कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا‘‘

’’کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا‘‘
تبصرہ نگار: عبداللہ یوسف
عربی سے ترجمہ: نایاب حسن قاسمی
ناشر: نگارشات بک اسٹور دیوبند
16/ربیع الثانی 1448ھ۔
29/ستمبر 2026ء منگل

’’کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا‘‘نامی کتاب جب سب سے پہلے نظروں سے گزری تو لگا کہ کوئی ادب کی کتاب ہوگی، یا کسی ادیب کے طنزومزاح کا مجموعہ، کسی کی اپنی گزری آپ بیتی ہوگی یا کسی عشق ومحبت کی داستان۔ لیکن کئ نئے لکھاریوں کے تبصرے پڑھے تو خیال کم ظرف ثابت ہوا اور معلوم ہوا کہ اس میں موضوع نفسِ ادب نہیں؛ لیکن ادب کی چاشنی ہے، موضوع نفسِ سوانح نہیں، لیکن دل چسپ اور دل گیر یادیں ہیں، موضوع عشق ومحبت نہیں، لیکن اپنے آثار قدیمہ سے عشق ومحبت کی خوب صورت داستان ہے۔ در اصل یہ مصرع جس سے اس کتاب کو موسوم کیا گیا ہے ("کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا”) احمد مشتاق کی ایک غزل کا مصرع ہے۔ مکمل شعر یوں ہے:
کسی جانب نہیں کھلتے دریچے
کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا
مجھے تو کتاب کا یہ نام بے حد پسند آیا؛ کیوں کہ اصلِ کتاب کے مؤلف "مرید البرغوثی” پہلے تو اپنے حقیقی وطن فلسطین سے بے دخل کئے گئے اور پھر اپنی بیوی اور معصوم بچے سے بھی تقریباً 17/ سال تک ناچاہتے ہوئے مصری سرکاری کے حکم پر فرقت کی زندگی بسر کرنی پڑی۔ اس پسِ منظر میں ترجمے کا یہ نام اپنی مثال آپ ہے۔
خیر اب آئیے اصل کتاب کے موضوع اور اسلوب پر تو در اصل "مرید البرغوثی” ایک فلسطینی نژاد ہیں جو فلسطین میں متولد ہوئے، بعد میں فلسطین سے جلا وطن کر دئے گئے، مصر میں تعلیم حاصل کی، مصری عورت سے ہی شادی ہوئی اور وہیں کے ہو رہے، ایک لڑکا بھی ہوا جو بعد میں عربی کے مایہ ناز انقلابی شاعر "تمیم البرغوثی” کے نام سے معروف ہوا۔ لیکن بیٹے کی ولادت کے چند ماہ بعد ہی مرید البرغوثی کو مصر سے بھی بے دخل کر دیا گیا اور تقریباً 17/سال تک مرید البرغوثی کو اپنی بیوی اور بیٹے سے دور رہنا پڑا۔
مرید البرغوثی کی پہلی تصنیف "رأیت رام اللہ” جس کا ترجمہ نایاب حسن نے”میں نے رام اللہ دیکھا” کے نام سے کیا جو کافی پہلے چھپ کر داد وتحسین وصول کر چکی ہے۔ اس میں مؤلف محترم نے فلسطین سے جلاوطنی کے تقریباً 30/ سال بعد رام اللہ (فلسطین) کی طرف پہلے سفر کی روداد قلم بند کی ہے۔
بیٹے تمیم البرغوثی 21/ برس کے ہوئے تو مرید البرغوثی نے اپنے بیٹے کے ساتھ فلسطین کا دوسرا سفر کیا۔ اور اس دوسرے سفر کی احوال و آثار کو بھی”ولدت ھناک ولدت ھنا” کے نام سے ایک کتاب میں سمو دیا۔ کہنے کو تو یہ ایک سفری کہانی ہے؛ لیکن در حقیقت عاشقِ فلسطین کے لئے ایک خاصے کی چیز ہے۔ مرید البرغوثی صرف لکھتے نہیں ہیں، بلکہ مخاطب کو اپنے ساتھ سیر و تفریح کراتے ہیں، قلم کے جادو سے ہر چیز کو نظروں کے سامنے کرنے کا ہنر رکھتے ہیں، اس میں صرف سفری سرگذشت نہیں؛ بلکہ فلسطین کے ماضی وحال کے ثقافتی وتہذیبی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے چلتے ہیں، فلسطین کو جملہ جہات سے قاری کے سامنے لا کر رکھ دیتے ہیں، اپنے بچپن کے تذکرے کے ضمن میں فلسطین کی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں اور پھر حال اور مستقبل سے ان کا موازنہ کرتے ہیں۔
غرض یہ کہ کتاب شروع کرنے کے بعد دل چاہتا کہ ختم کرنے کے بعد ہی نشست تبدیل کریں اور کتاب ختم ہونے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ابھی سے کتاب ختم ہو گئی۔ آپ کتاب پڑھیں گے تو خود محسوس ہوگا کہ واقعی کتاب کا طرز اور اسلوب ہے ہی اس لائق کہ ایک نشست میں کتاب پوری کرنے پر مجبور ہو جائے۔
کتاب کا عربی سے اردو ترجمہ کرنے والے "نایاب حسن” نہ تعریف کے محتاج ہیں اور شاید نہ تعارف کے، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میرے خیال میں اس خوب صورت اور دلکش طرز واسلوب میں جتنا کمال اصلِ مصنف کا ہے اتنا ہی یا اس سے بھی کہیں زیادہ جمال نایاب حسن صاحب کے ترجمے کا ہے۔ بعض ترجمہ شدہ کتابیں پڑھ کر طبیعت تھک جاتی ہے، دل بوجھل ہو جاتا ہے، لیکن نایاب صاحب کا ترجمہ پڑھنے کے بعد بلا مبالغہ مجھے تو ایسا محسوس ہوا کہ شاید اس قدر متاثر کن تو یہ کتاب عربی زبان میں نہ ہو جتنا سلیس، رواں، شگفتہ اور شاہ کار اس کا ترجمہ ہے۔‌ جزاۓ خیر دے خدا مصنف ومترجم دونوں کو۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے