कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بھانجے کی آپ بیتی

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

ان دنوں میرے بھانجے صاحب ہمارے گھر چھٹیاں منانے آئے تھے ، جن کی عمر آٹھ برس کی ہے۔ اور ہماری بہن نے سختی سے کہا کہ،اس کی پڑھائی کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے، اور شہزادے صاحب کو پڑھنا لکھنا، اور ہوم ورک ، جیسی چیزوں سے کوئی لینا دینا نہیں !!!
ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی آپ بیتی پر ہی اک مضمون لکھا جائے۔
وہ اپنے آپ کو اصولوں کی گرہ میں قید سمجھتا ہے۔۔۔ اس کی آپ بیتی سماعت فرمائیے!!!
میرا نام محمد زید ، میں چند دنوں نانی جان کے یہاں رہنے آیا ہوں، اور میں اپنی آپ بیتی سنا رہا ہوں۔۔۔۔میرے نانیال جانے کا مقصد کچھ اور تھا کہ نانی کے گھر موبائل فون استعمال کرنے کا بھرپور موقع ملے گا اور سنا تھا لوگ ننیال موج و مستی اور سیر سپاٹے کے لیے جاتے ہیں ،لیکن یہاں تو بات بالکل مختلف ہے ۔ ان لوگوں کو شاید غلط فہمی ہوئی ہے، یہ سمجھتے ہیں کہ میں پڑھنے کے لیے آیا ہوں۔۔۔۔ میرے ماما، نانی ، اور میری دیدی تو ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے کہ کل کو مجھے نیوٹن یا آئینسٹائن بننا ہے۔ یوں تو وہ میری دیدی نہیں ہے، چھوٹی خالہ ہے، (خالہ )اس لفظ سے مخاطب کروں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں کوئی دیہاتی ہوں ، آنٹی کہتا ہوں تو وہ ناراض ہوجاتی ہے، لہٰذا دیدی سے مخاطب کرتا ہوں!!!اچھا تو بات کریں محترمہ دیدی کی، ان کے ارادوں سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ،یہ مجھے آئینسٹائن بنا کر ہی چھوڑے گی ، ان کے زندگی میں شاید ہی کوئی خواب ہوں گے بس اک مجھے پڑھانے لکھانے کا ہی خواب ہے ، اور اس خواب کو وہ اب پورا کر رہی ہے ، لگتا ہے بلی کا بکرا میں مل گیا۔۔۔۔اب تو میری شامت آگئی، صبح سے لے کر شام تک ان کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنا واقعی مشکل کام لگتا ہے، دیدی کے اصولوں پر ایک نظر،
1۔۔ صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی ،سانس بھی نہ لوں اور دانت مانجھ لوں۔
2۔۔۔ صبح کے وقت موبائل فون کی جانب نظر بھی نہ ڈالوں۔
3۔۔۔ ابھی ٹھیک سے بیدار بھی نہ ہوا کہ نہا دھو کر صاف ستھرا ہوجاؤں۔ جیسے کوئی ٹرین مجھے چھوڑ کر چلی جائے گی۔۔۔
5۔۔ وہ جتنا کہے جو کہے اتنا ہی کھاؤں، جیسے پہلے کچھ روٹی کھائی جائے، پھر چاول، اس گھر کا ہر فرد دن میں دسوں دفعہ چائے پیتے ہیں، اور میں چائے کی فرمائش کروں تو سب کے سب ٹوٹ پڑتے ہیں کہ بچوں کو چائے کی بجائے دودھ پینا چاہئے، ایک مرتبہ، میں خفا ہوکر خاموش کیا ہوگیا، اب صبح شام دونوں وقت چائے ملتی ہے، الحمدللہ۔۔۔
4۔۔ روزانہ اردو ،مراٹھی اور انگریزی کا ایک صفحہ لکھ لوں۔
5۔۔ اردو،مراٹھی اور انگریزی تینوں زبانوں کو کتاب سے پڑھ لوں ، اور اگر ناراض ہوتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ دیدی کا غصہ جاگ چکا ہے اور ناک پر آبیٹھا ہے ، وہ جتنی آنکھیں کھول سکتی تھی کھول چکی تھی، گھور گھور کر اپنے غصہ کا اظہار کر رہی تھی، مجبوراً پڑھنا پڑا۔
6۔۔ہر روز قرآن مجید کا ایک رکوع یا ایک صفحہ سناؤں گا۔
7۔ پانچ وقت نہ سہی چار وقت کی نماز ادا کرنی ہوگی ، فرض،سنت اور نفل کے ساتھ۔۔۔۔ اگر بھاگنے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو دیدی دوبارہ پکڑ لیتی ہے ۔۔۔اتنے سارے اصول ؟؟؟ اور میں ایک شرارتی بچہ ؟؟؟ سب سے پہلے تو ان سے بچنے کے لیے، سب سے پہلے میں نے ناراض ہونا، اور روٹھنا جیسی تدابیر اختیار کیے، لیکن دیدی کو اس سے کوئی فرق نہیں ہوا؟ اس نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔۔باوجود ان سب کے میں نے ہار نہیں مانی، پڑھائی سے بچنے کا ایک بہترین موقع ہاتھ آگیا، اور اسے استعمال کرنے میں، میں پوری طرح کامیاب ہو گیا۔۔۔ کہ نانی جان کے ساتھ خلیرے ماما کے گھر چلا گیا اور دیدی ہاتھ ملتی رہ گئی۔۔۔۔۔
ایک دن نانی جان ،اور دیدی باورچی خانے کی اندرونی صاف صفائی کر رہے تھے، میرے دل میں گویا خوشی کے غبارے پھوٹنے لگے، مجھے یقین تھا کہ آج ان کی مصروفیات کے باعث مجھے پڑھائی سے تو چھٹی مل ہی جائے گی، لیکن دیدی تو سیر کو سوا سیر ہی نکلی، اس نے برتن مانجھتے مانجھتے بھی میرا سبق سنا ، اور تو اور بہت پڑھایا، ہوم ورک بھی دیا،نمازوں کی بھی سختی جاری رکھی، قرآن مجید بھی پڑھایا۔۔۔۔
ایک دن کہیں باہر گھومنے پھرنے نکلا تھا ، گھر پہنچنے ذرا سی دیر ہوگئی!
گھر پہنچتے ہی،دیدی بھوکے فقیر کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑی، جس کی بھوک مجھے پڑھانے سے ہی مٹتی ہے۔۔۔ جی بھر کے ڈانٹ لیا، اور تو اور موبائل فون بھی نہیں دیا، دیدی کی ناراضگی کو نانی نانا، ،اور چھوٹے ماما نے بھانپ لیا اور بچی کچی ڈانٹ ڈپٹ کر دی ، اس دن نانی نے اردو کا درس دیا ، اور ان لوگوں کو ایک بہت بری عادت ہے کہ یہ بات بات میں اپنے بچپن کی باتیں بیچ میں لے آتے ہیں، کہ ہم اس عمر میں یوں کیا کرتے تھے، اتنی پڑھائی کی لگن تھی وغیرہ وغیرہ۔۔آج کل تو سب کی نظریں مجھ پر رہتی ہیں ،جیسے میں کوئی مجرم ہوں، کچھ دیر موبائل فون استعمال کیا کہ اتنا سارا لکھنے پڑھنے کو کہہ دیا۔ اگر میں پڑھائی کے لیے منع کرتا ہوں تو ،جذباتی حملے شروع ہوجاتے ہیں، جیسے،
دیکھو زیدبیٹا ، تم اپنے والدین کے اکلوتے فرزند ہو!!! دو بہنوں کے بھائی!! گھر کے چراغ، اگر چراغ اپنے ذہن میں علم کی روشنی نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا؟؟؟ وہ اور بھی بہت کچھ کہہ دیتے ہیں جو میری سمجھ سے بالاتر ہے؟؟؟
پڑھائی سے دور بھاگنے کے اور بھی طریقے میرے معصوم ذہن میں گردش کر رہے ہیں، بس موقع کی تلاش ہے ۔۔۔۔۔۔نہ جانے کب ان اصولوں کی گرہوں سے آزادہوجاؤں۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے