कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نوجوان نسل کی رہنمائی وقت کا تقاضہ

تحریر: پروفیسر عزرا بانو
پرنسپل ناری شکشا نکیتن پوسٹ گریجویٹ کالج، لکھنؤ

اکیسویں صدی کا آغاز جہاں ٹیکنالوجی، تعلیم اور ترقی کے غیر معمولی ادوار کا غماز ہے، وہیں یہ صدی ایسے نفسیاتی، سماجی اور فکری بحرانوں کی بھی گواہ ہے جنہوں نے خاص طور پر نوجوان نسل کو ایک گہرے فکری گرداب میں دھکیل دیا ہے۔ یہ دور بلاشبہ مواقع سے بھرپور ہے، لیکن انہی مواقع کے ساتھ ایسے چیلنجز بھی وابستہ ہیں جن سے نمٹنے کے لیے صرف علم یا ہنر کافی نہیں، بلکہ بصیرت، اخلاق، اور رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔
آج کا نوجوان ذہین ہے، تیز فہم ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی دنیا سے جڑا ہوا ہے، اور بیک وقت کئی زبانوں، ثقافتوں اور رجحانات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہی نوجوان ایک غیر یقینی، پرتشویش، اور بے سمت دنیا کا سامنا بھی کر رہا ہے۔ اس کے سامنے مستقبل کی راہیں روشن ہونے کے بجائے دھند آلود دکھائی دیتی ہیں۔ انٹرنیٹ کی بے پناہ وسعت نے جہاں معلومات تک آسان رسائی فراہم کی ہے، وہیں فکری خلفشار اور نفسیاتی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔
تعلیمی ادارے جو کبھی طالبعلم کی شخصیت کو سنوارنے، اس میں قائدانہ صلاحیت پیدا کرنے، اور اسے قوم کا معمار بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے تھے، اب اکثر مقامی و عالمی دباؤ، تجارتی مفادات، اور انتظامی مسائل کے باعث محض امتحان گاہیں بن کر رہ گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو ڈگری تو مل جاتی ہے، لیکن زندگی کے اصل میدان میں قدم رکھنے کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے۔
موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ نوجوان نہ صرف اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں، بلکہ انہیں شناخت کا بحران بھی درپیش ہے۔ وہ اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ وہ کون ہیں، ان کا مقصد کیا ہے، اور وہ کس سمت میں جا رہے ہیں۔ اس کا سبب وہ مسلسل بدلتا ہوا سماجی و تہذیبی ماحول ہے جہاں روایات اور جدیدیت کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے۔ گھر، معاشرہ، میڈیا، اور عالمی رجحانات ہر سمت سے نوجوان پر مختلف قسم کے نظریات اور مطالبات کا دباؤ ڈالتے ہیں۔
ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ ہم نوجوانوں کی رہنمائی کیسے کریں؟ ان کے حوصلوں کو کیسے سنواریں؟ انہیں بامقصد زندگی گزارنے کا شعور کیسے دیں؟ جواب سادہ نہیں، لیکن نا ممکن بھی نہیں۔ سب سے پہلے ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ نوجوان صرف قوم کا مستقبل نہیں بلکہ حال بھی ہیں۔ ان کی بات سننا، ان کے خیالات کو اہمیت دینا، ان کی غلطیوں کو اصلاح کے مواقع میں بدلنا، اور ان پر اعتماد کرنا ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک روشن سماج کی تعمیر ممکن ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی ادارے صرف نصاب کی تکمیل تک محدود نہ رہیں بلکہ شخصی تربیت اور فکری رہنمائی کا مرکز بنیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے ساتھ محض رسمی تعلق نہ رکھیں، بلکہ ایک حقیقی رہنما اور مددگار کا کردار ادا کریں۔ جب ایک استاد اپنے طالبعلم پر اعتماد کرتا ہے، اسے سنجیدگی سے سنتا ہے، اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، تو وہ نوجوان خود بخود اپنی سمت متعین کر لیتا ہے۔
نوجوانوں کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف سائنسی یا فنی تعلیم نہیں، بلکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کی بھی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف مالی یا مادی ترقی کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے مفید ہونا، معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا، اور اپنے اندر خود احتسابی پیدا کرنا بھی کامیابی کی علامت ہے۔
آج کل ذہنی دباؤ، تنہائی، اضطراب، اور عدم اطمینان جیسے مسائل نوجوانوں میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس سننے والا کوئی نہیں۔ والدین مصروف ہیں، تعلیمی ادارے بوجھل، اور سماج بیحس۔ ایسے میں اگر ہم نوجوانوں کو اعتماد اور محبت دیں، ان کے جذبات کو سمجھیں، اور ان کے مسائل کو ہمدردی سے سنیں، تو ان کے دل و دماغ میں جو گٹھن ہے وہ ختم ہو سکتی ہے۔
اس دور میں ہمیں نوجوانوں کو صرف ہنر مند نہیں بلکہ حساس اور باشعور انسان بنانا ہوگا۔ ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، احترام کرنا، اختلاف کو برداشت کرنا، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا کتنی بڑی نیکی ہے۔ اگر یہ اوصاف نوجوانوں میں پیدا ہو جائیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے سماج کے لیے نعمت بن سکتے ہیں۔
نوجوان نسل میں چھپی ہوئی توانائی، صلاحیت اور تخلیقی قوت وہ سرمایہ ہے جسے ہم اگر درست سمت میں لگا دیں تو بہت سی معاشرتی و قومی مشکلات کا حل ممکن ہو جاتا ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف تنقید کا نشانہ نہ بنائیں، بلکہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے لیے مواقع پیدا کریں، اور ان کی فکری تربیت کریں۔ انہیں صرف کتابی علم نہ دیں، بلکہ زندگی کی اصل کتاب پڑھنا سکھائیں۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ نوجوان جب مثبت سوچتے ہیں تو وہ انقلاب برپا کرتے ہیں، لیکن جب وہ مایوس ہو جاتے ہیں تو معاشرے میں انارکی، بے سمتی، اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
آخر میں یہی کہنا کافی ہوگا کہ آج کا نوجوان صرف مسائل کا شکار نہیں، بلکہ ان مسائل کا حل بھی ہے۔ اگر ہم اس کی بات کو سنیں، اسے سمجھیں، اور اسے اپنی ذمہ داریوں کا شعور دیں تو وہ نہ صرف خود کامیاب ہوگا بلکہ سماج کی تقدیر بھی بدل سکتا ہے۔ نئی دنیا کے نئے چیلنجز کو قبول کرنا اور ان سے نبرد آزما ہونا اسی وقت ممکن ہے جب ہم نوجوان نسل کو امید، فہم اور رہنمائی کے نور سے منور کریں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے