कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک صلح کُن اور جاں گداز مطالعہ

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

یوں تو ہمیں پالتو جانوروں سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ نہ پرندوں سے لگاؤ!! کیوں کہ وہ تو ہوا کے مکین ہیں، انھیں کیوں اپنے شوق کے لیے زمین پر لایا جائے؟ اسی طرح یوں محسوس ہوتا ہے کہ جتنا خرچ پانی یہ پالتو جانوروں پر صرف کرنا ہوتا ہے، اتنے میں تو کسی یتیم خانے کی امداد کی جائے، پس یہ ناچیز کی اک سوچ ہے۔ اور کچھ نہیں؟ اس بات سے قارئین ناراض نہ ہوں!!! دیکھا جائے تو موجودہ دور میں پالتو جانوروں سے محبت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، لوگوں کا پالتو جانوروں کے تئیں لگاؤ بڑھتا جا رہا ہے، جو بری بات بھی نہیں ہے۔ اپنا اپنا نظریہ ہے، اور پسند، خیال، سوچ کے مالک، انسان خود ہیں۔!!!
ذرا اسی سوچ پر اک نظرِ ثانی کیجیے!!
ہماری پڑوسن کی بیگم صاحبہ نے ’برفی‘ نامی بلی کو شرفِ تولیت بخشا ہے، اور ساتھ ساتھ ہماری پُرسکون زندگی ایک مستقل میدانِ جنگ اور محکمۂ جاسوسی کا نمونہ بن گئی ہے۔ بظاہر یہ موصوفہ برف کے گولے کی مانند سفید اور مخمل کا ایک ٹکڑا معلوم ہوتی ہے، لیکن اندرونی طور پر یہ ہمیں اتنا پریشان کرتی ہے کہ امانِ خدا! یاد رہے کہ یہ کوئی ولایتی پرشین کیٹ نہیں ہے، بلکہ ایک عام گھریلو سفید رنگ کی دیسی بلی ہے، مگر اس کے نخرے اور ادائیں کسی ملکہ سے کم نہیں۔ اس کی آنکھیں رات کے اندھیرے میں بھی یوں چمکتی ہیں جیسے اندھیری رات میں جگنو، اور یہ موصوفہ اپنی مونچھوں کو تاؤ دے کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمیں اس طرح گھورتی ہے جیسے ہم اس کے مقروض ہوں۔
اس کی مجرمانہ سرگرمیاں کسی منجھے ہوئے شکاری سے کم نہیں۔ یہ اکثر ہمارے صحن میں معصوم کبوتروں کو پکڑ کر لے آتی ہے، اور انہیں زخمی یا بے حال وہیں چھوڑ دیتی ہے، بلکہ بعض اوقات جھپٹا مار کر موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے، ایک دو نوالہ کھا لیا پھر بسسسس عجب یہ ہے کہ انہیں کھاتی بھی نہیں! کبھی کبھار یہ کسی دوسرے کے گھر سے دودھ غائب کر کے لاتی ہے، یا کسی کا پکڑا ہوا چوہا سیدھا ہمارے گھر اٹھا لاتی ہے اور اسے بڑے مزے سے چبا ڈالتی ہے۔ ہمارے گھر کا حال تو یہ ہے کہ یہ اسے اپنا ہی ذاتی گھر سمجھتی ہے۔ ہمارے باورچی خانے میں اگر غلطی سے بھی دودھ کا برتن کھلا رہ گیا، تو موصوفہ فوراً اس میں کود پڑتی ہے۔ ایک مرتبہ تو ہم نے غصے میں آ کر اسے جھاڑو سے ڈرانے کی بھی کوشش کی، لیکن پھر دل میں خیال آیا کہ جانے دو، بے زبان جانور پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے۔ ہم اسے لکڑی سے یا آنکھوں کے اشاروں سے ڈراتے رہتے ہیں، مگر اس کی کسی موٹی کھال پر جوں تک نہیں رینگتی اور اسے کوئی فرق نہیں پڑتا! باورچی خانے میں اگر ذرا سا بھی گوشت رکھا ہو، تو یہ فوراً غصے سے لال پیلی ہو جاتی ہے، اور جب ہم دسترخوان پر کھانا کھانے بیٹھتے ہیں، تو یہ یوں آ کر بیٹھ جاتی ہے جیسے اسے باقاعدہ کوئی دعوت نامہ دے کر بلایا گیا ہو۔ اچھل کود کا یہ عالم ہے کہ کبھی کچن کے شیشے کے برتن گرا کر توڑ دیتی ہے تو کبھی ادھر ادھر بکھیر دیتی ہے۔
ایک مرتبہ تو اس برفی نے حد ہی کر دی! ہمارے گھر کچھ خاص مہمان آنے والے تھے اور ان کی ضیافت کے لیے بہت سارا قیمتی چکن اور گوشت لایا گیا تھا۔ ہم نے باورچی خانے کا دروازہ ذرا سا کھلا ہی چھوڑا تھا کہ یہ محترمہ موقع غنیمت جان کر اندر آن ٹپکیں اور گوشت کو جگہ جگہ سے کتر کر ادھورا چھوڑ دیا! اب شریعت کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کیا معلوم کہ موصوفہ نے اس سے پہلے کوئی مردار یا چوہا کھایا ہے یا نہیں، ورنہ تو یہ جھوٹا کھانا ہمارے لیے مکروہ ہو جاتا۔ بھلا ہمیں خواب میں تھوڑی ہی پتا چلنا تھا کہ اس نے باہر کیا گل کھلایا ہے! تنگ آ کر ہم نے فوراً پڑوسن کے پاس جا کر شکایت لگائی کہ ذرا اپنی اس لاڈلی پر نظر رکھیے، اس نے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ہماری بات سن کر بیچاری پڑوسن شرمندہ ہو گئیں اور آنکھیں بڑی بڑی کر کے برفی کو دیکھنے لگیں۔ اتنے میں برفی نے ایک پیاری سی میاؤں کی صدا لگائی اور سیدھا ان کی گود میں جا کر بیٹھ گئی۔ ان کا یہ انداز دیکھ کر ہمیں کچھ تعجب بھی ہوا اور غصہ بھی، اور یوں لگا کہ اس کی ساری ناجائز شرارتوں کے لیے محض اک سوری کا لفظ۔ جی چاہتا تھا کہ اٹھا کر پٹک دوں، لیکن کیا کریں بے زبان جو ہے۔۔ اور اس کی شرارتوں نے جو ہماری زباں گویا پر قفل لگایا ہے جسے کھولنے کے لیے اس سے چھٹکارا ہی پانا ہوگا؟؟؟ آخرکار جانوروں سے محبت کرنے والوں کو ایسے معاملات جھیلنے ہی پڑتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد، پڑوسن نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے چپکے سے ہمارے گھر نیا چکن اور بکرے کا تازہ گوشت لا کر رکھ دیا اور برفی سے کہنے لگیں، "برفی! ان سے سوری کہو، جلدی سے سوری کہو!” یہ سارا ماجرا دیکھ کر ہمیں بھی خود پر تھوڑی سی شرمندگی محسوس ہوئی کہ شاید ہم نے کچھ زیادہ ہی شکایت کر دی ہے۔
یہ محترمہ پڑوسن کے گھر کم اور ہمارے گھر زیادہ ٹکی رہتی ہے۔ ہم نے کئی مرتبہ تنگ آ کر پڑوسن سے شکایت بھی کی، لیکن موصوفہ کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہماری برفی تو بہت شریف ہے، وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہے! اب آپ ہی بتائیے کہ اگر یہ شریف ہے، تو اس دنیا میں شریر کون ہو سکتا ہے؟ یہ راز تو خدا ہی جانے! حال یہ ہوتا ہے کہ یہ سارا دن ہمارے گھر میں ڈیرے ڈالتی ہے، لیکن جیسے ہی شام کو پڑوسن سارے محلے میں ڈھنڈورا پیٹتی اور دہائی مچاتی ہے کہ ہماری بلی کہاں گئی، ہماری بلی گم گئی، اور جیسے ہی وہ پیار سے برفی کہہ کر پکارتی ہے، یہ محترمہ دم ہلاتی ہوئی فوراً دوڑتی ہوئی اس کے پاس چلی جاتی ہے۔
پڑوسن کے گھر میں اس کی شاندار مہمانی کا یہ عالم ہے کہ محترمہ کے کھانے کے لیے سونے یا چاندی جیسی چمکتی ہوئی الگ سنہری پلیٹیں ہیں، جن میں یہ نفاست سے کھانا کھاتی ہیں اور اپنے الگ خصوصی برتن سے ہی پانی پیتی ہیں۔ اسے ایسے پیار سے نہلایا جاتا ہے جیسے کسی شہزادے یا چھوٹے بچے کی مالش کی جا رہی ہو۔ اس کے نازک بالوں کو صاف کرنے کے لیے باقاعدہ ہیئر ڈرائیر کا استعمال کیا جاتا ہے! عجب نخرے ہیں، یہ بلی ہے یا کوئی ملکہ! اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ کبھی اسے گھمانے کے لیے الگ سے بائیسکل یا گاڑی کا انتظام ہوتا ہے، تو کبھی اس کے گلے میں باندھنے والے چمڑے اور فینسی پٹے بار بار بدلے جاتے ہیں۔
ادھر دودھ دیکھا کہ یہ آفت پھر سے نمودار ہوئی اور سارا دودھ چٹ کر گئی! اب بتائیے، ایسے میں بندہ کس سے شکایت کرے؟ خدا خدا کر کے کل جب ہم نے تنگ آ کر بلی کے اس عذابِ جان سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک پختہ ارادہ کیا ہی تھا، کسی طرح اس برفی کو پریشان کیا جائے۔۔ کہیں اسے چرا کر دور چھوڑ آئیں!!! مگر موقع اور مناسب وقت کی تلاش ہے۔ لیکن خبر ملی کہ موصوفہ نے پڑوسن کے مہمانِ خاص کے قیمتی کوٹ پر تشریف فرما ہو کر اپنی تمام تر محبتوں کا نذرانہ پیش کر دیا ہے! مہمان صاحب کا غصے سے چہرہ ایسا سرخ ہوا جیسے تندور میں لگایا ہوا نان۔ اس منظر کو دیکھ کر ہمارے دلِ مضطر کو جو ٹھنڈک پہنچی، اس نے ہمارے باورچی خانے کے تمام نقصانات کا ازالہ ایک لمحے میں کر دیا، اور اب ہم دل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ بلی تو صرف نام کی ہے، ورنہ یہ تو دراصل محلے کے تمام مکینوں کے صبر کا آخری امتحان لینے کے لیے قدرت کا ایک نازک سا معجزہ ہے!

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے