कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وزن بڑھ رہا ہے مگر کھانا کم ہے — آخر کیوں؟

تحریر: ڈاکٹر مرزا اطیب بیگ
BAMS , CCH , CSD , PGCEMS
پوسد ضلع ایوت محل

’’ڈاکٹر صاحب! میں پہلے سے کم کھا رہا ہوں، میٹھا بھی تقریباً چھوڑ دیا ہے، پھر بھی وزن بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘
یہ شکایت آج کل بہت عام ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وزن صرف زیادہ کھانے سے بڑھتا ہے، اس لیے جب انہیں لگتا ہے کہ وہ کم کھا رہے ہیں اور پھر بھی وزن بڑھ رہا ہے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ وزن صرف کھانے کی مقدار سے طے نہیں ہوتا۔ جسم کا وزن کئی عوامل کے مجموعے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
سب سے پہلے جسمانی سرگرمی کو دیکھنا ضروری ہے۔ کوئی شخص پہلے کی نسبت کم کھا رہا ہو، لیکن اگر اس کی روزمرہ حرکت بھی بہت کم ہوگئی ہو تو مجموعی توانائی کا خرچ کم ہو سکتا ہے۔ گھنٹوں بیٹھے رہنا، پیدل چلنے کی عادت ختم ہوجانا اور ورزش نہ کرنا وزن بڑھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دوسرا اہم عامل نیند ہے۔ مسلسل کم یا بے ترتیب نیند بھوک اور پیٹ بھرنے سے متعلق ہارمونز اور کھانے کے رویے کو متاثر کر سکتی ہے۔ نیند کی خرابی کے نتیجے میں بعض افراد کو زیادہ بھوک لگ سکتی ہے یا وہ زیادہ کیلوری والی غذاؤں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اکثر اپنی غذا کی اصل مقدار کا اندازہ نہیں ہوتا۔ چائے میں چینی، بسکٹ، تیل، تلی ہوئی چیزیں، میٹھے مشروبات، چٹنی، خشک میوہ جات یا کھانے کے درمیان لیے جانے والے چھوٹے چھوٹے اسنیکس بظاہر معمولی لگتے ہیں، لیکن پورے دن میں ان کی کیلوریز کافی بڑھ سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ ادویات اور بعض طبی مسائل بھی وزن میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض ہارمونل مسائل، تھائیرائڈ کی خرابی، جسم میں پانی جمع ہونا اور کچھ مخصوص ادویات وزن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ہر شخص میں وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے صرف یہ کہنا کہ "کم کھاؤ، وزن کم ہوجائے گا” ہمیشہ کافی نہیں ہوتا۔
ایک اور عام غلط فہمی یہ ہے کہ وزن کی مشین پر چند کلو کا اضافہ لازماً چربی بڑھنے کی علامت ہے۔ جسم کا وزن پانی، نمک، آنتوں میں موجود غذا اور دیگر عوامل کی وجہ سے بھی دن بہ دن بدل سکتا ہے۔ خاص طور پر اچانک وزن بڑھنے کے ساتھ اگر ٹانگوں یا جسم کے دوسرے حصوں میں سوجن بھی ہو تو اسے صرف موٹاپا سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
وزن کم کرنے کے لیے صرف کھانا کم کرنا کافی نہیں۔ غذا کا معیار، مناسب کیلوری، پروٹین اور فائبر، روزمرہ جسمانی سرگرمی، ورزش، نیند اور مستقل مزاجی سب اہم ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزن کو صرف ترازو کے ایک ہندسے کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ کمر کا گھیر، جسمانی سرگرمی، بلڈ پریشر، خون میں شوگر اور مجموعی صحت بھی اہم ہیں۔
اگر کسی شخص کا وزن مسلسل بڑھ رہا ہو، باوجود اس کے کہ اس کی غذا اور معمول میں واضح تبدیلی آچکی ہو، تو وجہ تلاش کرنا ضروری ہے۔ خاص طور پر غیر معمولی تیزی سے وزن بڑھنے، سوجن، شدید تھکن یا دیگر علامات کی موجودگی میں طبی معائنہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
اس لیے وزن کم کرنے کے لیے اندھا دھند ڈائٹ، غیر ضروری سپلیمنٹ یا خود سے دوا لینے کے بجائے اپنی غذا اور طرزِ زندگی کا جائزہ لینا، اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے مناسب معائنہ اور تشخیص کروانا زیادہ محفوظ اور بہتر راستہ ہے-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے