कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلم خواتین اور سوشل میڈیا

تحریر: عظیم احمد خان خاکی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

آج کا دور محض ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی آزمائشوں کا دور ہے۔ سوشل میڈیا نے انسان کو اظہار کی بے پناہ آزادی دی ہے، مگر اسی آزادی کے ساتھ ایک خاموش ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ جب یہ ذمہ داری نظر انداز ہوتی ہے تو آزادی بے راہ روی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مسلم معاشرے میں بالخصوص خواتین کے حوالے سے یہ معاملہ نہایت حساس ہو چکا ہے، جس پر سنجیدگی، حکمت اور ہمدردی کے ساتھ گفتگو ضروری ہے۔
اسلام نے عورت کو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ وہ ماں ہے تو نسلوں کی معمار ہے، بیٹی ہے تو رحمت ہے، بہن ہے تو غیرت کی علامت ہے اور بیوی ہے تو سکون کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے اس کے وقار، حیا اور تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دی گئی۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح اپنی زینت کا اظہار نہ کرو…”* (سورۃ الاحزاب: 33)
یہ آیت عورت کے مقام کو محدود نہیں کرتی بلکہ اسے ایک محفوظ اور باوقار دائرہ فراہم کرتی ہے، جہاں اس کی عزت ہر نگاہ سے بلند رہتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے عورت کی نزاکت اور اس کے احترام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
’’عورت پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے (غیروں کی نظر میں) مزین کر دیتا ہے‘‘ (ترمذی)
یہ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اسلام کا مقصد عورت کو قید کرنا نہیں بلکہ اسے ان نگاہوں سے بچانا ہے جو اس کی عزت کو مجروح کر سکتی ہیں۔
بدلتے ہوئے حالات میں سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں زندگی کے ہر پہلو کو نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں یہ رجحان معصوم نظر آتا ہے—ایک تصویر، ایک ویڈیو، ایک لمحے کی خوشی—but رفتہ رفتہ یہی عادت ایک مستقل مزاج بن جاتی ہے۔ پھر انسان اپنی زندگی کو جینے کے بجائے دکھانے لگتا ہے۔
آج یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ پردہ دار گھرانوں کی خواتین بھی سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر، ویڈیوز اور ذاتی لمحات کو بلا جھجھک شیئر کر رہی ہیں۔ خود نمائی کا یہ رجحان صرف ظاہری بے پردگی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ذہنی تبدیلی کی علامت ہے، جہاں حیا کو "پرانا خیال” اور نمائش کو "اعتماد” سمجھ لیا گیا ہے۔
پہلے غیر محرم کی نظر سے بچاؤ ایک فطری اور معاشرتی قدر تھی۔ ایک اجنبی مرد کے لیے کسی خاتون کو دیکھنا آسان نہ تھا۔ آج وہی فاصلہ ایک موبائل اسکرین کے ذریعے ختم ہو چکا ہے۔ واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام، فیس بک اور اسنیپ چیٹ پر لمحہ بہ لمحہ اپنی موجودگی کو ظاہر کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اس کے نتائج اور دینی و اخلاقی پہلوؤں پر غور نہیں کیا جاتا۔
خاص طور پر شادی بیاہ جیسے مواقع، جو کبھی حیا اور پردے کی علامت ہوتے تھے، اب ایک عوامی نمائش میں بدلتے جا رہے ہیں۔ دلہن، جو صرف مخصوص خواتین کی نگاہ تک محدود ہوتی تھی، اب ہر اس شخص کے سامنے آ جاتی ہے جو اسٹیٹس یا اسٹوری دیکھتا ہے۔ اس عمل میں نہ صرف پردے کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ ایک مقدس موقع کی سنجیدگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کی تقاریب، برتھ ڈے پارٹیز، فئیر ویل، اور سیر و تفریح کے مواقع پر خواتین کا بے حجابانہ انداز میں تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنا ایک "ٹرینڈ” بن چکا ہے۔ گانوں پر ویڈیوز، فلٹرز کے ساتھ تصویریں، اور لائکس و کمنٹس کی دوڑ—یہ سب مل کر ایک ایسی نفسیاتی فضا پیدا کرتے ہیں جہاں انسان اپنی اصل پہچان سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے: سوشل میڈیا صرف دکھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ دیکھنے والوں کا ایک نامعلوم ہجوم بھی ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری پوسٹ کو کون دیکھ رہا ہے، کس نیت سے دیکھ رہا ہے، اور اس کا کیا اثر لے رہا ہے۔ ایسے میں احتیاط اور شعور کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اسلام ہمیں اعتدال کا درس دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال اگر علم، دعوت، تعلیم اور مثبت پیغام کے لیے ہو تو یہ ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ بہت سی مسلم خواتین اس میدان میں قابلِ تحسین کام کر رہی ہیں—تعلیم دے رہی ہیں، دین کی بات پھیلا رہی ہیں، اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا رہی ہیں۔ یہی وہ سمت ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
والدین، بھائیوں اور شوہروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نازک معاملے کو سمجھیں۔ سختی، ڈانٹ یا پابندی وقتی حل تو ہو سکتی ہے، مگر دیرپا اصلاح شعور، محبت اور اعتماد سے آتی ہے۔ گھروں میں دینی ماحول، کھلی گفتگو، اور سوشل میڈیا کے مثبت و منفی پہلوؤں پر آگاہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی طرح خواتین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی اصل قدر کو پہچانیں۔ ان کی عزت ان کے لباس، ان کے رویے، اور ان کے فیصلوں میں جھلکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک لمحے کی توجہ کے لیے اپنی دائمی عزت کو داؤ پر لگانا دانشمندی نہیں۔
آخر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مسئلہ صرف خواتین کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ اصلاح کا عمل تنقید سے نہیں بلکہ شعور، ہمدردی اور مثال سے شروع ہوتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں حیا کو عزت دی جائے، نہ کہ اسے پسماندگی سمجھا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایک بہتر مثال قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے