कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پنجاب: افواہ کا الاؤ، دو یونیورسٹیاں اور سچ کا امتحان

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

ایک زمانہ تھا کہ افواہ کو محلے کی ایک گلی سے دوسری گلی تک پہنچنے میں پہر لگ جاتے تھے۔ راستے میں کوئی بزرگ ٹوک دیتا، کوئی سمجھ دار پوچھ لیتا کہ میاں، یہ بات سنی کس سے ہے؟ اب یہ فاصلہ سمٹ کر انگوٹھے کی ایک جنبش رہ گیا ہے، اور بیچ میں نہ کوئی بزرگ ہے نہ کوئی سوال۔ ستمبر کے آخری ہفتے میں پنجاب کی دو بڑی نجی جامعات میں جو کچھ ہوا، وہ اسی سمٹے ہوئے فاصلے کی کہانی ہے۔
حقیقت کیا ہے:
پچیس ستمبر، جمعہ کی رات، راجپورہ کے قریب واقع چتکارا یونیورسٹی میں سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کرنے لگی کہ کیمپس میں دو طالبات نے خودکشی کر لی ہے۔ سینکڑوں طلبہ رات گئے جمع ہوئے، انتظامیہ سے جواب مانگا، سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے پر اصرار کیا، اور کچھ ہی دیر میں یہ مطالبہ توڑ پھوڑ اور پولیس سے ٹکراؤ میں بدل گیا۔ پولیس کی ایک ہنگامی گاڑی بھی اس غصے کا نشانہ بنی۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار نے خودکشی کی خبروں کو سرے سے بے بنیاد قرار دیا۔
ابھی یہ دھواں پوری طرح بیٹھا بھی نہ تھا کہ اگلے ہی دن پھگواڑہ کی لولی پروفیشنل یونیورسٹی، جسے عام طور پر ایل پی یو کہا جاتا ہے، سے اس سے کہیں سنگین خبر اٹھی۔ اس بار دعویٰ یہ تھا کہ ایک طالبہ کی آبروریزی ہوئی اور اس صدمے میں اس نے اپنی جان دے دی۔ سنیچر کی رات ڈھلتے ڈھلتے طلبہ لڑکیوں کے ہاسٹل کے قریب جمع ہونے لگے، اور اتوار کی صبح تک یہ ہجوم ایک طوفان بن چکا تھا۔
اب تک کی مصدقہ صورتِ حال یہ ہے کہ یونیورسٹی اس دعوے کو غیر مصدقہ افواہ کہتی ہے، اور پنجاب پولیس کے مطابق مبینہ جنسی زیادتی ثابت نہیں ہوئی، نہ کسی ملزم کی شناخت ہو سکی ہے۔ دونوں جامعات میں پولیس اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا اور طالبات محفوظ ہیں۔ گویا دو دن، دو جامعات، دو ہنگامے، اور دونوں کی بنیاد ایک ایسا واقعہ جو اب تک کہیں ثابت نہیں ہوا۔
افواہ جو کچھ کر گئی، وہ البتہ پوری طرح ثابت ہے۔ ایل پی یو کے طلبہ نے قومی شاہراہ نمبر چوالیس بند کر دی، جو پنجاب کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ گاڑیاں نذرِ آتش ہوئیں، پولیس پر پتھراؤ ہوا، کئی اہلکار زخمی ہوئے اور جواب میں لاٹھیاں چلیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے دو ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کرنے پڑے۔ اسی ہنگامے کے دوران ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں مبینہ طور پر طلبہ یونیورسٹی کے شاپنگ مال سے سامان اٹھا کر لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ منظر ٹھہر کر سوچنے کا تقاضا کرتا ہے۔ جو نوجوان ایک بیٹی کی عزت اور ایک جوان جان کے لیے انصاف مانگنے نکلے تھے، ان میں سے کچھ کے ہاتھ آخرکار لوٹ کے مال تک جا پہنچے۔ یہ کہنا ناانصافی ہوگی کہ سب کی نیت کھوٹی تھی۔ ان میں اکثریت یقیناً سچے درد اور خوف کے ساتھ باہر آئی تھی۔ مگر افواہ کی سب سے خطرناک صفت یہی ہے کہ وہ نیک نیت کو بھی ہجوم کا ایندھن بنا دیتی ہے، اور ہجوم کی کوئی نیت نہیں ہوتی۔
افواہ نیک نیت کو بھی ہجوم کا ایندھن بنا دیتی ہے، اور ہجوم کی کوئی نیت نہیں ہوتی۔
یہ بھی دیکھیے کہ افواہ نے اپنا موضوع کتنی چالاکی سے چنا۔ ایک طالبہ کی آبرو، ایک نوجوان کی موت، اور ہاسٹل کی دیواروں کے پیچھے چھپا خوف۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن پر ہمارے معاشرے میں عقل سے پہلے جذبات بولتے ہیں، اور جہاں کوئی یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتا کہ پہلے تصدیق تو کر لو، کیونکہ ایسا سوال بے حسی سمجھا جاتا ہے۔ افواہ گھڑنے والا اسی کمزوری کو خوب پہچانتا ہے۔
پولیس نے نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی ہے جو سی سی ٹی وی فوٹیج، فورینزک شواہد اور موبائل فون کے ڈیٹا کی چھان بین کر رہی ہے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق فوٹیج میں کالے نقاب پہنے کچھ بیرونی افراد آتش زنی اور پتھراؤ میں شریک دکھائی دیتے ہیں، جن کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طلبہ کو بھڑکانا اور اس کے بعد کا تشدد اچانک پیدا ہونے والا ردِعمل نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سازش دکھائی دیتی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق وہ جعلی پیغام کئی دن سے طلبہ کو اکسانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا، اور اب ساری تفتیش اس ایک آئی پی ایڈریس کی تلاش پر ٹکی ہے جہاں سے یہ پیغام پہلی بار چلا۔
معاملہ اب سیاست کی دہلیز بھی پار کر چکا ہے۔ بی جے پی اور شرومنی اکالی دل اس بدامنی کے پیچھے سیاسی سازش کا الزام لگا رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر روونیت سنگھ بٹو کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت اور پولیس نے ابتدا میں حالات کو بگڑنے دیا اور کیمپس میں باہر سے لوگ بھیجے گئے، اور انہوں نے مرکزی ایجنسی سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف پنجاب کے ڈی جی پی گورو یادو کا کہنا ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر طاقت کے استعمال سے گریز کیا اور بات چیت کا راستہ اپنایا، جبکہ وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے ڈی جی پی کو کیمپس کا دورہ کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب پنجاب انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اسی لیے ایک بڑے انگریزی روزنامے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ انتخابی سال میں آخر یہ کیا ہو رہا ہے۔ مگر یہاں ایک خطرہ اور بھی ہے۔ اگر ایک افواہ کے جواب میں ہر فریق اپنی اپنی پسند کی سازش کا نام لینے لگے تو ہم ایک افواہ کو دفن کر کے دوسری کو جنم دے رہے ہوں گے۔ سازش تھی یا نہیں، اور تھی تو کس کی، یہ فیصلہ تفتیش کو کرنے دیجیے، بیانات کو نہیں۔
اسکول کالج اور یونیورسٹیوں سے وابستہ افراد یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ نوجوان ذہن میں انصاف کا جذبہ سب سے زیادہ بیدار ہوتا ہے۔ یہ جذبہ نعمت ہے، مگر بے لگام ہو تو یہی جذبہ سب سے آسانی سے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ پیغام کس نے گھڑا، سوال یہ بھی ہے کہ اسے آگے کس نے بڑھایا۔ ہر وہ انگلی جس نے بغیر تصدیق فارورڈ کا بٹن دبایا، اس الاؤ میں ایک لکڑی ڈال گئی۔
قرآنِ کریم نے چودہ صدیاں پہلے یہی اصول دیا تھا: اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ (سورۃ الحجرات، آیت ۶)۔ اور صحیح مسلم کے مقدمے میں منقول ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ آج کے زمانے میں آگے بیان کر دینے کا نام شیئر کرنا ہے۔
مگر ذمہ داری کا سارا بوجھ عام آدمی کے کندھوں پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں۔ چتکارا کے طلبہ کا پہلا مطالبہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنا تھا۔ یہ مطالبہ اپنے اندر ایک گہری بے اعتمادی کی گواہی ہے۔ جب طلبہ اپنے ہی ادارے کی بات پر بھروسا نہ کریں اور ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیں تو اداروں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ خبر کا خلا ہمیشہ افواہ سے بھرتا ہے۔ جو ادارہ پہلے گھنٹے میں سچ لے کر سامنے نہیں آتا، وہ اگلے دن ایک ایسی کہانی سے لڑ رہا ہوتا ہے جو اس کے قابو سے نکل چکی ہوتی ہے۔
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری اس سے بھی پہلے شروع ہوتی ہے۔ ہم نے بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تو دے دیا، مگر یہ سلیقہ نہیں دیا کہ ہر چمکتی سرخی سچ نہیں ہوتی۔ خبر کی تصدیق، ذریعے کی پرکھ اور جذبات کے لمحے میں ٹھہر جانا، یہ آج کی تعلیم کا اتنا ہی ضروری حصہ ہے جتنا حساب اور زبان۔ اسکولوں اور کالجوں کو یہ سبق نصاب کے حاشیے پر نہیں، مرکز میں رکھنا ہوگا۔
آخر میں ایک تلخ حقیقت۔ اگر خدانخواستہ کسی طالبہ کے ساتھ واقعی ظلم ہوا ہوتا تو جلی ہوئی گاڑیاں، بند شاہراہ اور لٹا ہوا مال اسے انصاف دلانے میں ذرہ برابر مدد نہ کرتے۔ اور اگر کچھ نہیں ہوا تو ایک فرضی بیٹی کی آبرو کے نام پر حقیقی املاک جلیں، حقیقی لوگ زخمی ہوئے، اور کیمپس کی حقیقی طالبات نے وہ راتیں خوف کے سائے میں گزاریں۔ دونوں صورتوں میں ہارا صرف سچ۔ افواہ کا الاؤ جلانے کے لیے ایک تیلی کافی ہوتی ہے، مگر اسے بجھانے کے لیے پورے معاشرے کو پانی بننا پڑتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے