कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کردار کی خوشبو یا اداکاری کا عطر؟

اخلاق کے اصل اور مصنوعی چہرے

تحریر: صحافی محمد احسان سر
ملکاپور، ضلع بلڈھانہ، مہاراشٹر.

خوشبو چھپائی نہیں جا سکتی، اور خوشبو کی نقل کبھی اصل کا بدل نہیں بن سکتی۔” یہی حال کردار اور اداکاری کا ہے۔ کردار کی مہک دلوں میں اترتی ہے، جبکہ اداکاری کا عطر چند لمحوں کی داد تو سمیٹ لیتا ہے مگر وقت کی دھوپ میں اس کی خوشبو اڑ جاتی ہے.
انسان کی اصل پہچان اس کے چہرے، لباس، دولت یا شیریں گفتگو سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے. نرم لہجہ، مسکراتا چہرہ اور خوش گفتاری یقیناً عمدہ صفات ہیں، لیکن جب ان کے پیچھے اخلاص، سچائی اور دیانت نہ ہو تو یہ محض ایک خوبصورت نقاب بن جاتے ہیں۔ کہاوت ہے کہ "اونچی دکان، پھیکا پکوان”؛ اسی طرح بعض اوقات چمکتی ہوئی شخصیت کے اندر اخلاق کا دیوالیہ پن چھپا ہوتا ہے.
آج کا انسان ظاہری تاثر پیدا کرنے میں پہلے سے کہیں زیادہ ماہر ہو چکا ہے. سوشل میڈیا نے حقیقت سے زیادہ "امیج” کو اہم بنا دیا ہے. لوگ تصویروں میں مسکراتے ہیں مگر دلوں میں حسد رکھتے ہیں، زبان پر محبت ہوتی ہے مگر عمل میں بے وفائی. یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس دور کی سب سے بڑی مہارت اگر کوئی ہے تو وہ اداکاری ہے، نہ کہ کردار سازی.
قدیم داناؤں کا قول ہے کہ "درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے، انسان اپنے عمل سے.” کردار بھی ایسا ہی پھل ہے جس کی مٹھاس برسوں تک محسوس ہوتی ہے، جبکہ بناوٹ کا ذائقہ جلد کڑوا ہو جاتا ہے.
اسلام نے اخلاق کو محض ظاہری آداب کا نام نہیں دیا بلکہ اسے ایمان کی روح قرار دیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں.”
یہ اخلاق صرف خوش گفتاری تک محدود نہیں بلکہ وعدے کی پاسداری، امانت کی حفاظت، عدل، رحم، عفو و درگزر، دیانت اور سچائی میں بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی شان میں فرمایا:
"وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ”
"بے شک آپ ﷺ بلند ترین اخلاق پر فائز ہیں.”
یہی وہ عظیم کردار تھا جس نے دشمنوں کو بھی دوست بنا دیا۔ اگر اخلاق صرف مسکراہٹ کا نام ہوتا تو حضرت محمد ﷺ کو "الصادق” اور "الامین” کے القاب نبوت سے پہلے نہ ملتے.

کردار کی ایک روشن مثال
فتحِ مکہ کے موقع پر وہ لوگ بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے تھے جنہوں نے برسوں تک آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کیا تھا. ہر شخص کو انتقام کی توقع تھی، مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
"آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو.”
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا بلکہ کردار کی وہ خوشبو تھی جس نے پتھر جیسے دلوں کو بھی موم کر دیا. یہی وہ اخلاق تھا جس نے تلواروں سے زیادہ دلوں کو فتح کیا.
دنیاوی زندگی کا سبق
ایک معروف تاجر کے پاس دو ملازم تھے. ایک نہایت خوش گفتار، ہر وقت مسکراتا اور ہر شخص کی تعریف کرتا تھا، مگر موقع ملتے ہی حساب میں خیانت کر جاتا. دوسرا کم گو تھا، لیکن انتہائی دیانت دار اور ذمہ دار تھا. کچھ عرصے بعد جب کاروبار کی باگ ڈور کسی ایک کے حوالے کرنے کا وقت آیا تو مالک نے خاموش مگر امانت دار شخص کا انتخاب کیا اور کہا:
"مجھے میٹھی زبان نہیں، قابلِ اعتماد کردار چاہیے.”
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وقتی کامیابی اداکاری سے مل سکتی ہے، لیکن دائمی اعتماد صرف کردار سے حاصل ہوتا ہے.
دنیا کی کامیاب قوموں نے بھی ترقی کی بنیاد صرف ذہانت پر نہیں بلکہ کردار پر رکھی ہے. تجارت میں دیانت، ملازمت میں ذمہ داری، سیاست میں امانت، عدلیہ میں انصاف اور معاشرت میں اخلاص وہ ستون ہیں جن پر قوموں کی عزت قائم رہتی ہے۔ جب خوش اخلاقی صرف دکھاوا بن جائے تو اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں اور معاشرہ بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے.
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو کامیاب بننے کی تعلیم تو دیتے ہیں، مگر معتبر بننے کی تربیت کم دیتے ہیں. انہیں بولنے کا ہنر سکھاتے ہیں، مگر سچ بولنے کی عادت کم سکھاتے ہیں. انہیں آگے بڑھنے کی خواہش دیتے ہیں، مگر دوسروں کا حق ادا کرنے کا شعور کم دیتے ہیں.
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زبان سے پہلے اپنے دل کو خوبصورت بنائیں، اپنے چہرے سے پہلے اپنے کردار کو سنواریں، اور لوگوں کو متاثر کرنے سے زیادہ اپنے رب کو راضی کرنے کی فکر کریں. کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کے چہرے اور ظاہری شکل کو نہیں بلکہ اس کے دل اور اعمال کو دیکھتا ہے.
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ کردار وہ خوشبو ہے جو انسان کے جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے، جبکہ اداکاری کا عطر وقت گزرنے کے ساتھ اڑ جاتا ہے۔ نقاب ایک دن ضرور اتر جاتا ہے، مگر کردار کا نور کبھی مدھم نہیں ہوتا.
آئیے! اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، مساجد اور معاشرے میں اس سوچ کو فروغ دیں کہ:
"اخلاق کی جڑ اگر کردار میں ہو تو انسان معتبر، محبوب اور کامیاب بنتا ہے؛ لیکن اگر اخلاق صرف زبان پر ہو تو وہ بہترین اداکار تو کہلا سکتا ہے، بہترین انسان نہیں.”
یاد رکھیے!
"کردار وہ دولت ہے جسے نہ چور چرا سکتا ہے، نہ وقت پرانا کر سکتا ہے، اور نہ موت ختم کر سکتی ہے۔ یہی انسان کی اصل میراث ہے، اور یہی اس کی دائمی پہچان.
پیغامِ اصلاح:-
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اعلیٰ تعلیمات، پاکیزہ اقدار اور بہترین اخلاق سے آراستہ کریں۔ اپنے کردار، اعمال اور نیت کا سنجیدگی سے محاسبہ کریں اور خود کو موجودہ حالات کے ترازو میں تولیں، تاکہ ہمیں اپنی حقیقت کا صحیح ادراک ہو سکے.
جب انسان اپنی اصلاح کو ترجیح دیتا ہے، اپنی کمزوریوں کو پہچان کر انہیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو حالات بھی اس کے حق میں بدلنے لگتے ہیں. معاشروں کی بہتری صرف نعروں سے نہیں بلکہ افراد کی اصلاح سے وابستہ ہوتی ہے.
آئیے! ہم سب عہد کریں کہ دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلیں، اپنی زندگی کو علم، کردار، دیانت اور تقویٰ سے سنواریں، تاکہ ہم نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے اور ملک وملت کے لئے خیر، امن اور امید کا ذریعہ بن سکیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے اور یہی روشن مستقبل کی بنیاد ہے.

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے