कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہماری ذمہ داریاں

از قلم: ظفر ہاشمی ندوی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

میری مراد مسلمان شادی شدہ افراد یا غیر شادی شدہ بالغ افراد ہیں، کہ ان مسلمانوں کی اس دنیا میں کیا کیا ذمہ داریاں ہیں؟
ہمیں روزانہ صبح سویرے اٹھنا ہے اور جلد سے جلد مناسب صاف ستھرے کپڑے پہن کر، سردی ہو یا گرمی یا بارش، کام پر جانا ہے یا اپنی اپنی دکان کھولنا ہے، اور پھر زیادہ سے زیادہ روز کمانے کی کوشش کرنا ہے۔
بچوں اور جوانوں کو اپنے اپنے اسکول، کالج یا یونیورسٹی جانا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ روزانہ صبح، دوپہر اور شام کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ کھانا ہے۔
ہماری عورتوں کو تمام قسم کے گھریلو کام اپنے لیے اور اپنے متعلقین کے لیے کرنے ہیں۔ یہ ہماری روزانہ کی مصروفیت ہے۔ دنیا کے تمام انسانوں کا یہی جواب ہوگا، لیکن کسی مسلمان کو صرف اوپر کی ذمہ داریوں کے کہنے اور کرنے کا حق نہیں ہے۔ اگر بحیثیت انسان صرف اتنی ہی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے تو پھر:
1- روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا کس کی ذمہ داری ہے؟ مرد ہوں یا عورتیں، بچے ہوں یا بوڑھے، صحت ہو یا بیماری، اسلام نے کیا حکم دیا ہے؟ اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر ایک کو ہر حال میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا فرض ہے۔ صرف مسلم بالغ بچیوں اور عورتوں کو ان کے مخصوص دنوں میں نماز معاف ہے یا وہ شخص جو کوما کی حالت میں ہو۔ مگر تقریباً ہر مسلمان نے نماز کو اپنی ذمہ داری کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ کس نے آپ کو یہ حق دیا ہے کہ ہفتہ میں صرف جمعہ کی نماز پڑھو اور ہر سال رمضان بھر نماز پڑھو؟ ایسے ہی صرف عید کی نماز پڑھو۔ یہ یاد رہے کہ عید کی نماز واجب ہے مگر ہر فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز فرض ہے اور ہر نماز کے نہ پڑھنے کی پکڑ ہوگی۔ لیکن واہ رے آج کل کے مسلمان، عید کی نماز تو بہت دھوم دھام سے پڑھتے ہیں اور باقی نمازوں کے وقت فلم دیکھنے چلے جاتے ہیں۔
2- قرآن مجید روزانہ پڑھنا کس کی ذمہ داری ہے؟ ہندو، سکھ، عیسائی، جینی وغیرہ وغیرہ کی یا مسلمان کی؟ کیا تم روزانہ قرآن پڑھتے ہو؟ کیا تمہاری اولاد روزانہ ایک صفحہ ہی سہی قرآن پڑھتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں کہ سروس، بزنس اور دوسری ذمہ داریوں کی وجہ سے وقت ہی نہیں ملتا۔ میں کہتا ہوں آپ سب بہت بڑا جھوٹ بولتے ہو۔ اب تو واٹس ایپ نے ثبوت دے دیا ہے کہ ہر ایک کے پاس دن رات وقت ہی وقت ہے۔ دیکھیے نا، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، گھر ہو یا آفس، ہر جگہ جسے دیکھو اس کی گردن جھکی ہوئی ہے اور وہ واٹس ایپ پر لگا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ ٹی وی کون دیکھتا ہے؟ اصل میں تو یہی ہے کہ اگر نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں۔
3- اپنے بچوں کو دین کی باتیں سکھانا کس کی ذمہ داری ہے؟ ہم لوگ دنیاوی تعلیم کے ٹیوشن تو خوب لگاتے ہیں مگر قرآن سیکھنے اور دین کی تعلیم دینے کے لیے مسلمانوں کے پاس عام طور پر پیسے نہیں ہیں، اور اگر ہیں تو کم سے کم قرآن پڑھانے والے استاد کو دینے ہیں۔
اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی
4- کسی مسلمان کے لیے صرف دین پر عمل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینا بھی فرض ہے۔ کیا آپ نے اس بارے میں سوچا بھی ہے؟ پھر یہ ذمہ داری کس کی ہے؟ اس ذمہ داری کو ہر مسلمان بہت آسانی سے ادا کر سکتا ہے۔ وہ کیسے؟ سب سے پہلے اپنے عمل کے ذریعہ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور سے ماضی قریب تک نہ کوئی اخبار تھا، نہ ٹی وی، نہ فون اور نہ واٹس ایپ، البتہ ہر مسلمان اپنے عمل کے ذریعہ اسلام کی دعوت دیتا تھا۔ اب بھی اسی کی ضرورت ہے۔ ذاتی اسلامی کردار کے ساتھ موجودہ تمام الیکٹرانک سہولتوں کا استعمال آپ کی پہلی ذمہ داری ہے جس سے مسلمانوں کی اکثریت غافل ہے۔
میری ہر مسلمان سے گزارش ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی فہرست بدل دے۔ پہلے دینی ذمہ داریاں، اس کے بعد دنیا کی ذمہ داریاں۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسلام میں دین و دنیا کا فرق ہی نہیں ہے۔ دنیا کے ہر کام کو اسلام کے بتائے ہوئے طریقے پر کرنا، بس یہی دینداری ہے۔ اس کے لیے آپ میں سے ہر ایک کو دین کے ڈاکٹر یعنی علماء سے دن رات تعلقات رکھنا ہوگا۔ کیا آپ اس کام کے لیے تیار ہیں؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے