कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا گو رکشکوں کا تانڈوں مہاراشٹر میں پھیلتا جارہا ہے؟

تحریر:سید عمران ناندیڑ

مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے قریب حدگاؤں میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہایت تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ایک ٹرک، جو سیب لے کر مدھیہ پردیش جا رہا تھا، اسے روک کر محض شک کی بنیاد پر حملہ کرنا نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، خود کو گؤ رکھشک کہنے والے افراد—جن کا تعلق مبینہ طور پر بجرنگ دل سے بتایا جا رہا ہے—نے ٹرک کو روکا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ اس میں گائے کا گوشت ہے۔ بغیر کسی ثبوت اور قانونی اختیار کے، انہوں نے نہ صرف گاڑی کو نقصان پہنچایا بلکہ ایک بے گناہ شخص، نداف، کو شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔ ڈرائیور کو صرف اس لیے چھوڑ دینا کہ وہ عیسائی تھا، اور کلینر کو اس کے نام کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنانا، اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ بھی دیتا ہے۔
یہ عمل کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لینا، کسی بھی الزام پر خود ہی فیصلہ کرنا اور سزا دینا، ریاستی نظامِ انصاف کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ اگر واقعی کوئی شک تھا تو متعلقہ اداروں—پولیس یا دیگر حکام—کو اطلاع دی جانی چاہیے تھی، نہ کہ خود “فیصلہ” سنا کر تشدد کیا جاتا۔
مہاراشٹر جیسے ریاست میں، جہاں ماضی میں اس نوعیت کے واقعات نسبتاً کم دیکھنے میں آتے تھے، اس طرح کے حملے ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ عناصر مزید حوصلہ پکڑ سکتے ہیں اور امن و امان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ:
اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرے
ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دے
ایسے گروہوں کے خلاف واضح پیغام دے کہ قانون سے بالا تر کوئی نہیں
متاثرہ شخص کو مکمل طبی اور قانونی مدد فراہم کی جائے
یہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی پر حملہ ہے۔ اگر آج اسے نظر انداز کیا گیا تو کل اس کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے