कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پانچ ہزار سال قبل انسانیت کو بچانے والی "کشتیِ نوح” مل گئی : سائنس دانوں کا دعوی

بین الاقوامی سائنس دانوں کے ایک گروپ نے باور کرایا ہے کہ اسے نبی نوح (علیہ السلام) کی اس کشتی کی باقیات ملنے کی تصدیق ہو گئی ہے جس نے پانچ ہزار برس سے زیادہ عرصہ قبل انسانیت کو روئے زمین پر آنے والے عظیم طوفان سے بچایا تھا۔ اس کشتی کا ذکر قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتابوں میں ملتا ہے۔برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کی شائع کردہ معلومات کے مطابق کئی ممالک کے ماہرین پر مشتمل بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کو اس کشتی کی باقیات ترکیہ میں ایک دور دراز علاقے میں ملیں۔ اخبار نے بتایا ہے کہ اس کشتی کو سیاحتی مقام میں بدلنے پر کام کیا جا رہا ہے تا کہ دنیا کے مختلف حصوں کے لوگ اسے دیکھ سکیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھیں ترکیہ میں کشتی کی شکل کا ایک ٹیلہ ملا جس کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پانی سے بھرا ہوا تھا اور یہ 5000 سال پہلے کا ہے۔ یہ وہ رہی عرصہ ہے جب زمین پر طوفان نوح دیکھا گیا تھا۔ یہ واقعہ قرآن کریم اور انجیل میں مذکور ہے۔محقق سائنس دانوں کی بین الاقوامی ٹیم کا دعوی ہے کہ کشتی کی شکل کا یہ ٹیلہ ترکیہ میں ارارت پہاڑ کے جنوب میں 18 میل (30 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔ در حقیقت، یہ ایک لکڑی کی کشتی کے پتھریلے باقیات ہیں۔یہ ٹیلہ "دوروبینار” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک ارضیاتی تشکیل ہے جس کی لمبائی 163 میٹر (538 فٹ) ہے۔ یہ ایک خام مواد سے بنا ہوا ہے جس کو لیمونیٹ کہتے ہیں۔ یہ وجود شکل اور ہیئت میں قرآن کریم اور دیگر آسمانی مقدس کتابوں میں مذکور کشتیِ نوح سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے پیش نظر یہ طویل عرصے سے سائنس دانوں کی دل چسپی کا مقام ہے۔ڈیلی میل اخبار کے مطابق کئی جدید شواہد یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ ٹیلہ واقعتا 5000 سال قبل تباہ کن طوفان کی زد میں آیا تھا۔محققین کہتے ہیں کہ "ہمارا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ علاقہ اس دور میں زندگی کا مسکن تھا۔ ایک مرحلے پر آ کر پانی نے اسے غرق کر دیا تھا۔ یہ چیز ایک بڑا المیہ واقع ہونے کے امکان کو تقویت دیتی ہے۔سال 2021 سے استنبول یونیورسٹی، ابراہیم سیکن یونیورسٹی اور امریکا میں اینڈروز یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیقی ٹیم نے اس مقام کا تحقیقی مطالعہ شروع کر دیا۔کچھ عرصہ قبل ارارت پہاڑ اور کشتی نوح کے حوالے سے ساتویں بین الاقوامی فورم کے دوران میں سائنس دانوں نے نئے شواہد پیش کیے جو اس نظریے کی تائید کرتے ہیں کہ یہ ڈھانچہ ایک پرانے جہاز سے تعلق رکھتا ہے۔ترکیہ میں ملنے والی اس کشتی سے حاصل کیے گئے نمونوں سے ان کی عمر 3500 سے 5000 کے درمیان بتائی گئی ہے۔کتاب مقدس (انجیل) میں موجود روایت کے مطابق اللہ کے نبی نوع (علیہ السلام) کو حکم ملا کہ وہ ایک کشتی تیار کریں جس کی لمبائی 300 ذراع (پیمائش کا پیمانہ)، چوڑائی 50 ذراع اور اونچائی 30 ذراع ہو۔بعض سائنس دانوں کے مطابق پیمائش کے موازنے کے لیے مصری متحدہ ذراع کا استعمال کیا جائے جو 52.4 سینٹی میٹر کے برابر ہوتا ہے۔ اس اکائی کا استعمال کرنے سے نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی لمبائی 515 فٹ (157 میٹر) بنتی ہے۔ یہ ترکیہ میں ملنے والے ٹیلے دوروبینار کی لمبائی 538 فٹ (163 میٹر) کے قریب بنتی ہے۔(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے