कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلم اقلیتی تعلیمی ادارے بھگوا پالیسی کا شکار یاخودساختہ زوال؟

از قلم :- پٹھان شریف خان
پرتور ضلع جالنہ
9422409471

1857 کے بعد مسلمانوں کی تعلیمی حالت انتہائی خراب تھی، لیکن مولانا محمد قاسم نانوتوی ،علامہ شبلی نعمانی، سر سید احمد خان، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین ، اور دیگر رہنماؤں کی کوششوں سے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری آئی۔ ان کی کوششوں سے کئی بڑے تعلیمی ادارے وجود میں آئے، جو آج بھی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے علمی ترقی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کے بعد بھی مسلم اقلیتوں کو تعلیمی ترقی کے لیے چیلنجز کا سامنا رہا، مگر ان کے قائم کردہ ادارے آج بھی ان کے خوابوں کی تعبیر بنے ہوئے ہیں۔
قومی سطح پر، 31 اکتوبر 2021 تک، قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے (NCMIE) نے 13,602 اقلیتی تعلیمی اداروں کو اقلیتی درجہ کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے، جن میں سے 5,153 ادارے مسلم کمیونٹی کے زیر انتظام ہیں۔
مہاراشٹر میں مسلم اقلیتی تعلیمی اداروں کی تعداد تقریباً ٨٠٠ سے تجاوز کرگئی ۔
تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں، لیکن اگر وہی ادارے بدعنوانی، ظلم، اور ناانصافی کا گڑھ بن جائیں تو قوم کے زوال کو کوئی نہیں روک سکتا۔؟
مہاراشٹر میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کا ایک بھرپور پس منظر ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد یہاں کئی ایسے تعلیمی ادارے قائم ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم فراہم کرکے انہیں معاشی اور سماجی ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ یہ ادارے ایک خالص تعلیمی و فلاحی مقصد کے تحت بنائے گئے تھے، اور ان کے بانیوں کی نیت قوم کی بھلائی اور ترقی تھی۔
ممبئی، پونا، ناگپور، اورنگ آباد، مالیگاؤں، بھیونڈی، اکل کنوان ،ناندیڑ، پربھنی، جالنہ ناگپور، جلگاؤں ،اکولہ، اور دیگر شہروں میں اسکول، کالج، دینی مدارس اور پروفیشنل انسٹی ٹیوٹس قائم کیے گئے۔
انجمن اسلام، مہاراشٹر کالج، خیرالاسلام ،اعظم‌کیمپس ،انجینئرنگ اور میڈیکل انسٹی ٹیوٹس
مولانا آزاد کالج ، جیسے اداروں نے مسلم طلبہ کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔
ان اداروں کی مدد سے کئی طلبہ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور سرکاری و نجی ملازمتوں میں اعلٰی مقام حاصل کیا۔
قوم کی فلاح و بہبود کے جذبے سے کام کرنے والے تعلیمی رہنماؤں نے شفافیت، دیانت داری، اور معیار پر زور دیا۔
سرکاری گرانٹس اور اسکالرشپس کا صحیح استعمال کیا، جس سے تعلیمی معیار بلند ہوا۔
ادارے چلانے والے لوگ تعلیم کو ذریعہ عبادت اور خدمتِ خلق سمجھ کر کام کرتے تھے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوا۔
لیکن آہستہ آہستہ تعلیمی منظر نامہ بدلتا گیا ایسے افراد نے تعلیمی اداروں کی ذمہ داری لی ان کا مقصد خدمت خلق نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے زریعہ تجارت تھا جس کے نتیجے میں تعلیمی تجارت اور بدعنوانی کا آغاز ہوا مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اداروں کی موجودہ حالت پر نظر ڈالیں تو تعلیم کے بجائے بدانتظامی، استحصال، اور بدعنوانی کامنظرنامہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
داخلے میں رشوت، ملازمتوں میں اقربا پروری، اور غیر مستحق افراد کو آگے بڑھانے جیسے رجحانات پیدا ہوئے۔ سرکاری گرانٹس کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا جانے لگا، جس سے اداروں کی شفافیت متاثر ہوئی۔نتیجہ میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا تقدس پامال ہو رہا ہے
کئی اداروں میں اساتذہ کی تقرری میں رشوت اور سفارشی کلچر عام ہو گیا ہے ، جس سے معیاری تعلیم متاثر ہے۔
بعض مدارس اور کالجز میں طلبہ کو بہتر تعلیم دینے کے بجائے محض فیس کے حصول پر زور دیا جاتاہے ۔ خراب ذہنیت افراد کی وجہ سے ملت کے تعلیمی ادارو کو بدنام کرنے اور نقصان پہنچانے کی منصوبہ بند سازش کی جارہی ہے،مسلم طلبہ کو دی جانے والی پری میٹرک اسکالرشپ اسکم بند کر دی گئی، سرکاری اردو اسکولس میں دیگر میڈیم کے استاذہ کے تقررات کیے جارہے ہیں، ریاست راجستھان میں اردو مضمون کو ختم‌کردیا گیا ہے ، اردو کے بجائے سنسکرت کو لازمی قرار دیا جارہاہے،
اگرچہ کئی ادارے غیر شفافیت اور بدعنوانی کا شکار ہوئے، لیکن کچھ ادارے آج بھی ایمانداری اور دیانت داری سے کام کر رہے ہیں۔اچھے ادارے بھی موجود ہیں، سب کو ایک ہی چھڑی سے ہانکنا ناانصافی ہوگی
انجمن اسلام، ملت ایجوکیشن سوسائٹی، مراٹھواڑہ ایجوکیشن سوسائٹی، مالیگاؤں اور بھیونڈی کے بعض ادارے، اورنگ آباد کے بعض اقلیتی انسٹی ٹیوٹس جیسے ادارے آج بھی قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ایسے اچھے اداروں پر شک کرنا یا تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کو برا کہنا زیادتی ہوگی۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر صحیح اور غلط میں فرق کرنا ضروری ہے
مہاراشٹر میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں کئی اداروں اور شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، لیکن چند مٹھی بھر مفاد پرست عناصر نے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچایا۔ ایسے افراد کا محاسبہ کرنا ضروری ہے، لیکن ان چند غلط لوگوں کی وجہ سے تمام اقلیتی اداروں کو بدنام کرنا بھی ناانصافی ہوگی۔ جو ادارے آج بھی دیانت داری سے کام کر رہے ہیں، انہیں سپورٹ کرنا چاہیے، اور بدعنوان عناصر کے خلاف مسلم قیادت، حکومت، اور عوام کو مل کر ایکشن لینا ہوگا تاکہ قوم کی تعلیمی ترقی کا سفر دوبارہ مضبوط بنیادوں پر جاری رہ سکے۔
مسلم اقلیتی تعلیم اداروں کی زبوں حالی کا الزام صرف حکومت پر ڈالنا آسان ہے، مگر حقیقت میں ہمیں اپنے اندرونی مسائل کو بھی دیکھنا ہوگا۔ حکومت کی غلط پالیسیاں ایک مسئلہ ضرور ہیں، مگر خود مسلم سماج کے اندر موجود کرپشن، اساتذہ کا استحصال ,بدانتظامی، اور اقربا پروری بھی اتنے ہی بڑے عوامل ہیں جو ہمارے تعلیمی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگر واقعی ہم اپنی تعلیمی حالت بہتر کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف حکومت کو الزام دینے کے بجائے خود بھی عملی اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ یہ زوال یونہی جاری رہے گا۔
یہ سوال کہ "حکومت کی خراب نیت مسلم تعلیمی زوال کی ذمہ دار ہے یا خود مسلم سماج کا اندرونی انتشار؟” اس کا جواب یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔
حکومت کی پالیسیاں ہمیشہ مسلم تعلیمی اداروں کے حق میں نہیں رہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جو مراعات دی جاتی ہیں ان کا صحیح استعمال نہیں ہوتا۔
اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں جہالت اور پسماندگی کا شکار ہو جائیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، سماج، اور تعلیمی ماہرین مل کر ان مسائل کا حل نکالیں تاکہ مسلم تعلیمی ادارے پھر سے علم و روشنی کے مراکز بن سکیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے