कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ماضی کا فخر، حال کا اندھیرا: اب کیا کریں؟

7355097779

یہ وقت سوچنے کا نہیں، بلکہ سنبھلنے کا ہے۔ یہ لمحہ محض تجزیے اور تبصرے کا نہیں، بلکہ خوداحتسابی کا ہے۔ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تعلیم، سیاست اور مذہب؛ تینوں اپنی اصل روح سے دور ہو چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب علم کردار بناتا تھا، سیاست خدمت کا وسیلہ تھی اور دین زندگی کی رہنمائی کا نام تھا۔ آج یہ تینوں میدان گویا طاقت کی ہوس، ذاتی مفادات اور سطحی جذبات کا کھیل بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ مضمون ایک الزام نامہ نہیں، بلکہ ایک دستک ہے — ضمیر کی دہلیز پر۔
تعلیم کی بات کریں تو سب سے پہلے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا ہم تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا صرف سندیں جمع کر رہے ہیں؟ تعلیم وہ عمل ہے جو انسان کے ذہن کو روشن کرتی ہے، اس کے خیالات کو وسعت دیتی ہے، اور اسے معاشرے کا ذمے دار شہری بناتی ہے۔ لیکن آج ہمارا تعلیمی نظام بظاہر ترقی کی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت وہ تخلیق، تنقید اور تحقیق سے خالی ہے۔ ڈگری یافتہ نوجوانوں کی ایک فوج تیار ہو رہی ہے جو ملازمتوں کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے، اور جب انہیں روزگار نہیں ملتا تو وہ مایوسی، انتہا پسندی یا ہجرت کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔
اس تعلیمی بحران کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ تعلیم اب صرف فنی مہارت تک محدود ہو چکی ہے۔ اقدار، اخلاق اور سماجی شعور تعلیم کا حصہ نہیں رہے۔ استاد کا مقام اب محض معلومات فراہم کرنے والے کا بن کر رہ گیا ہے، رہبر و مربی کا نہیں۔ نصاب میں وہ عناصر شامل نہیں جو نوجوانوں کو سوچنے، سوال کرنے اور سمجھنے کا سلیقہ سکھائیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایسے نوجوان تیار کر رہے ہیں جن کے پاس الفاظ تو ہیں، مگر فکر کی روشنی نہیں؛ جذبات تو ہیں، مگر اخلاقی بصیرت نہیں۔
یہ تعلیمی کمزوری جب سیاسی میدان سے ٹکراتی ہے تو حالات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ سیاست کا مطلب اصولوں پر قائم رہنا، عوام کی خدمت کرنا اور ملک کو بہتر سمت میں لے جانا ہوتا تھا۔ لیکن آج سیاست ایک ایسا کھیل بن چکا ہے جس میں طاقتور جیتتا ہے، سچائی ہارتی ہے، اور عام آدمی پستا ہے۔ آج کے بیشتر سیاستدان نہ تو نظریاتی ہیں، نہ اخلاقی۔ وہ صرف انتخابی کامیابی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ وہ عوام کے جذبات کو ابھارنے کے لیے مذہب، زبان، ذات، علاقائیت جیسے ہتھیار استعمال کرتے ہیں، اور اقتدار میں آکر انہیں بھول جاتے ہیں۔
سیاسی کمزوری صرف عوامی نمائندوں کی سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے جمہوری اداروں کو بھی کھوکھلا کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث کا معیار گر چکا ہے، پالیسی سازی کی بنیاد رائے عامہ کے بجائے سرمایہ داروں کے مفادات پر رکھی جا رہی ہے۔ نوجوان، جو کل کے قائد تھے، آج سیاسی بے یقینی کا شکار ہیں۔ ان کے پاس کوئی نظریہ نہیں، کوئی مقصد نہیں، سوائے اس کے کہ کسی طرح اقتدار کے قریب پہنچا جائے۔
یہ دونوں کمزوریاں — تعلیم کی بے روحی اور سیاست کی مفاد پرستی — جب دینی زوال سے ملتی ہیں تو ایک ایسا سماج جنم لیتا ہے جو نہ صرف اپنی شناخت کھو دیتا ہے بلکہ دوسروں کی شناخت کے خلاف نفرت پالنے لگتا ہے۔ دین، جو کہ اتحاد، اخوت، رواداری اور انصاف کا پیغام دیتا ہے، آج مختلف گروہوں کے بیچ تفرقے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ مذہب کا استعمال دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کے لیے ہو رہا ہے۔ دین، جو اخلاقی پختگی اور روحانی سکون کا سرچشمہ ہے، آج بہت سی جگہوں پر محض رسموں، رواجوں اور فرقہ وارانہ جذبات کا نمائندہ بن کر رہ گیا ہے۔
اسی دینی زوال کی ایک جھلک ہمیں حال ہی میں ایک ٹی وی ڈیبیٹ کے دوران دیکھنے کو ملی، جہاں چند لوگوں کی غیر علمی اور غیر مدلل گفتگو نے دین کی وقار اور علمی مزاج پر سوال کھڑے کر دیے۔ ایک نو عمر عالم دین، جو سادگی اور سچائی کے ساتھ حق بات کہہ رہے تھے، انہیں ایک شخص، اپنے آپ کو مفتی کہنے والے نے محض انا اور تعصب کی بنیاد پر جھڑک دیا۔ وہ بھول گئے کہ وہ کس پلیٹ فارم پر بیٹھے ہیں، اور سماج انہیں سن رہا ہے۔ اس طرح کے رویّے سچ اور مدلل بات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور علم کے بجائے جذبات کی تجارت کو فروغ دیتے ہیں۔ سستی شہرت کی خاطر غلط بیانی اور دوسروں کی تذلیل نہ صرف دین کے مزاج کے خلاف ہے بلکہ سماج کو گمراہی کی طرف بھی لے جاتی ہے۔ حق سننے کی طاقت سب سے بڑی بہادری ہے، اور جو شخس اس طاقت سے محروم ہو جائے، وہ جلد یا بدیر زوال کا شکار ہوتا ہے۔
آج دین کی تعلیم صرف مخصوص اداروں تک محدود ہو گئی ہے، اور وہ بھی اکثر ایک خاص نقطۂ نظر کو غالب کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ عام مسلمان دین سے رشتہ رکھنے کے باوجود دین کی اصل روح، یعنی اعتدال، برداشت، محبت اور قربانی سے بے خبر ہے۔ جب دین سے علم کا پہلو نکال دیا جائے اور اسے صرف نعرے یا جذباتی مظاہروں تک محدود کر دیا جائے تو وہ اپنے ماننے والوں کو سنوارنے کے بجائے بگاڑنے لگتا ہے۔
یہ تمام پہلو مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جو نہ صرف اندر سے کمزور ہے بلکہ باہر سے خطرات کا شکار بھی۔ جب تعلیم رہنمائی نہ کرے، سیاست خدمت نہ کرے، اور دین اصلاح نہ کرے تو قومیں صرف ماضی کا فخر لے کر حال کا ماتم کرتی رہتی ہیں۔ ہم اس خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر طرف الجھن، غصہ، خوف اور مایوسی ہے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہم ہو جاتا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟
ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنے بچوں کو صرف اچھا کمانے والا انسان بنانا ہے یا اچھا انسان بنانا ہے؟ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو صرف کمپیوٹر اور مینجمنٹ سکھا رہے ہیں یا انہیں انسانیت، انصاف اور ذمہ داری کا شعور بھی دے رہے ہیں؟ کیا ہم سیاست کو صرف الیکشن جیتنے کا ہنر سمجھتے ہیں یا عوام کی خدمت کا عزم؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم دین کو صرف عبادات کا مجموعہ مانتے ہیں یا اسے ایک مکمل ضابطۂ حیات سمجھتے ہیں؟
جو قومیں ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتیں، وہ صرف تاریخ کے صفحات میں گم ہو جاتی ہیں۔ ہمیں وہ راستہ چننا ہے جو نہ صرف ترقی کی طرف لے جائے بلکہ انسانیت، انصاف اور رواداری کا چراغ بھی روشن رکھے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں اخلاقی تربیت کو شامل کرنا ہوگا، سیاست میں شفافیت اور اصول پسندی کو فروغ دینا ہوگا، اور دینی شعور کو علم، عقل اور محبت کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
یہ کام آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ ہمیں آغاز اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔ ہر استاد کو، ہر طالب علم کو، ہر سیاست دان کو، ہر مذہبی رہنما کو اور ہر شہری کو اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ ہم سب کو مل کر ایک ایسا سماج تشکیل دینا ہوگا جو اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے، سوال کو گستاخی نہ کہے، اور اصلاح کو بغاوت نہ مانے۔
آج کا وقت ہمیں للکار رہا ہے۔ تاریخ ہمیں پکار رہی ہے۔ یہ وقت کرنے کا ہے، صرف کہنے کا نہیں۔ یہ وقت ہے علم کو روشنی بنانے کا، سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنانے کا، اور دین کو اصلاحِ نفس کا راستہ بنانے کا۔ یہی وہ راہ ہے جو ہمیں تباہی سے بچا کر تعمیر کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اگر ہم اب بھی نہ سنبھلے، تو نہ ہمارے پاس کوئی تعلیمی سرمایہ بچے گا، نہ سیاسی وقار، نہ دینی استحکام۔ صرف ماضی کے قصے ہوں گے اور حال کا اندھیرا۔ لیکن اگر ہم نے ایک اجتماعی عزم کے ساتھ قدم اٹھایا، تو اندھیرا چھٹے گا، روشنی آئے گی۔ اور تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے وقت کی پکار کو سنا، سمجھا، اور اس پر عمل کیا — تو شاید یہی عمل کل کی تاریخ میں ہمارا روشن باب بن جائے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے