कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

روزہ قرآن وحدیث اور میڈیکل سائنس کی روشنی میں

تحریر:رضی اللہ قاسمی خیرآبادی (سیتاپور یوپی)

محترم قارئین!
روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ، جسے عربی میں صوم کہتے ہیں۔ صوم
کے لفظی معنی کسی چیز سے رکے رہنے کے ہیں۔
اور شرعی معنی ہیں :صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور خواہشاتِ نفس کو پوری کرنے سے رکے رہنے کا نام روزہ ہے۔
گویا روزہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنے پورے جسم کو مع اس کی خواہشات کے اللہ کے لیے قابو میں رکھیں۔اور جسم کے تمام اعضاء کو مکمل طور پر اللہ کی نافرمانی سے بچالیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق تین خواہشات انسان میں سب سے شدید ہوتی ہیں۔ بھوک، پیاس اور جنسی خواہش۔ اگر انسان ان پر قابو پانا سیکھ لے تو وہ دیگر خواہشات پر آسانی سے قابو پاسکتا ہے۔
اور روزے کے دوران انہی تینوں خواہشات پر کنٹرول کرنا سکھایا جاتا ہے۔
ماہرین نفسیات یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگر کوئی عمل تین ہفتوں تک مسلسل کیا جائے تو اُس کی پختہ عادت پڑ جاتی ہے۔ رمضان کے پورے مہینے کے روزے انسان کو مجاہدۂ نفس
(Self Discipline)
کی مکمل ٹرینینگ دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے حضرات رمضان کے مہینے کی ٹریننگ کی وجہ سے اپنے اندر جذبہ اور قوت ارادی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی باقی زندگی گناہوں سے تائب ہو کر گزارتے ہیں۔
فرضیتِ روزہ کا مقصدِ اصلی:
َ اللہ تبارک و تعالی کا رمضان کے روزے فرض کرنے کا مقصد اصلی یہی ہے جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے:
’’ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ (البقرۃ:۱۸۳)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ ،تمہارے اندر تقوی پیدا ہو جائے۔
قرآن کریم کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے شب وروز کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر رکھ کر زندگی بسر کرے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اِس بات سے ڈرتا رہے کہ اُس نے اگر کبھی اِن حدود کو توڑا تو اِس کی
پاداش سے اللہ کے سوا کوئی اُس کو بچانے والا نہیں ہو سکتا۔
اس لیے اللہ تبارک و تعالی نے رمضان کے روزوں کو فرض کر کے ہم جیسے گنہگار بندوں پر بہت بڑا احسان عظیم کیا ہے۔تاکہ سال کے گیارہ مہینوں کی گندگیوں اور گناہوں کی آلودگیوں کو اس ماہ مبارک کے اندر ہم دور کر سکیں یہی رمضان کا اصل مقصد ہے۔
بلکہ اس سے بڑھ کر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عالمِ بالا کی پاکیزہ مخلوق (فرشتے)جو نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں اورنہ بیوی رکھتے ہیں روزہ ان سے مشابہت کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ روزہ (صبح صادق سے غروب آفتاب تک) تین چیزوں (کھانا، پینا اور جماع) سے رکنے کا نام ہے، تو گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو روزے کا حکم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم ان تین چیزوں سے پرہیز کرکے ہماری پاکیزہ مخلوق کی مشابہت اختیار کروگے تو ہماری اس پاکیزہ مخلوق کی پاکیزہ صفت بھی تمہارے اندر پیدا ہوجائے گی اور وہ صفت ہے: لاَیَعْصُوْنَ اللہَ مَا اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُوٴْمَرُوْنَ۔ (سورۃ التحریم ٦)
ترجمہ: وہ (فرشتے) اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
اور اسی کاحاصل ”تقویٰ“ ہے۔
روزوں کے اندر جہاں روحانی فوائد مضمر ہیں وہیں انسانی اور طبی فوائد بھی بے شمار ہیں،
روزوں سے نہ صرف دل کی پاکی، روح کی صفائی اور نفس کی طہارت حاصل ہوتی ہے بلکہ روزے کے جسمانی صحت پر بھی بہت گہرے
اور مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ روزوں سے اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پا کر
انسان میں صبر و تحمل پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ روزہ انسان کی روحانی قوتوں کو قوی اور حیوانی قوتوں کو
کمزور کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک روزہ دار انسان مہینہ بھر کی مشق (Practice) کے بعد ایک ضبطِ نفس رکھنے والا ، مشکلات برداشت کرنے والا اور متقی انسان بن جاتا ہے جس کی توجہ کا مرکز ومحور صرف خدا کی ذات ہوتی ہے۔
لیکن یاد رکھئے! یہ تمام فوائد و ثمرات اسی وقت مرتب ہونگے جب روزہ کے تقاضوں اور اس کے آداب و وشرائط کا لحاظ کیا جائے گا۔
ورنہ محض بھوکا پیاسا رہنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
جیسا‌کہ حضرت ابوہریرہؓ کی
اس روایت میں اشارہ ہے:
من لم یَدَعْ قولَ الزورِ و العملَ به فلیس للّٰه حاجة في أن یَّدَعَ طعامَه وشرابَه‘‘
(صحیح البخاري، کتاب الصوم، باب من لم یدع قول الزور و العمل به، ج:۱، ص:۲۵۵، ط: قدیمی)
یعنی جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا اور جھوٹے کام کرنے نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس سے بھی کوئی سر وکار نہیں ہے کہ وہ کھانا پینا چھوڑے!
(جب روزہ کا مقصد پورا نہیں کرتا تو بھوکا پیاسا رہنے کی کیا ضرورت ہے ؟)
اس لئے روزوں کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے رمضان گزارنا چاہئے۔
روزہ کے طبی فوائد:
چونکہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کی نفسیاتی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، نفس کی طہارت،اس میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام اور نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کی طلب روزے کے بنیادی اوصاف میں سے ہیں۔
جدید سائنسی تحقیقات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ صبح سے شام تک روزہ رکھنے اور بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کے جسم میں کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں یہ تبدیلیاں جسم،دماغ،صحت،قوت مدافعت پر طویل المدت مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔
قرآن کریم نے بھی اسی طبی فائدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:
وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
(سورۃ البقرہ 184)
اور اگر تم جانو توروزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔
تو قرآن نے صاف لفظوں میں بیان کر دیا کہ روزہ رکھنا تمہارے لیے فائدہ مند ہے۔ قرآن نے مطلقا کہا گویا خیرٌ لّکم میں بہت سارے فوائد پنہاں ہیں۔ ایک روحانی فائدہ، دوسرا جسمانی فائدہ اور تیسرا اخروی فائدہ۔
اسی طرح حدیث مبارکہ میں بھی
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :صُومُوا تَصِحُّوا٠ روزہ رکھو تندرست ہو جاؤ گے۔ ( الطبرانی فی معجم الاوسط ۲۶ / ۲۴۱) ۔
تو یہ حدیث بھی طبی فائدے کی طرف مشیر ہے۔
آج جدید سائنس نے روزے کے طبی فوائد کے اثرات دریافت کرنے شروع کیے ہیں جس کا ذکر قرآن و حدیث میں کئی سو سال پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔
مغربی عیسائی محقق ایلن کاٹ (Allan Cott) اپنی کتاب
Fasting as a way of Life”
میں روزے کے بے شمار فوائد و ثمرات کے متعلق رقمطراز ہے:
Fasting brings a wholesome physiological rest for the digestive tract and central nervous system and normalizes metabolism.”
روزے سے انسان کے نظام انہضام (معدہ) اور دماغی نظام کو مکمل طور پر آرام ملتا ہے اور غذا کے ہضم کرنے کا عمل نارمل حالت پر آ جاتا ہے۔
انڈیا کے (Dr shanti Rangwani)
ڈاکٹر شانتی رنگوانی کی تحقیق کے مطابق چونکہ روزے کے دوران جسم میں کوئی نئی خوراک نہیں جاتی اس لئے جسم میں نئے زہریلے مادے پیدا نہیں ہوتے اور جگر پوری تندہی سے پرانے زہر یلے مادوں کو جسم سے صاف کرتا ہے۔
یہ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ جسم کو کام کرنے کے لئے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ جسم میں پہلے سے پائے جانے والے زہر یلے مادوں کو سب سے پہلے استعمال میں لاتا ہے۔ اس عمل سے خون صاف ہو جاتا ہے اور انسان کی جلد (Skin) پر ایک طرح کی تازگی اور چمک آجاتی ہے۔
اس کی مزید وضاحت اس حدیث شریف سے ہوتی ہے : لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ، وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ”
(سنن ابن ماجه)
ہر چیز کی زکوۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے ۔
جس طرح زکوۃ مال میں سے گندگی نکال کر اُس کو صاف کر دیتی ہے۔ اسی طرح روزہ جسم سے زہر یلے مادے نکال کر اس کو صاف و شفاف کر دیتا ہے۔
اس حدیث کی مزید تشریح امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی کے شہرہ آفاق میڈیکل محقق Dr James Balch md
(ڈاکٹر جیمس بالچ ایم ڈی) کی روزون پر کی گئی تحقیقات سے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر جیمس بالچ اس ضمن میں اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
Relieved of the work of digesting foods, fasting permits the body to rid itself of toxins while facilitating healing. Fasting regularly gives your organs a rest and helps reverse the ageing process for a longer and healthier life.
روزے کی وجہ سے چونکہ جسم خوراک کو ہضم کرنے میں مشغول نہیں ہوتا اس لئے جسم کے لئے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر سے زہریلے مادوں کو خارج کر سکے جس سے جسم کو شفایابی حاصل ہوتی ہے۔ روزے باقائدگی سے جسمانی اعضاء کو فرصت اور آرام مہیا کرتے ہیں اور بڑھاپا آنے کے عمل کو آہستہ کر کے زندگی کو طویل اور صحت مند بناتے ہیں۔
اسی طرح عمان (اردن) کے یونیورسٹی ہسپتال کے محقق ڈاکٹر سلیمان نے 1404 ہجری کے رمضان میں صحت مند مسلمان رضا کاروں پر تحقیق کی ،جن میں 42 مرد اور 26 خواتین تھیں۔ جن کی عمریں 15 سال سے 64 سال کے درمیان تھیں۔ رمضان کے شروع میں اُن کے وزن کئے گئے اور خون میں کولیسٹرول، جنسی ہارمونز، گلوکوز وغیرہ کو ناپا گیا۔ پھر رمضان کے آخر میں یہ عمل دہرایا گیا۔ اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُن روزہ دار مردوں اور عورتوں کا 4 سے 6 کلو تک وزن کم ہوا لیکن خون میں تمام اجزاء کی مقدار بالکل نارمل رہی۔
یورپ کے ایک عیسائی کیتھولک مصنف ڈاکٹر ژو فرائے (جو فرائے ) نے اپنی کتاب روزه (Fasting) مطبوعہ پیرس میں روزے کے متعلق بہت دلچسپ انکشافات کئے ہیں۔ ڈاکٹر جوفرائے کے مطابق روزہ انسانوں میں ہی نہیں بلکہ کائنات کی اور چیزوں، مثلا درختوں اور حیوانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایسے وحشی جانور جو بالکل فطری حالت میں رہتے ہیں۔ جس زمانے میں برف باری ہوتی ہے، انہیں کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملتی اور بعض اوقات اس کا سلسلہ کئی کئی مہینوں تک جاری رہتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ جانور مرتے نہیں۔
اُس نے لکھا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور، پرندے، سانپ وغیرہ سب پہاڑوں کی غاروں میں چلے جاتے ہیں اور وہیں سو جاتے ہیں۔ اس کو "Hibernation” کہتے ہیں۔
وہ بیان کرتا ہے کہ یہ نہ کھانے اور نہ پینے کی حالت یعنی روزے کی باعث ان جانوروں میں نئے سرے سے جوانی آ جاتی ہے۔ جب سردیوں کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے اور بہار کا موسم آنے لگتا ہے تو ایسے پرندے، جو ان غاروں میں ہیں، ان کے پرانے پر (feathers) جھڑ جاتے ہیں اور نئے پر نکل آتے ہیں۔ اسی طرح سانپ کے متعلق وہ لکھتا ہے کہ اُس کی جھلی جھڑ جاتی ہے اور اس کو ایک نئی کھال یا نیا چمڑا ملتا ہے جو چمک دمک میں پہلے سے بہتر ہوتا ہے۔ اس زمانے میں ان روزہ رکھے ہوئے جانوروں میں پہلے سے زیادہ قوت اور پہلے سے زیادہ جوانی آجاتی ہے۔ اس طرح برف باری کے زمانے میں درختوں کے سارے پتے جھڑ جاتے ہیں انہیں کوئی پانی نہیں دیا جاتا۔ گویا وہ روزے سے ہیں جو کئی ہفتوں چلتا ہے۔ یہ روزہ ختم ہونے پر درختوں کو ایک نئی جوانی حاصل ہوتی ہے یعنی جونئی کونپلیں ان میں پھوٹتی ہیں اور نئے پھول اور پھل لگتے ہیں وہ اُن درختوں کی نئی جوانی ، نئے حسن اور نئی قوت پر دلالت کرتے ہیں۔
ان مشاہدات کی روشنی میں ڈاکٹر جو فرائے کا کہنا ہے کہ انسانوں کو بھی ہر سال روزے رکھنے چاہئیں ۔ یہ ان کی صحت کے لیے بہتر ہے۔ یہ ان کو نئی توانائی اور نئی جوانی عطا کریں گے۔ آخر میں اُس نے نتیجہ نکالا ہے کہ انسانوں کو ہر سال تقریبا چالیس روزے ضرور رکھنے چاہئیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ رمضان کے 30 روزوں کے علاوہ شوال کے 6 روزے ملا کر مسلمان 36 روزے رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر جو فرائے جس حکمت کو آج سمجھ پائے ہیں اُس پر مسلمان چودہ سو سال کے طویل عرصے سے عمل پیرا ہیں۔
(6) روزے رکھنے سے عمر میں اضافہ اور بڑھایا آنے کے عمل میں کمی
روزے کے دوران جب روزانہ جسم کو کچھ دیر کے لیے حرارے (Calories) نہیں مہیا کیے جاتے تو اس غذائیت کو روکنے کے عمل (Caloric restriction) کے جسم پر نہایت صحتمند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میڈیکل تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ جسم کو مخصوص اوقات میں خوراک سے روکنے (Fasting) کی وجہ سے جسم کو کینسر، دل کی امراض، شوگر، دفاعی امراض (Immune disorders) کے لاحق ہونے کے امکانات (Risks) کم ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ روزے رکھنے کی وجہ سے انسانی جسم میں بڑھاپا آنے کے عمل (aging process) میں کمی آجاتی ہے بلکہ انسان کی زندگی کے لمبی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں World Health.net کی شائع شدہ رپورٹ میں ثابت کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس رپورٹ کے مطابق ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھنے سے کینسر کی بیماری لاحق ہونے کے امکانات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔
ان تمام تحقیقات کے بعد خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ روزہ رکھنے سے
جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔
بلڈ پریشر گھٹ جاتا ہے۔
ورم میں کمی آتی ہے۔
کولیسٹرول کی سطح گھٹ جاتی ہے ۔
دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں۔
کینسر سے بچنے میں ممکنہ مدد ملتی ہے۔
انسولین کی مزاحمت بہتر ہوتی ہے۔
نیند پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ ہیں روحانی فوائد کے ساتھ ساتھ جسمانی فوائد جن کو احقر نے جمع کر دیا ہے تاکہ ہم سائنسی نگاہ سے بھی روزہ کو سمجھ سکیں۔
ان کے علاوہ بھی بے شمار فوائد ہیں
ان فوائد کو پڑھنے کے بعد محسوس یہ ہوتا ہے کہ جو شخص صحت مند اور بیماریوں سے نجات چاہتا ہے تو وہ اپنے اوپر روزے کو لازم سمجھ لے۔
چونکہ روزہ ہمارے اوپر فرض ہے، اس لئے محض جسمانی فوائد پر نظر رکھ کر روزہ نہیں رکھنا چاہئے، بلکہ ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اللہ کا حکم سمجھ کر اور عبادت سمجھ کر روزہ رکھیں ۔اور اس کے ساتھ ساتھ جسمانی فوائد بھی مدنظر ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اخیر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو رمضان المبارک کی قدر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، اور روحانی ،جسمانی تمام فوائد سے مالا فرمائے ۔اٰمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے