कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گدھا:دنیا کا ذہین ترین وفادار جانور

(گدھے کی غیر معمولی صلاحیتیں: سائنس کے آئینے میں ایک نظرانداز مخلوق)

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

یوکرین کے شہر چرنیہیو کے قریب واقع ایک دیہی فارم میں ببولک اور ببوشکا نامی دو گدھوں نے بغیر کسی بیرونی مدد کے بھیڑیوں اور لومڑیوں کے حملے ناکام بنا کر پورے ریوڑ کو محفوظ رکھا۔ یہ کوئی محض اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ گدھے کی اس فطری صلاحیت کا روشن ثبوت ہے جسے انسان صدیوں سے محض سست اور کم عقل سمجھتا آیا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق اب اس فرسودہ تصور کو یکسر بدل رہی ہے۔ گدھا دراصل قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جس میں ذہانت، احساسِ تحفظ، وفاداری اور غیر معمولی قوت کا بے مثال امتزاج پایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت کے مطابق دنیا بھر میں گدھوں کی مجموعی آبادی 50.5 ملین اور خچروں کی 7.9 ملین ہے، جن میں سے 99 فیصد سے زائد جانور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں محنت و مشقت اور بار برداری کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تنہا ایتھوپیا میں گدھوں کی تعداد 21 لاکھ سے متجاوز ہے، جبکہ سوڈان، بھارت،پاکستان اور چاڈ میں بھی ان کی بڑی تعداد موجود ہے۔
گدھے کی قوتِ حافظہ کو عموماً نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (ڈیوس) اور یونیورسٹی آف کورڈوبا کے محققین کی ایک سائنسی تحقیق، جو 2024 میں جرنل آف ویٹرنری بیہیویئر میں شائع ہوئی، یہ ثابت کرتی ہے کہ گدھے اشیا کے مستقل وجود کے تصور کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ان کا قلیل مدتی حافظہ کم از کم 1 منٹ اور 30 سیکنڈ تک مکمل فعال رہتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران 12 گدھوں کی دو مراحل میں آزمائش کی گئی؛ پہلے مرحلے میں 30 سیکنڈ اور دوسرے میں 1 منٹ تک چھپائی گئی شے کا مقام یاد رکھنے کا مشاہدہ کیا گیا۔ نتائج سے واضح ہوا کہ گدھے گھوڑوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر جانوروں کی مانند انتہائی پیچیدہ ذہنی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ سن 2024 ہی کی ایک اور سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ گدھوں کی فکری صلاحیتوں میں پایا جانے والا وراثتی تنوع اس امر کی علامت ہے کہ وہ محض "ضدی” نہیں بلکہ حقیقی فہم و فراست کے مالک ہیں۔ ان کا حافظہ اس قدر قوی ہوتا ہے کہ وہ ایک مرتبہ طے کیے گئے راستے کو مدتوں یاد رکھتے ہیں، اور اگر کسی مقام پر ان کو گزند پہنچی ہو تو وہ دوبارہ وہاں قدم رکھنے سے صاف گریز کرتے ہیں۔
گدھے کی نمایاں ترین خصوصیت اس کا شدید احساسِ خود حفاظتی ہے۔ گھوڑے عموماً خوف کے زیرِ اثر بے تحاشا بھاگتے ہوئے کھائی تک میں گر سکتے ہیں، لیکن گدھا کسی بھی دباؤ میں آ کر خطرے کی جانب ایک قدم بھی نہیں بڑھاتا۔ گدھوں کی فطرت ہے کہ وہ کسی آفت کے وقت یا تو ساکت ہو جاتے ہیں یا پھر مجتمع ہو کر شکاری جانور کا بے جگری سے سامنا کرتے ہیں، جو کم نفوس والے گروہ کے لیے ایک کارگر دفاعی حکمتِ عملی ہے۔ دی ڈونکی سینکچوری کے مطابق گدھے میں خود حفاظتی کی حِس بے حد تیز ہوتی ہے اور وہ ہر اس کام سے قطعی انکار کر دیتا ہے جس میں خطرے کا شائبہ ہو۔ یہ نام نہاد "ضد” جسے انسانی لاعلمی خامی تصور کرتی ہے، درحقیقت اس کی عمیق فہم و فراست کا مظہر ہے کیونکہ وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تمام صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔
گدھے کے بڑے کان محض اس کی ظاہری ساخت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک طاقتور رڈار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے کان مختلف سمتوں میں آزادانہ حرکت کر کے آواز کے سرچشمے کا قطعی پتا لگا لیتے ہیں، اور یہی حسی تیزی اسے قرب و جوار کے ماحول کی معمولی ترین آہٹ سے بھی باخبر رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ وسیع و عریض کان جسم کے درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر موجود خون کی باریک نالیاں اضافی گرمی خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں، جو صحرائی خطوں کے لیے قدرت کی ایک شاندار موافقت ہے۔
گدھے کے مزاج کا ایک ایسا روشن رُخ بھی ہے جو بیشتر نگاہوں سے پوشیدہ رہا ہے۔ یہ بظاہر خاموش اور دھیما جانور بھیڑیوں، لومڑیوں اور درندہ صفت آوارہ کتوں کے سامنے ایک چوکنا محافظ ثابت ہوا ہے۔ جرنل پیئر جے میں 2026 میں شائع ہونے والے ایک عالمی تحقیقی جائزے کے مطابق گدھوں کو بھیڑیوں، جنگلی کتوں، لومڑیوں اور لنکس کے تدارک کے لیے بے حد مؤثر پایا گیا ہے۔ ہسپانیہ کے ایک آزمائشی منصوبے میں چار مویشی فارموں پر ایک ایک زامورانو لیونیز نسل کا گدھا تعینات کیا گیا، اور 12 ماہ بعد درندوں کے حملوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جنوبی افریقہ میں گدھوں کی تعینیاتی کے دوران بھیڑ کے بچوں کے دودھ چھڑانے کی شرح 91 سے 100 فیصد تک رہی جبکہ چھوٹے مویشیوں کے نقصان کی شرح گھٹ کر صفر تا 10 فیصد پر آ گئی۔ تاہم محققین اس امر کی نشان دہی بھی کرتے ہیں کہ بھیڑیوں کے بڑے غول کے سامنے گدھوں کی مدافعت محدود ہو سکتی ہے، نیز ان کی کارکردگی زمینی ہیئت، درندوں کے طریقۂ کار اور جانور کے ذاتی مزاج پر بھی منحصر ہے۔ دوسری طرف سوئس حکومت نے بھیڑیوں کے خلاف گدھوں کے بطور محافظ استعمال کی باضابطہ اجازت دینے سے احتراز کیا، کیونکہ ان کے نزدیک یہ امر اب تک قطعی سائنسی بنیادوں پر ثابت نہیں کہ گدھے ہر نوع کے خطرے میں ناقابلِ تسخیر ڈھال بن سکتے ہیں۔
گدھی کا دودھ دنیا کی گراں ترین ڈیری مصنوعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک گدھی روزانہ محض 200 تا 300 ملی لیٹر دودھ دیتی ہے، اور یہی محدود مقدار اس کی نایابی اور قدر و قیمت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ یورپ اور امریکا میں گدھی کا دودھ 60 تا 130 ڈالر فی لیٹر تک فروخت ہوتا ہے، جبکہ بھارت میں اس کی قیمت 5,000 تا 7,000 روپے فی لیٹر تک جا پہنچتی ہے۔ البانیہ میں گدھی کے دودھ سے تیار کردہ پنیر 50 یورو فی کلو سے زائد نرخ پر دستیاب ہے۔ اس دودھ میں حیاتین، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، اور اس کے اجزا انسانی ماں کے دودھ سے گہری مشابہت رکھتے ہیں، جس کے باعث یہ جلدی صحت اور جسمانی قوتِ مدافعت میں بہتری کے لیے اکسیر تسلیم کیا جاتا ہے۔
گدھے کی سب سے مسحور کن اور دل گداز صفت اس کا جذباتی وجود ہے۔ گدھے باہمی طور پر ایک مضبوط جوڑی دار رشتہ قائم کرتے ہیں جسے سائنسی اصطلاح میں "پیئر بانڈ” کہا جاتا ہے، اور یہ تعلق ان کی بقا اور خوش حالی کے لیے لازمی ہے۔ ہیونلی پاسچرز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جب اس جوڑے میں سے کسی ایک ساتھی کی موت واقع ہو جائے تو دوسرا گدھا اس قدر شدید صدمے کی لپیٹ میں آ جاتا ہے کہ اس کا یہ رنج جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ غم کے مارے وہ دانہ پانی ترک کر دیتا ہے اور چند ہی روز میں "ہائپرلیپیمیا” نامی مہلک بیماری کا شکار ہو جاتا ہے، جس میں جسم تیزی سے اپنی چربی پگھلا کر جگر اور گردوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ عارضہ ایک ایسے گدھے کو بھی چند دن میں ہلاک کر سکتا ہے جو ایک ہفتہ قبل بالکل تندرست تھا۔ دی ڈونکی سینکچوری کے مشاہدے کے مطابق اپنے رفیق کی جدائی پر گدھا بدحواسی کے عالم میں گھومتا ہے، تیز تیز قدم اٹھاتا ہے اور درد ناک آوازیں نکال کر اسے پکارتا ہے۔
اسی تناظر میں گدھوں کی بقا اور فلاح کا معاملہ آج بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ بروک نامی فلاحی ادارے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد گھوڑے، گدھے اور خچر محنت مزدوری کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جن کے دم قدم سے قریباً 600 ملین افراد اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ اس کے برعکس گدھوں کی آبادی شدید نوعیت کے خطرات سے دوچار ہے۔ چین میں "ای جیاؤ” نامی روایتی جیلیٹن کی تیاری کے واسطے گدھوں کی کھالوں کی مانگ نے افریقی اور ایشیائی ممالک میں ان کی تعداد کو ہولناک حد تک کم کر دیا ہے۔ دی ڈونکی سینکچوری کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہر سال کم از کم 49 لاکھ گدھے محض ای جیاؤ کی مانگ پوری کرنے کے لیے ذبح کر دیے جاتے ہیں۔ بروک نے سخت تنبیہ کی ہے کہ اگر اس بے دریغ تجارت کا راستہ نہ روکا گیا تو افریقہ 2040 تک اپنے نصف گدھوں سے محروم ہو جائے گا۔ اسی بحران کے پیشِ نظر فروری 2024 میں افریقی یونین نے گدھوں کی کھال کی برآمد اور تجارت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ صادر کیا، جسے جانوروں کے حقوق کے تحفظ میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
گدھا حقیقتاً قدرت کا ایک ایسا مظہر ہے جسے انسانی غفلت اور تنگ نظری نے ہمیشہ کم تر جانا۔ اس کی دانائی، فطری خود حفاظتی، بے پناہ قوت اور غیر متزلزل جذباتی وفا اسے دیگر تمام حیوانات سے الگ اور ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ سائنسی شواہد آج اس سچائی کی تائید کر رہے ہیں جسے کاشت کار زمانۂ قدیم سے جانتے تھے، یعنی گدھا محض بوجھ ڈھونے والا بے زبان غلام نہیں بلکہ ایک ہوشیار محافظ، باوفا رفیق اور انتہائی باشعور مخلوق ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم گدھے سے متعلق اپنے فرسودہ تصورات کو خیرباد کہیں، اس کی فلاح و تحفظ کے مؤثر اقدامات کریں اور اسے وہ قدر و منزلت دیں جس کا وہ فی الواقع حق دار ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے