कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

منگیتر بھی نامحرم ہے: حیا کی حفاظت یا خواہشات کی پیروی؟

An Engaged Partner Is Still a Non-Mahram: Preserving Modesty or Following Desires?*

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اسلام ایک مکمل اور ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کی ظاہری و باطنی پاکیزگی، اخلاقی بلندی اور معاشرتی توازن کو یکساں اہمیت دیتا ہے۔ اس کی تعلیمات زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتی ہیں اور انسان کو ایک متوازن، مہذب اور پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینے کی راہ دکھاتی ہیں۔ ان ہی جامع تعلیمات کا ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو حیا ہے، جسے ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے۔ یہی حیا انسان کے کردار کو سنوارتی ہے، اس کے رویّوں میں وقار پیدا کرتی ہے اور اسے حدودِ شریعت کا پابند بناتی ہے۔
تاہم موجودہ دور، جس میں سوشل میڈیا، ڈیجیٹل رابطوں اور غیر ضروری آزادیوں نے انسانی تعلقات کی نوعیت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، وہاں بعض بنیادی شرعی اصول رفتہ رفتہ نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں منگنی کے بعد کے تعلقات کا مسئلہ خاص طور پر توجہ کا طالب ہے، جہاں لاعلمی، معاشرتی روایات اور جدید ذرائع ابلاغ کے اثرات نے مل کر کئی غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے، جن کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔
مخطوب (مستقبل کا شوہر) یا مخطوبہ (مستقبل کی بیوی)، جسے عام فہم انداز میں منگیتر کہا جاتا ہے، درحقیقت ایک ایسا رشتہ ہے جو ابھی تک شرعی بندھنِ نکاح میں داخل نہیں ہوا ہوتا۔ اس لیے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ منگنی محض ایک وعدہ ہے، نکاح نہیں۔ شریعتِ اسلامی کی رو سے جب تک نکاح منعقد نہ ہو، لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر نامحرم رہتے ہیں۔ چنانچہ ان کے درمیان وہی تمام حدود و قیود لاگو ہوتی ہیں جو دیگر نامحرم افراد کے ساتھ مقرر کی گئی ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں منگنی کو عملاً نکاح کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس غلط تصور کے نتیجے میں نہ صرف شرعی حدود پامال ہوتی ہیں بلکہ بے شمار اخلاقی اور معاشرتی مفاسد بھی جنم لیتے ہیں۔
اسی لیے فقہاءِ اسلام نے اس مسئلے کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ منگنی کے بعد بھی خلوت (تنہائی میں ملاقات)، بلا ضرورت گفتگو اور آزادانہ میل جول ناجائز ہے۔ اس سلسلے میں امام نوویؒ اور دیگر ائمۂ کرام نے واضح کیا ہے کہ منگیتر کا حکم بالکل ایک عام نامحرم جیسا ہی ہے۔ البتہ شریعت نے نکاح کے ارادے سے ایک محدود گنجائش ضرور رکھی ہے، یعنی ایک نظر دیکھنے کی اجازت تاکہ فیصلہ بصیرت اور اطمینان کے ساتھ کیا جا سکے۔ مگر اس محدود اجازت کو بنیاد بنا کر تعلقات کو وسعت دینا یا غیر ضروری قربت اختیار کرنا، شریعت کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اے نبیؐ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں…” (النور: 30)۔ اور خواتین کے لیے فرمایا: "اور اے نبیؐ! مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں…” (النور: 31)۔ یہ قرآنی ہدایات اس حقیقت کو پوری وضاحت کے ساتھ آشکار کرتی ہیں کہ نگاہ کی حفاظت محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک قطعی شرعی حکم ہے، جس کی پابندی ہر حال میں ضروری ہے، خواہ تعلق منگنی کا ہی کیوں نہ ہو۔ اسی بنا پر اسلام نے نگاہوں کی پاکیزگی کو انسانی کردار کی اساس قرار دیا ہے۔ چنانچہ جب شریعت نامحرم کے ساتھ نظر کے معاملے میں احتیاط کا حکم دیتی ہے تو اس میں ہر وہ صورت شامل ہو جاتی ہے جو دل میں غیر ضروری میلان یا کشش پیدا کرے۔
اسی تناظر میں منگیتر کے ساتھ تصاویر کا تبادلہ، بار بار دیکھنا یا دوسروں کو دکھانا بھی اس حکم کے منافی ہے، کیونکہ تصویر دراصل نظر ہی کا تسلسل ہے۔ یوں یہ عمل رفتہ رفتہ بدنظری کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ اگر اس میں لذت، رغبت یا جذباتی وابستگی کا عنصر شامل ہو جائے تو یہ معاملہ محض ایک لغزش نہیں رہتا بلکہ گناہِ کبیرہ تک جا پہنچتا ہے۔ خصوصاً موجودہ ڈیجیٹل دور میں، جب تصاویر اور ویڈیوز لمحوں میں عام ہو سکتی ہیں، اس طرزِ عمل کے نتائج نہایت سنگین اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان نہ صرف اپنی ظاہری نگاہوں بلکہ اپنے دل کی کیفیت کی بھی حفاظت کرے، کیونکہ یہی وہ دروازہ ہے جہاں سے فتنے داخل ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ کردار کو متاثر کرتے ہیں۔
شریعتِ اسلامی نے نکاح کے ارادے سے ایک محدود گنجائش ضرور فراہم کی ہے، تاکہ فریقین ایک دوسرے کو دیکھ کر سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکیں اور آئندہ زندگی کے لیے اطمینان حاصل ہو۔ اس مقصد کے تحت ایک نظر دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے، جو دراصل ضرورت کے دائرے میں ایک حکیمانہ رعایت ہے۔ تاہم اس رعایت کو بنیاد بنا کر بار بار دیکھنے، غیر ضروری ملاقاتیں کرنے یا تصاویر کے تبادلے کو جائز قرار دینا نہ صرف اس حکم کی روح کے منافی ہے بلکہ شریعت کے مزاج سے بھی صریح انحراف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اجازت محدود اور مشروط ہے، اس کا تعلق ضرورت سے ہے، نہ کہ خواہشات سے۔ جب اس حد کو عبور کیا جاتا ہے تو وہی جائز گنجائش ناجائز وسعت اختیار کر لیتی ہے، اور انسان رفتہ رفتہ ان حدود کو توڑنے لگتا ہے جو دراصل اس کی حفاظت کے لیے مقرر کی گئی تھیں۔ اس لیے دانائی کا تقاضا یہی ہے کہ اس اجازت کو اس کے اصل دائرے میں رکھا جائے، تاکہ نہ صرف شریعت کی پاسداری ہو بلکہ تعلقات بھی پاکیزگی اور وقار کے ساتھ اپنی صحیح سمت میں آگے بڑھیں۔
عید اور دیگر خوشی کے مواقع دراصل شکر گزاری، عبادت اور روحانی مسرت کے ایام ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی مبارک مواقع بعض اوقات غیر شعوری طور پر غیر شرعی روابط اور نامناسب طرزِ عمل کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ منگیتر کے ساتھ تصاویر شیئر کرنا، سوشل میڈیا پر انہیں عام کرنا یا ایک دوسرے کو دکھانا بظاہر ایک معمولی اور خوشی کے اظہار کا حصّہ محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اعمال شریعت کی حدود سے تجاوز کے مترادف ہیں۔ یوں انسان نیکی کے موقع پر بھی انجانے میں لغزش کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی نازک پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ایسے مواقع پر شیطان انسان کو بظاہر معصوم اور جائز نظر آنے والے راستوں کے ذریعے گناہ کی طرف مائل کرتا ہے، اس لیے یہاں مزید احتیاط اور خود نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
موجودہ دور میں فتنہ صرف براہِ راست ملاقاتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ موبائل فون، سوشل میڈیا اور نجی چیٹس نے اسے کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اب تصاویر، ویڈیوز اور وائس میسیجز کے ذریعے تعلقات کو مضبوط بنانے کی ایک نئی صورت سامنے آئی ہے، جو بظاہر معصوم دکھائی دیتی ہے، لیکن درحقیقت دلوں میں غیر ضروری قربت اور جذباتی وابستگی پیدا کرتی ہے اور یہی چیز شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور سنگین پہلو بھی ہے کہ ڈیجیٹل مواد کا محفوظ رہنا ہرگز یقینی نہیں۔ بسا اوقات یہی تصاویر اور پیغامات بعد میں بلیک میلنگ، بدنامی یا خاندانی تنازعات کا سبب بن جاتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف فرد بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتے ہیں۔ لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ خوشی کے ان مواقع کو واقعی خوشی اور برکت کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ غفلت اور بے احتیاطی کے ذریعے انہیں آزمائش میں بدل دیا جائے۔
حیا محض ایک ظاہری پردہ یا رسمی تقاضا نہیں، بلکہ یہ ایک گہری باطنی کیفیت ہے جو انسان کے اندر اللّٰہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس بیدار رکھتی ہے اور اسے ہر اس عمل سے باز رکھتی ہے جو اس کی ناراضی کا سبب بنے۔ جب حیا زندہ اور بیدار رہتی ہے تو انسان خود بخود حدودِ شریعت کی پاسداری کرنے لگتا ہے، اس کے اعمال میں سنجیدگی اور کردار میں پاکیزگی پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن جب یہی حیا رخصت ہو جائے تو گناہ کی راہیں ہموار ہونے لگتی ہیں اور انسان بتدریج بے باکی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں نبی کریمﷺ نے یوں بیان فرمایا: "جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو”۔ یہ ارشاد دراصل ایک گہری تنبیہ ہے کہ حیا کا زوال انسان کو اس مقام پر لے جاتا ہے جہاں وہ خیر و شر کی تمیز کھو بیٹھتا ہے، اور یہی اخلاقی انحطاط کی ابتدا ہوتی ہے۔ حیا ایمان کا جوہر ہے۔ نبی کریمﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ "حیا ایمان کا حصّہ ہے”۔ اس ارشاد کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ حیا کی حفاظت دراصل ایمان کی حفاظت ہے۔ چنانچہ جو شخص اپنی حیا کو محفوظ رکھتا ہے، وہ درحقیقت اپنے ایمان کو مضبوط بنیادوں پر قائم رکھتا ہے، اور یہی چیز اسے دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔
آج کے اس تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں، جہاں ہر چیز ایک کلک پر دستیاب ہے اور روابط کے ذرائع بے شمار ہو چکے ہیں، وہاں خود احتسابی اور تقویٰ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایسے ماحول میں انسان کے لیے یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات پر قابو رکھتے ہوئے شریعت کی مقرر کردہ حدود کا شعوری طور پر پاس کرے۔ اسی تناظر میں ہماری ذمّہ داری ہے کہ منگنی کے بعد غیر ضروری گفتگو اور مسلسل رابطے سے اجتناب کریں، اور اگر کسی ناگزیر ضرورت کے تحت بات چیت ہو بھی تو وہ سادگی، سنجیدگی اور حتی الامکان خاندان کی موجودگی میں ہو۔
مزید یہ کہ تصاویر، ویڈیوز، چیٹنگ اور کسی بھی قسم کے ذاتی مواد کے تبادلے سے مکمل پرہیز کیا جائے، کیونکہ یہی وہ راستے ہیں جو بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں مگر رفتہ رفتہ انسان کو غیر محسوس طور پر حدود سے آگے لے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ نکاح کو بلاوجہ مؤخر کرنے کے بجائے حتی الامکان جلد انجام دیا جائے، تاکہ تعلقات کو ایک جائز اور بابرکت بنیاد فراہم ہو سکے۔ مزید برآں، ہر فرد کو نہ صرف اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے بلکہ دوسروں کے وقار اور احترام کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں والدین اور سرپرستوں کی ذمّہ داری بھی نہایت اہم ہے کہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ نگرانی کریں اور اپنی اولاد کی رہنمائی کا فریضہ ادا کریں۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمّہ داری ہے کہ اس شعور کو اپنے گھروں اور معاشرے میں عام کریں، تاکہ ایک ایسا ماحول تشکیل پا سکے جو حیا، پاکیزگی اور شرعی اقدار کا آئینہ دار ہو۔
یہ دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں اور دلکشیوں کے باوجود عارضی ہے، جب کہ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا ہی وہ حقیقی اور دائمی کامیابی ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو کرتی ہے۔ ایسے میں وقتی جذبات، خواہشات اور نفسانی میلانات کے مقابلے میں اگر ہم حیا، تقویٰ اور شریعت کی پاسداری کو ترجیح دیں تو یہی طرزِ عمل ہمارے لیے فلاح و نجات کا ضامن بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے اللّٰہ کی مرضی کو مقدم رکھے، اور اپنی زندگی کو ان حدود کے اندر ڈھالے جو اس کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔
لہٰذا آئیے! ہم سب مل کر عہد کریں کہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں گے، اپنے تعلقات کو پاکیزگی اور وقار کے دائرے میں رکھیں گے، اور اپنی حیا کو ہر حال میں محفوظ رکھیں گے تاکہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں اور ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے سکیں جو اخلاق، شرافت اور دینی اقدار کا حقیقی مظہر ہو۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے