ھم مشکل حالات سے گزر رہے ہیں . لیکن اس امّت کی شاندار تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اس امّت کے نوجوان اپنے عزم و حوصلے لے کر اٹھے ہیں نصرت خداوندی نے ان کے قدم ضرور چومے ہیں ،اور اسلام نے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک کر نگاھوں کو خیره کیا ہے .بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اقبال کے اس شاہین نوجوان کو بیدار کیا جائے اور اس کے اندر وہ شاہین والی صفات پیدا کی جائیں تو پھر انشاء اللّه بات بنے گی بقول علامہ اقبال .
نہیں ہے نو امید اقبال اپنی کشت ویراں سے .
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی .

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے