कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اندر کا شیطان بڑا یا باہر کا؟رمضان میںنفس کی جنگ

تحریر:پروفیسر عذرا بانو
پرنسپل ناری شکشا نکیتن
پوسٹ گریجویٹ کالج، لکھنؤ

رمضان المبارک کا مہینہ نہ صرف برکتوں اور رحمتوں کا موسم ہے بلکہ خود احتسابی اور اصلاحِ نفس کا ایک نادر موقع بھی ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یہ باور کرواتا ہے کہ ہر گناہ کے پیچھے شیطان نہیں ہوتا بلکہ ہماری اپنی خواہشات اور کمزوریاں بھی گناہ کی راہ میں دھکیل سکتی ہیں۔
عام طور پر، ہم اپنی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرا دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کئی گناہ ہمارے اپنے نفس کی پیداوار ہوتے ہیں۔ روزہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اپنی خواہشات پر قابو پا سکتے ہیں، اپنے رویوں کو درست کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو بہتر سمت میں لے جا سکتے ہیں۔
شیطان یا نفس؟ حقیقی دشمن کی پہچان:اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوتِ ارادی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ وہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون سا راستہ اختیار کرے۔ قرآن میں واضح کیا گیا ہے کہ شیطان برائی کی طرف راغب کرتا ہے، مگر انسان اپنی مرضی سے ہی اس کی پیروی کرتا ہے۔ اسی لیے ہمیں دعا سکھائی گئی کہ ہم شیطان کی اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگیں اور اس سے مدد طلب کریں کہ وہ ہمیں شیطانی اثرات سے محفوظ رکھے۔
رمضان نفس کی آزمائش کا مہینہ:رمضان ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے حقیقی دشمن، یعنی نفس کو پہچان سکیں۔ جب شیطان قید کر دیا جاتا ہے اور اس کے وسوسے کمزور ہو جاتے ہیں، تب بھی اگر کوئی برائی کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے نفس کی خواہشات کا غلام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنا ضروری ہے کہ شیطان سے زیادہ خطرناک انسان کی اپنی اندرونی کمزوریاں ہیں، جنہیں قابو میں رکھنا ضروری ہے۔
خود احتسابی کی ضرورت:رمضان المبارک ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم اس مہینے میں بھی اپنی غلطیوں کو دہراتے رہیں، دوسروں کی حق تلفی کریں، بددیانتی اور بے ایمانی میں ملوث رہیں، تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ان گناہوں کا سبب کون ہے؟ کیا واقعی شیطان؟ یا ہماری اپنی عادتیں اور رویے؟
اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ بہت سی برائیاں جو ہم لاشعوری طور پر کرتے ہیں، وہ ہمارے معمولات کا حصہ بن چکی ہیں۔ غیبت، جھوٹ، حسد، خودغرضی اور تکبر وہ بیماریاں ہیں جو شیطان کے بہکانے کے بغیر بھی ہمارے اندر جڑ پکڑ سکتی ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم ان برائیوں کو ترک کریں اور اپنی زندگی کو حقیقی اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔
رمضان کا اصل مقصد: اصلاحِ نفس:روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی روحانی اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے صرف بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارا روزہ محض رسم و رواج کا حصہ ہے، یا ہم واقعی اس کے ذریعے اپنی روحانی اور اخلاقی اصلاح کر رہے ہیں؟ اگر ہم روزے کے دوران بھی بدگوئی، جھوٹ، غصہ اور بددیانتی سے نہیں بچتے تو پھر ہمارا روزہ صرف ایک رسم ہے، عبادت نہیں۔
شیطان سے حفاظت کیسے ممکن ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں، شیطان کے حملوں سے بچنے کے چند عملی اقدامات : جب بھی کوئی برا خیال آئے تو فوراً اللہ کا ذکر کریں اور استغفار پڑھیں، قرآن شیطان سے حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے، خاص طور پر سورۃ البقرہ کی تلاوت شیطان کو بھگانے کا سبب بنتی ہے، نماز دل کو پاک کرتی ہے اور شیطانی وسوسوں سے بچاتی ہے،نیک لوگوں کے ساتھ رہنے سے انسان برائی سے بچتا ہے۔ روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کریں۔
رمضان ہمیں یہ سکھانے آتا ہے کہ برائی صرف شیطان کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ ہماری اپنی کمزوریاں بھی ہمیں غلط راستے پر ڈال سکتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ شیطان ہماری زندگی پر اثر انداز نہ ہو تو ہمیں پہلے اپنے نفس کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ اللہ سے مدد مانگنی ہوگی، قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنی ہوگی اور خود کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کرنی ہوگی۔
یہ مہینہ صرف عبادت کا نہیں، بلکہ تربیت کا ہے۔ اگر ہم نے اس سے سبق نہ سیکھا تو شیطان کے قید سے آزاد ہونے کے بعد ہمیں قابو پانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا، رمضان کو حقیقی معنوں میں گزاریں اور اپنی اصلاح کی جانب پہلا قدم بڑھائیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے