कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا اس ماہ مقدس میں بھی ہمارے شیطانِ حرصِ مال قید نہ ہوں گے

محمد ضیاء الدین (پربھنی) 9822651193

رمضان المبارک اپنے جذبۂ صبر و عزیمت و فرمانبرداری و قربانی اور اطاعت کے سبب جہاں سارے عالم کے لیے ایک قابلِ رشک و قابلِ تقلید مہینہ ہے وہیں مسلمانانِ عالم کے لیے ماہِ مقدس و ماہِ بابرکت ہے کہ اس ماہِ مقدس میں ہر مسلمان اللہ کے ہر حکم کی پابندی اور اطاعت کے لیے تیار رہتا ہے اور گراں گزرنے کے باوجود ہر عمل کی ادائیگی کی ہر ممکن کوشش کرکے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرکے اس کی رضا کے حصول کا آرزو مند رہتا ہے۔ یہ وہ ماہِ مقدس ہے، اس مہینے میں کی جانے والی نیکیوں کی جزا بڑھا دی جاتی ہے اور بندوں کو ان کے اعمال کی جزا مولا خود دیتا ہے۔ ایسے ماہِ مقدس میں جبکہ بندے کو نیکیوں کی راہ سے گمراہ کرنے والے شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے اور آسمان سے رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ بندگانِ خدا حصولِ رحمت و حصولِ برکت کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں، گزشتہ چند برسوں سے یہ دل خوش کن مناظر دیکھنے مل رہے ہیں کہ مسلم نوجوانوں میں روزے کا شوق بڑھتا جا رہا ہے، وہیں وہ اس ماہِ مقدس میں نمازوں کی پابندی کر رہے ہیں، تراویح کی جماعتوں میں بشمول نوجوانوں کے ایک بڑی تعداد مصروفِ عبادت نظر آ رہی ہے، حتیٰ کہ دس دن میں قرآن والی تراویح میں بھی لوگ کثیر تعداد میں نظر آ رہے ہیں اور ان میں بھی نوجوانوں کی تعداد ماشاءاللہ کافی زیادہ نظر آ رہی ہے۔ خیر خیرات، افطار کی دعوتیں، صاحبِ نصاب لوگوں کی جانب سے زکوٰۃ کی ادائیگی جیسے خوشنما مناظر ہیں تو وہیں یہ بھی مناظر دیکھنے مل رہے ہیں کہ مسلمانوں کے کچھ طبقات یعنی کہ تاجر طبقے کی ایک بڑی تعداد نے جو رویہ اختیار کیا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کی حرص و ہوس اور مال کی طمع کے شیاطین قید ہونے کے بجائے ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہو۔ یہ ماہِ مقدس جو نیکیوں کی دولت کمانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، انھوں نے نیکیوں کے بجائے سیم و زر کی دولت کمانے کو ہی اپنا مقصد بنا لیا ہو جس سے ممکن ہے ان کی دنیاوی دولت اور عیش و آرام میں اضافہ ہو لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ اصل دولت اخروی دولت ہے جو لازوال ہے لیکن یہ حصولِ مال کے چکر میں ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ ان کو اس اخروی دولت کی کوئی پروا نہیں رہ گئی جو حد درجہ افسوسناک بات ہے۔
آج ایسے وقت جبکہ ہر جگہ مسلمان ہزارہا آفتوں اور مصیبتوں کے شکار ہیں، کہیں ظلم و زیادتی کے شکار ہیں تو کہیں قتل و غارت گری کا نشانہ بن رہے ہیں، تو کہیں ان پر لعن طعن کے تیر برسائے جا رہے ہیں، کہیں ان کو ان کی اصلی شناخت سے ہٹا کر زمانے کی ذلت میں گرانے کی سازشیں ہو رہی ہیں اور اس سے یہ ملت جا بجا جوجھ رہی ہے لیکن اس کے باوجود اس کو حرص و ہوسِ مال کے ڈریگن نے ایسا جکڑ رکھا ہے کہ وہ مال کے حصول کی لالچ میں سب دیکھتے جانتے بوجھتے ہوئے بھی اندھی اور بے بس ہے اور اس کی خاطر ایمان جیسی لازوال دولت سے کنارہ کشی کر رہی ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک جیسے ماہِ مقدس کی آمد کو مسلمانوں کے لیے روحانی دولت بٹورنے کا ایک بہترین موقع مانا جاتا ہے لیکن وہیں افسوسناک صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے تاجر طبقے کے ایک بڑے حصے نے اس کو دنیاوی دولت لوٹنے کا ذریعہ مان لیا ہے جہاں عام مسلمان رمضان کی آمد کے ساتھ اس احساس سے سرشار ہو جاتا ہے کہ اب اس کی مرادوں کی جھولی رب کی رحمت سے بھر جائے گی وہیں تاجروں کا یہ طبقہ اس احساس سے شاداں و فرحاں ہوتا ہے کہ اب اس کے ناقص مال کے اونچے داموں میں بکنے سے اس کی تجوری بھر جائے گی اور معمول سے زیادہ نفع کما کر اپنی مال و زر کی ہوس کی پیاس بجھا پائے گا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ پیاس ہے جو قبر میں جانے تک نہیں بجھتی لیکن جب عقل پر لالچ کا پردہ پڑ جائے اور دل حبِ مال سے آلودہ ہو جائے تو پھر کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ اسلام میں تجارت کو ایک مقدس ذریعۂ روزگار قرار دیا گیا ہے اور اللہ کے نبی ﷺ نے اسے باعثِ برکت قرار دیا ہے لیکن وہیں تجارت کے اصول بھی متعین کیے گئے ہیں اور منافع خوری، ملاوٹ اور نقلی مال کو اصلی بتا کر بیچنے، لوٹ کھسوٹ کرنے اور ناپ تول میں کمی کرنے کو باعثِ گناہ قرار دیا اور اس پر سخت وعید سنائی۔
ایک دور تھا جب ایمانداری مسلم تاجروں کی پہچان تھی اور لوگ بالخصوص غیر مسلم، مسلم تاجر سے مال خریدنے کو ترجیح دیتے تھے اور آج بھی کہیں کہیں یہ صورتِ حال موجود ہے لیکن یہ بھی ہے کہ آج ہماری وہ وقعت و عزت نہیں رہی کہ لوگ ہم پر آنکھیں موند کر بھروسا کریں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تاجروں کے ایک طبقے نے اپنے دینی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر زمانے کی روش اختیار کر لی ہے۔ یہی سبب ہے کہ یہ منظر نامہ اب تیزی سے بدل رہا ہے اور دوسرا رخ اختیار کر رہا ہے۔ یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جہاں عبادتوں کے معاملے میں کافی آگے بڑھ رہی ہے وہیں معاملات کے معاملے میں پیچھے جا رہی ہے جبکہ عبادات فرد کا ذاتی معاملہ ہے جس کی کمی بیشی پر اللہ کی جانب سے معافی مل سکتی ہے لیکن معاملات کا تعلق معاشرے سے ہے اور یہاں ہونے والی غلطیوں اور کوتاہیوں کے اثرات دوسروں پر پڑتے ہیں اور یہ عمل حقوق العباد سے تعلق رکھتا ہے جس کے لیے کوئی معافی نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے حقوق العباد کے تعلق سے سخت ہدایات دی ہیں، وہیں حرص و ہوسِ مال کے انجام سے بھی واقف کرایا لیکن اس کے باوجود ہماری اکثریت ان تعلیمات کو فراموش کرکے محض حصولِ مال کے لیے دھوکے بازی میں مصروف ہے اور اس میں اتنی غرق ہو گئی ہے کہ اسے اپنے اس عمل کے دوران یہ احساس بھی نہیں رہتا کہ یہ گناہ وہ اس ماہِ مقدس میں کر رہا ہے جس میں ایک نیکی کا ثواب ستر گنا زیادہ ملتا ہے۔ ظاہر ایسے مقدس مہینے میں اگر کوئی محض اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرنے کے لیے گناہ اور ایسا گناہ کرے جس کی معافی آسان نہیں تو یقیناً اس کو اپنے انجام کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ یہاں کچھ زیادہ ذمہ داریاں ہمارے ناصحانِ قوم کی بھی ہیں، معاشرے کو گناہ سے بچانا جن کا منصب اور فرضِ اولین ہے کہ وہ معاشرے کو اس گناہ کے انجام سے واقف کرائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ وہ حق میں باطل کی ملاوٹ نہ کریں گو کہ آج بازار پر رونق ہیں، گرمیٔ بازار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن یہ گرمی ہم کو جھلسانے کا سبب نہ بنے اس بات کا بھی مسلم تاجروں کو احساس ہونا ضروری ہے اور یہ عمل ہمارے دین کا اہم حصہ ہے جس کے ذریعہ دین و دنیا کی عبادت کمائی جا سکتی ہے۔ روایت ہے کہ ایک بار خلیفہ ہارون رشید نے اپنے دور کے ایک مجذوب بہلول دانا کو ہدایت دی کہ وہ بازار جائے اور بیوپاریوں کے ناپ تول کے ذرائع کی جانچ کرے اور خاطی پائے جانے والے بیوپاریوں پر قانونی کارروائی کرے۔ اس ہدایت کے مطابق بہلول دانا بازار پہنچے اور ایک گوشت فروش کی دکان پر جا کر اس کے ناپ تول کے اوزار کی جانچ کرکے اسے نادرست پایا تو اس سے اس کی زندگی کے بارے میں بات چیت شروع کر دی تو اس نے اپنے ایک ایک غم سنانے شروع کر دیے کہ کیسے وہ زندگی کو کسی مصیبت کی طرح جھیل رہا ہے اور کیسے آئے دن نت نئی آفتوں نے اس کا گھر دیکھ لیا ہے۔ یہ سن کر بہلول آگے بڑھے، اگلی گوشت کی دکان پر جا کر دیکھا تو وہاں بھی وہی معاملہ کہ ناپ تول کے ذریعہ دھوکہ دہی جاری ہے۔ بہلول نے اس سے بھی محبت بھری گفتگو کی، اس سے بھی اس کے احوالِ زندگی پوچھے تو وہ بھی حالات کا مارا نکلا، اس کے سر پر بھی مصیبتوں کے پہاڑ کھڑے تھے، معاشی مسائل، گھریلو جھگڑے، رشتہ داروں سے ناچاقی، لوگ درپے آزار۔ بہلول آگے بڑھے، ایک دکان پر گئے تو دیکھا کہ ایک ہشاش بشاش شخص مصروفِ کاروبار ہے۔ بہلول نے اس کے بھی اوزان کی جانچ کی تو اسے بالکل صحیح پایا۔ اس سے بھی اس کا احوال پوچھا تو اس نے بڑی شکر گزاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مطمئن زندگی کی روداد بیان کی کہ اولاد فرمانبردار ہے، کاروبار میں برکت ہے، خاندان میں یکجہتی ہے اور یہ کہ اللہ کے فضل سے کسی پریشانی کا کوئی سامنا نہیں ہے۔ بہلول لوٹ آئے تو ہارون رشید نے رپورٹ طلب کی تو بتایا کہ بہت سارے تاجر بددیانت اور خاطی ہیں جن کے کاروبار میں جھول ہے۔ ہارون رشید نے پوچھا پھر ان پر کیا کارروائی کی؟ تو بہلول بولے کچھ بھی نہیں۔ یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا کہ میں نے تمھیں ایسے بددیانت بیوپاریوں پر کارروائی کے لیے اور انھیں سزا دینے کے لیے نہیں بھیجا تھا؟ بہلول بولے بے شک۔ تب خلیفہ نے پوچھا کہ کوئی کارروائی کیوں نہیں کی، کوئی سزا کیوں نہیں دی؟ تو بہلول نے جواب دیا امیر المؤمنین ان کو سزا دینے کی بھلا کیا ضرورت کہ خود زندگی ان کو سزا دے رہی ہے اور ان کے اعمال نے ان کے لیے زندگی کو تپتا ہوا تنور بنا دیا ہے۔
یہ حکایت آج ہمارے معاشرے پر صادق آتی ہے کہ یہاں لوگ ہزارہا مشکلات کے شکار ہیں، بیماریوں نے گھیر رکھا ہے، لوگوں سے تعلقات اچھے نہیں، گھروں میں الجھنیں اور پریشانیاں ہیں، پیسہ آئے دن کسی نہ کسی بے کار مد میں خرچ ہو رہا ہے، اولاد راہِ راست پر نہیں، لوگ اس کی شکایات لے کر عاملوں اور باباؤں کے پاس جاتے ہیں اور اپنی کمائی ان کے حوالے کر رہے ہیں لیکن اس کی جڑ تلاش نہیں کرتے، اپنے معاملات پر نظر نہیں دوڑاتے جس کے سبب پریشانی کے شکار ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تضادِ عمل کا شکار ہے، ایک طرف دین داری بھی جاری ہے، فیاضی بھی ہو رہی ہے، دوسری طرف بددیانتی اور خیانت کا دور دورہ بھی ہے۔
ہم اپنے اطراف بھی وہی ماحول دیکھتے ہیں جو مذکورہ بالا حکایت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں بھی جو لوگ ایمانداری اور دیانت داری سے تجارت کرتے ہیں اللہ نے ان کی کمائی میں برکت بھی دی ہے اور وہ ایک مطمئن زندگی بھی گزار رہے ہیں اور ان کا کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا جا رہا ہے اور اس کی صداقت جاننے کے لیے ہم کچھ دہائیاں پہلے کے مسلمانوں کے معاشی حالات کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں تیس چالیس برس قبل مسلمان نہایت معاشی پسماندگی کے شکار تھے، چھوٹے موٹے کاروبار ہی ان کی شناخت تھی اور ان کا ذریعۂ روزگار بھی، جس میں وہ نہایت مشکل حالات میں اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ معاشی پسماندگی مسلمانوں کی ظاہری حالت سے عیاں تھی، مٹی کے چھوٹے چھوٹے نہایت غیر آرام دہ مکانات، جسم پر معمولی کپڑے، صورت سے جھلکنے والی مسکینی۔ پھر یہ ہوا کہ اللہ نے یہ دن بدل دیے، مسلمان کاروبار کی طرف راغب ہوا اور دینی اصولوں کے مطابق کاروبار کرنے لگا تو اللہ نے ان کے دن بدل دیے، ان کے کاروبار میں برکت دی اور وہ لوگ بھی ان کے پاس آنے لگے جن کے پاس ان کی وقعت نہیں تھی۔ جو لوگ دیانت داری کے اصول پر قائم رہے ان کو دن دونی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے لیکن وہ لوگ جو بددیانت اور بے ایمان ہیں ان کے کاروبار دیکھنے میں تو بڑے نظر آتے ہیں لیکن یہ چاندنی چار دن کی ہوتی ہے اور پھر گہرا اندھیرا، اور مارکیٹ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ جہاں جہاں دیانت داری ہے وہاں برکت ہے، خوشی اور خوش حالی ہے اور جہاں یہ نہیں وہاں پریشانی ہی پریشانی ہے۔ اللہ ہمارے تاجر طبقے کو نیکی اور راست بازی کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے