कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ٹرمپ پر حملہ اور نیتن یاہو کا کینسر: ایک استحصالی نظام کے زوال کی دستک کا آغاز ؟

مکافات عمل کا کردار اور تاریخ کے اوراق میں چھپے تلخ حقائق

بقلم: اسماء جبین فلک

تاریخ کے اوراق میں جب بھی کوئی تہذیب اپنی اخلاقی بنیادوں سے منہ موڑتی ہے، تو اس کا زوال کسی بیرونی طاقت کا محتاج نہیں رہتا، بلکہ وہ اپنے ہی پیدا کردہ تضادات کی بھٹی میں خاکستر ہو جاتی ہے۔ ابن خلدون نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "مقدمہ” میں اس حقیقت کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے کہ جب کوئی حکومت عدل کو ترک کر کے استبداد کا راستہ اختیار کرتی ہے، تو اس کی عصبیت یعنی اجتماعی قوت ارادی کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ اندر سے کھوکھلی ہو کر بکھر جاتی ہے۔ آج مشرق وسطیٰ کے افق پر جو خونی کہرا چھایا ہوا ہے، اور عالمی سیاست کے جو مہرے اس کھیل کے محور میں ہیں، ان کا مطالعہ اسی خلدونی تناظر میں کیا جائے تو بہت سے پوشیدہ سچ منظر عام پر آتے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ پر ہونے والا قاتلانہ حملہ اور بنجمن نیتن یاہو کا پروسٹیٹ کینسر محض انفرادی واقعات نہیں، بلکہ یہ اس وسیع تر سیاسی و اخلاقی بحران کی علامتیں ہیں جو ایک ظالمانہ اور استحصالی عالمی نظام کے باطن سے پھوٹ رہا ہے۔
فلسطین کی سرزمین پر جو کچھ گزر رہا ہے، اسے سمجھے بغیر ان واقعات کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ کاری انسانی امور کی رپورٹوں کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اب تک غزہ میں شہریوں کی اموات کی تعداد دسیوں ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں بچوں اور خواتین کا تناسب نہایت تکلیف دہ حد تک زیادہ ہے۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی آزادانہ تحقیقی رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رہائشی علاقوں، اسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے جنوری 2024ء میں جنوبی افریقہ کی درخواست پر اسرائیل کو ہدایت کی کہ وہ نسل کشی کے ممکنہ اقدامات سے باز رہے، تاہم اس عدالتی حکم کو جس ڈھٹائی سے نظر انداز کیا گیا، وہ عالمی قانونی نظام کی بے دست و پائی کا ایک اور ثبوت ہے۔ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر مسلسل فضائی حملے اور ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والا حملہ، جس میں معصوم طالبات جاں بحق ہوئیں، یہ سب اس خونیں سلسلے کی کڑیاں ہیں جو محض عسکری کارروائیاں نہیں بلکہ انسانی اخلاقیات کے جنازے ہیں۔
اس تناظر میں نیتن یاہو کی قیادت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کی حکومت نے نہ صرف غزہ میں فوجی آپریشن کو جواز فراہم کیا بلکہ بین الاقوامی برادری کی تنقید اور عدالتی احکامات کو بھی یکسر نظرانداز کیا۔ ان کے ناقدین، جن میں خود اسرائیلی سیاست دان اور سابق فوجی افسران بھی شامل ہیں، یہ کہتے رہے ہیں کہ نیتن یاہو نے اپنی ذاتی سیاسی بقا کے لیے جنگ کو طول دیا۔ اسرائیلی اخبار ہاریتز نے اپنی متعدد تحقیقاتی رپورٹوں میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا وزیراعظم کے فیصلے قومی سلامتی کے تقاضوں سے مشروط ہیں یا ان کے اپنے عدالتی مقدمات سے بچنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اب جبکہ ان کے پروسٹیٹ کینسر اور اس کی تشخیص میں اختیار کی گئی خفیہ کاری کا انکشاف ہوا ہے، تو یہ معاملہ محض طبی نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسے حکمران کی سیاسی و اخلاقی تنہائی کا استعارہ بن گیا ہے جو بیک وقت ایک عالمی عدالت کے فیصلے، اپنے ہی ملک کے احتجاجی شہریوں اور اب ایک لاعلاج بیماری کے سامنے بے بس کھڑا ہے۔ اقتدار کا نشہ انسان کو جسمانی فنا سے نہیں بچا سکتا اور یہی وہ لمحہ ہے جب فرد کی حقیقی بے بسی آشکار ہوتی ہے۔
ٹرمپ کا معاملہ اس سے مختلف نوعیت کا ہے لیکن اتنا ہی اہم اور فکر انگیز ہے۔ جولائی 2024ء میں پنسلوانیا کی ریلی میں ان پر ہونے والا قاتلانہ حملہ، جس میں وہ بال بال بچے، امریکی سیاسی تاریخ کا ایک تکلیف دہ باب ہے۔ تاہم اسے صرف ایک جنونی شخص کی کارروائی قرار دے کر آگے بڑھ جانا فکری کوتاہی ہوگی۔ یہ واقعہ اس گہری سیاسی تقسیم، انتہاپسندانہ خطابات اور نفرت کے کلچر کا منطقی نتیجہ ہے جسے ٹرمپ نے خود اپنے سیاسی سفر میں ہوا دی۔ نوم چومسکی نے اپنی تصنیف "رائے سازی کی صنعت” میں یہ واضح کیا ہے کہ جب ریاستی اور صحافتی اداروں کا مقصد حقیقت کی ترسیل کے بجائے طاقت کا تحفظ بن جائے، تو معاشرہ اندرونی طور پر پھٹنے لگتا ہے۔ امریکی معاشرے میں آج جو تشدد، انتہاپسندی اور سیاسی بداعتمادی کا طوفان ہے، وہ اسی کارخانے کی پیداوار ہے جسے ٹرمپ اور ان جیسے سیاست دانوں نے برسوں تک اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ ہنا ارنڈٹ نے "آمریت کے ماخذ” میں جس خطرے سے آگاہ کیا تھا، یعنی کہ جب سیاست نفرت اور تماشے کی زبان بول کر عوام کو حقیقت سے کاٹ دے، تو وہ معاشرہ اپنے ہی عوامل کا شکار ہو جاتا ہے، آج کا امریکہ اس انتباہ کی ایک زندہ تصویر ہے۔
یہاں ایک سوال فطری طور پر ابھرتا ہے کہ کیا ان واقعات کو "مکافات عمل” کہنا درست ہے؟ اس تصور کو اگر محض مابعدالطبیعاتی معنوں میں لیا جائے تو یہ تجزیے کو کمزور کرتا ہے، لیکن اگر اسے ایک تاریخی اور سماجی قانون کے طور پر پڑھا جائے تو یہ انتہائی بامعنی ہو جاتا ہے۔ ہیگل کے فلسفہ تاریخ میں "جدلیاتی عمل” کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ہر نظام اپنے اندر ایسے تضادات پیدا کرتا ہے جو بالآخر اس نظام کو خود ہی چیلنج کرتے ہیں اور ایک نئی صورتحال کو جنم دیتے ہیں۔ استحصال پر قائم کوئی بھی نظام چاہے وہ نوآبادیاتی ہو، فاشسٹ ہو یا نو لبرل، اپنی داخلی ناہمواریوں کے وزن تلے ایک دن دب کر رہتا ہے۔ اس لحاظ سے ٹرمپ کی سیاسی بے یقینی اور نیتن یاہو کی جسمانی و اخلاقی تنہائی ان کی ذاتی کہانیاں ضرور ہیں، لیکن بیک وقت یہ اس وسیع تر نظام کی چرچراہٹ بھی ہیں جو اپنے ہی بوجھ سے ٹوٹنے کے قریب ہے۔
ان سب کے باوجود یہ ضروری ہے کہ ہم مخالف موقف کو بھی دیانت دارانہ نگاہ سے دیکھیں، کیونکہ تنقیدی تجزیے کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ اپنے دعوے کو دلیل سے ثابت کرے، جذبے سے نہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا موقف یہ ہے کہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد انہیں اپنے شہریوں کی حفاظت کا حق حاصل ہے، اور ٹرمپ کی پالیسیاں امریکی قومی مفاد کی عکاس ہیں۔ تاہم بین الاقوامی انسانی قانون، خاص طور پر جنیوا کنونشن کی چوتھی دفعہ، یہ صراحت کرتی ہے کہ خود دفاع کا حق بھی شہری آبادی کو تباہ کرنے کا لائسنس نہیں دیتا۔ یعنی اصل سوال حق دفاع کا نہیں بلکہ اس حق کے استعمال میں تناسب اور اخلاقی حدود کا ہے، اور انہی حدود کی خلاف ورزی وہ نقطہ ہے جہاں دلیل ختم ہو جاتی ہے اور جرم شروع ہو جاتا ہے۔
عالمی نظام کی اس بے بسی کو سمجھنے کے لیے ہمیں دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے ادارہ جاتی ڈھانچے پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالت انصاف اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی منشور، یہ سب اس یقین پر قائم کیے گئے تھے کہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد دنیا ایک ایسا نظام بنائے گی جہاں طاقت نہیں بلکہ قانون حرف آخر ہوگا۔ لیکن آج سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا بے دریغ استعمال، بین الاقوامی عدالت کے فیصلوں کی بے توقیری اور طاقتور ممالک کی جانب سے انسانی حقوق کے معیارات کا انتخابی اطلاق، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ نظام اپنے بانی مقاصد سے بھٹک چکا ہے۔ اس نظام کی اصلاح کے بغیر نہ فلسطین کا مسئلہ حل ہوگا، نہ کشمیر کا، اور نہ ہی دنیا کے کسی اور کونے میں جاری ظلم کا خاتمہ ہوگا۔ اس اصلاح کا راستہ تین محوروں سے گزرتا ہے: اول، سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی اصلاح تاکہ کوئی بھی ملک بین الاقوامی قانون سے بالاتر نہ رہے؛ دوم، بائیکاٹ، سرمایہ کاری سے انخلا اور پابندیوں جیسی تحریکوں کو عالمی شہری معاشرے کی سطح پر منظم کرنا جو ظالم حکومتوں پر معاشی دباؤ ڈال سکیں؛ سوم، آزاد اور غیر جانبدار عالمی میڈیا کی ایسی فضا کا قیام جو صرف طاقتوروں کی ترجمانی نہ کرے بلکہ مظلوموں کی آواز کو بھی برابری کی سطح پر سنے۔
تاریخ نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ہٹلر کی فاشسٹ ریاست، اسٹالن کا آمرانہ نظام اور نوآبادیاتی یورپی سلطنتیں، یہ سب اپنے عروج کے دنوں میں ناقابل تسخیر لگتی تھیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے اندرونی تضادات اور اخلاقی گراوٹ کے بوجھ سے بچ نہ سکا۔ نپولین جب ماسکو سے شکست کھا کر پلٹا تو وہ محض ایک فوجی شکست نہیں تھی، بلکہ وہ ایک ایسی توسیع پسند ذہنیت کا خاتمہ تھا جو طاقت کو اپنی فطری حد سمجھتی تھی۔ آج کے نیتن یاہو اور ٹرمپ اگرچہ اپنے تاریخی سیاق میں منفرد کردار ہیں، لیکن اپنی فکری ساخت میں وہ اسی روایت کے وارث ہیں جو طاقت کو جواز اور مفاد کو اخلاق سمجھتی ہے۔ اور تاریخ کا فیصلہ ایسے کرداروں کے بارے میں ہمیشہ ایک جیسا رہا ہے۔
فلسطین، لبنان اور مشرق وسطیٰ کے دیگر مظلوم خطوں کے عوام کی جدوجہد کو محض سیاسی تنازعے کے طور پر پڑھنا ایک بڑی فکری غلطی ہوگی۔ یہ اصلاً انسانی وقار، بقا اور شناخت کی ایک ایسی پکار ہے جو صدیوں کے ظلم سے تپ کر اور بھی خالص ہو گئی ہے۔ تاریخ کبھی کسی کا لحاظ نہیں کرتی اور جو حکمران وقت کی نبض نہیں پہچانتے، وہ بالآخر اسی تاریخ کے بے رحم صفحات میں دفن ہو جاتے ہیں، نہ عزت کے ساتھ، نہ احترام کے ساتھ، بلکہ محض ایک عبرت کے نشان کے طور پر۔ انسانیت کا حقیقی مستقبل کسی حکمران کی انا یا کسی سلطنت کی توپوں کے سائے میں نہیں، بلکہ اس اخلاقی اصول میں پوشیدہ ہے جس کے تحت ہر انسانی جان قابل احترام ہے، ہر مظلوم کی آہ سنی جانی چاہیے اور ہر ظالم کا احتساب ناگزیر ہے۔ یہی وہ سچائی ہے جو ہر دور میں زندہ رہی ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو ظلم کی گہری سے گہری تاریکی کو بھی چیر کر راستہ نکال لیتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے