कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان کی پہلی نیکی

تحریر: تسنیم مزمل شیخ (اورنگ آباد)
موبائل : 7972012935

مشتاق بڑی مسکراہٹ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھ کے تیزتیز قدموں سے روشن گیٹ سے نظام الدین روڈ کی طرف چل پڑا۔ کبھی اپنے پینٹ کی جیب کو ہاتھ لگا کر دیکھتا اور کبھی جیب میں ہاتھ ڈال کے پیسے صحیح سے رکھے یا نہیں محسوس کرتا۔ آج کھجور اور افطاری لینے کے لئے مشتاق کے Boss نے اُسے تین ہزار روپے دیئے تھے۔ وہ راستے سے چلتے چلتے سوچ رہا تھا کہ اُسے کیا کیا لینا ہے کل کے افطار کے لئے۔ مشتاق کے گھر میں اس کی والدہ اور ایک بڑی بہن جو کہ پڑھائی کررہی تھی اور ایک جگہ ہاسپٹل میں Receptionist کا کام بھی کرتی تھی۔ والد کے اچانک انتقال کے بعد دونوں بچوں پہ گھر کی ذمہ داری آگئی اور مشتاق گریجویشن کے پہلے سال میں پڑھائی کررہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ چپل کی دکان میں کام بھی کرتا تھا۔ راستہ تھاکہ ختم نہیں ہورہا تھا۔ وہ سوچنے لگا روز تو جلدی کٹ جاتا آج کیا ہوا۔ اس کی آنکھ میں خوشی اور غم کے ستارے چمکنے لگے اور وہ سوچنے لگا پچھلے سال ابا تھے تو یہ سب نہیں معلوم تھا۔ وہ ہر وہ چیز لے آتے اور کبھی گھر کی کوئی چیز کے لئے لانا اور پریشانی کیا ہوتی ہے کبھی انھوں نے محسوس ہی نہیں ہونے دی۔ جب درخت زمین چھوڑ دیتا ہے تو اس کے سایہ میں بیٹھنے والے محروم ہوجاتے ہیں اور زندگی کی سخت دھوپ ان کے لئے سہنا مشکل ہوجاتی ہے۔ وہ ابا کو یاد ہی کررہا تھاکہ اس کے سامنے ایک بچہ آیا۔ وہ ٹکرایا‘اچانک۔’’ ارے سوری بیٹا سوری۔‘‘
وہ بچہ نے پلٹ کر دیکھا، آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھی اور وہ مشتاق کو دیکھنے کے بعد اپنی امی کی طرف پلٹ گیا۔ اس کی امی کا برقع مسلسل کھینچ رہا تھا چھوٹی چھوٹی مٹھیوں سے۔
’’بیٹا میں گر جاؤں گی۔ ‘‘
’’امی جاؤ میں بات نہیں کروں گا۔‘‘
پھر اس بچہ کی ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا :’’بیٹا پکا، دوسرا روزہ رکھ لینا ، دوسرے روزے کو روزہ رکھائی کردیں گے۔‘‘
’’نہیں امی! آپ نے بولے تھے مجھے نیاڈریس دلاؤگے اور پہلے روزے کے دن روز رکھائی کروگے۔‘‘
مشتاق پیچھے سے دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔ اچانک ایک ریڈی میڈ کپڑوں کی چھوٹی سی دکان آئی۔ وہاں وہ بچہ رُک گیا۔ چونکہ مشتاق کچھ دوری پر تھا وہ سب دیکھ رہا تھا ، پھر اس بچہ کی ماں نے اس کو سمجھانے کے لئے پوچھ لیا :
’’بھیا اس بچہ کے سائز کا کُرتا ، پاجامہ یا پٹھانی ڈریس ہوتو بتایئے۔‘‘
دکاندار نے ایک سفید کُرتا پاجامہ بتایا، ماں نے اشارے سے پوچھا :’’کتنے کا؟‘‘
دکاندار نے کہا : ’’پانچ سو کا۔‘‘
’’اچھا بھیا ہم کل آتے لینے۔‘‘ماں نے بچہ کو سمجھایا کہ ’’لے لیں گے ،کل پرسوں روزہ رکھ لینا بیٹا۔‘‘
مگر بچہ تھاکہ ضد پر اڑا تھا۔ ماں نے بچہ کو اپنی گود میں لے لیا اور محبت سے سمجھانے لگی۔
’’اچھا بیٹا کل سارہ باجی سے پیسے لے کے لے لوں گی کام کے بعد۔‘‘ وہ سمجھانے لگی اور مشتاق پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ بچہ روئے جارہا تھا۔
’’اچھا جوتا بھی دلادوں گی۔‘‘ ماں نے ایک بنڈی کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ پھر بنڈی کی طرف مڑی تو بچہ کچھ خاموش ہوا۔
’’یہ بچہ کے ناپ کا جوتا ملے گا کیا۔‘‘
’’جی! ہے نا باجی۔‘‘ پھر اس عورت نے جوتا پہنایاکالے رنگ کا۔ بچہ بہت خوش ہوگیا۔ کتنے کا ہے پوچھا تو ۲۰۰؍روپے کہا۔ لیکن اس نے بچہ کے پیر سے جوتا نکال کے واپس دے دیا۔ کہا : ’’شکریہ بھیا۔ انشاء اللہ کل لے لیں گے۔‘‘ وہ یہ سب کر کے بچہ کو بہلا رہی تھی اور اپنے ڈوپٹے سے آنسو بھی پونچھ رہی تھی۔ بچہ خاموش ہوگیا تھا اب۔ دونوں باتیں کرنے لگی۔
’’سارہ باجی کو بولوں گی کل بیٹا ،ان کے برتن دھونا ہوگئے بعد پھر پیسے لے کر ہم لے لیں گے۔ پرسوں رکھ لینا ۔‘‘
مشتاق کو دونوں کے پیچھے چلنے میں یاد ہی نہیں رہا کہ اُسے گھر کے لئے سامان لینا ہے۔ اچانک وہ ایک گلی میں تیسرے نمبر کے گھر میں چلے گئے۔ مشتاق نے کچھ باتیں سنی تھی، کچھ فاصلے کی وجہ نہیں سن پایا تھا لیکن وہ بچے ضد کرتا ہوا اور اس کی ماں نے اُسے کچھ نہیں دلایا۔ وہ دیکھتا ، ان کا تعاقب کرتے ان کے گھر تک چلا گیا تھا۔ ان کا گھر وہیں تھا چمپاچوک میں۔ وہ گلی میں مڑے اور گھر دیکھ کر لگا کہ نہایت ہی ضرورت مند ہے۔ وہ واپس پلٹا اور وہ کُرتاپاجامہ لیا اور جوتے لئے ، کھجور کا ڈبہ خریدا اور کچھ افطاری کے لئے پھل سب سامان وہ بچہ کے گھر کے دروازے پر رکھ دیئے اور زور سے دروازے پر دستک دے کر دور جا کھڑا ہوگیا۔ اس بچہ کی ماں نے دروازہ کھولا تو کوئی نہیں تھا ۔ اچانک نظر سب چیزوں پر پڑی۔ آزوبازو دیکھا تو کوئی نہیں تھا، پھر چیزیں ٹھائی اور دیکھنے لگی۔ اتنے میں وہ بچہ بھی آگیا۔ خوشی سے بولنے لگا :
’’امی میری روزہ رکھائی کل ہی ہوگی۔ امی یہ کس نے لائے۔‘‘
بچہ کی ماں نے خوشی سے آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگی اور گھر میں چلے گئی۔ مشتاق نے یہ سب دیکھ کر مسکرایا۔ کسی کے ساتھ اچھائی کرنے کے بعد ایک دلی سکون محسوس کیا۔ اچانک اذان ہوئی ۔ وہ عشاء اور تراویح پڑھ کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ گھر پہنچتے ہی امی نے کہا :
’’بیٹا! بہت دیر لگا دی آج۔‘‘
’’ہاں امی! ایک نیکی کرنے میں مصروف تھا تو دیر ہوگئی۔‘‘
اتنے میں اس کی نظر ٹیبل پر پڑی:’’ امی یہ سب سامان افطاری اور کھجوریں کون لائے؟‘‘
’’بیٹا تمہارے باجی کے میڈم نے دیئے لاکر۔‘‘
’’اچھا امی۔یہ کچھ پیسے رکھ لیجئے ، ہمارے باس نے دیئے۔‘‘
مشتاق کھانا کھاتے کھاتے حضرت علیؓ کی وہ بات یاد کرنے لگا کہ اللہ کی راہ میں ایک نیکی کرو، وہ دس گنا بڑھ کر نوازتا ہے۔ الحمدللہ !اللہ نے میری رمضان کی پہلی نیکی قبول کرلی۔ وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگا۔
٭٭٭

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے