कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نیٹ (NEET) امتحان، تعلیمی دباؤ اور طالب علموں میں خودکشی کا بڑھتا رجحان: ایک عمرانی اور نفسیاتی تجزیہ

از قلم: شیخ محمود علی، سابق لیکچرر
8055402819

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن جب تعلیم سیکھنے کے بجائے صرف مقابلہ، نمبروں اور چند مخصوص پیشوں کے حصول تک محدود ہو جائے تو اس کے سماجی اور نفسیاتی نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے گرد پیدا ہونے والا غیر معمولی مقابلہ اسی حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔
نیٹ کے امتحان میں کامیابی صرف ذہانت (Intelligence) کی نشانی نہیں ہے۔ نیٹ ایک انتہائی مسابقتی امتحان ہے جس میں کامیابی کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے، مثلاً:
مضبوط بنیادی معلومات (Physics, Chemistry, Biology)
مسلسل محنت اور نظم و ضبط
بہت زیادہ سوالات کی مشق
وقت کا درست استعمال
امتحان کے دباؤ کو سنبھالنے کی صلاحیت
اچھی رہنمائی اور مناسب تعلیمی وسائل
کئی ذہین طلبہ بھی اگر مناسب تیاری نہ کریں تو کامیاب نہیں ہوتے، جبکہ اوسط صلاحیت رکھنے والے، لیکن مسلسل محنت کرنے والے طلبہ بہترین رینک حاصل کر لیتے ہیں۔
اس لیے نفسیات اور تعلیمی تحقیق کے مطابق امتحان کا نتیجہ ذہانت، محنت، حوصلے، مطالعے کی عادات اور مواقع، سب کے مجموعی اثر کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ صرف ذہانت کی۔
لہٰذا اگر کوئی طالب علم NEET میں کامیاب نہ ہو تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ ذہین نہیں ہے۔ کامیابی کے بہت سے راستے ہیں اور ہر فرد کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔
ہر سال لاکھوں طلبہ ڈاکٹر بننے کی امید کے ساتھ نیٹ امتحان دیتے ہیں، مگر محدود نشستوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں امیدوار کامیاب نہیں ہو پاتے۔ ناکامی کے بعد کئی نوجوان شدید ذہنی دباؤ، Depression، مایوسی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض واقعات میں یہ کیفیت خودکشی جیسے انتہائی المناک انجام تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ صرف انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اہم سماجی مسئلہ ہے۔
فرانسیسی ماہرِ عمرانیات Émile Durkheim نے اپنی مشہور کتاب Suicide میں واضح کیا تھا کہ خودکشی صرف ذاتی کمزوری کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پسِ منظر میں سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ جب معاشرہ افراد پر غیر معمولی توقعات، شدید مقابلے اور کامیابی کے محدود پیمانے مسلط کرتا ہے تو ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی طرح Robert K. Merton کے Strain Theory کے مطابق جب معاشرہ کامیابی کو چند مخصوص اہداف تک محدود کر دیتا ہے، مگر ان اہداف تک پہنچنے کے مواقع سب کے لیے یکساں نہیں ہوتے تو افراد میں شدید مایوسی اور تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ آج ڈاکٹر بننے کو کامیابی کی واحد علامت سمجھنا اسی سماجی دباؤ کی ایک مثال ہے، جو میں اس کو سب سے بڑی نااہلی اور بے وقوفی سمجھتا ہوں۔
والدین کی محبت بے شک بے مثال ہوتی ہے، مگر بعض اوقات یہی محبت غیر ضروری توقعات میں بدل جاتی ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور شخصیت کو سمجھے بغیر صرف ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ نتیجتاً بچے اپنی پسند کے بجائے دوسروں کے خواب پورے کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔
جینیاتی انجینئرنگ کے ماہرین کے مطابق:
ایک ہی والدین کے بچے مختلف صلاحیتوں کے مالک ہو سکتے ہیں، اور یہ ایک فطری بات ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔
وراثت (Genetics): ہر بچے میں والدین کے جینز کا امتزاج مختلف ہوتا ہے، اس لیے ذہانت، یادداشت، تخلیقی صلاحیت اور جسمانی خصوصیات بھی مختلف ہو سکتی ہیں۔
ماحول (Environment): ہر بچے کے تجربات، دوست، اساتذہ، تعلیم اور پرورش کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے، جو اس کی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
دلچسپیاں (Interests): ایک بچہ ریاضی یا سائنس میں اچھا ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرا ادب، موسیقی، کھیل یا فنون میں زیادہ مہارت رکھ سکتا ہے۔
شخصیت (Personality): بعض بچے پُراعتماد اور ملنسار ہوتے ہیں، جبکہ کچھ خاموش، غور و فکر کرنے والے یا زیادہ تخلیقی ہوتے ہیں۔
سیکھنے کا انداز (Learning Style): کوئی بچہ دیکھ کر بہتر سیکھتا ہے، کوئی سن کر اور کوئی عملی تجربے سے۔
اسی لیے والدین کو بچوں کا آپس میں موازنہ کرنے کے بجائے ہر بچے کی انفرادی صلاحیت کو پہچان کر اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ یہی رویہ بچوں کی شخصیت اور اعتماد کو بہتر انداز میں پروان چڑھاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان منفرد ہے۔ کوئی تحقیق میں بہتر ہوتا ہے، کوئی تدریس میں، کوئی کاروبار میں، کوئی قانون، سماجی علوم، کمپیوٹر، صحافت، ادب، فنون یا دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہے جہاں ہر پیشے کو عزت دی جائے اور ہر صلاحیت کو پروان چڑھنے کا موقع ملے۔
تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ صرف امتحانی تیاری پر زور نہ دیں بلکہ کیریئر کونسلنگ، ذہنی صحت کی آگاہی اور جذباتی معاونت کو بھی تعلیم کا لازمی حصہ بنائیں۔ طلبہ کو یہ سکھایا جائے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک مرحلہ ہے۔
والدین کے لیے سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ اپنے بچوں کا دوسروں سے موازنہ نہ کریں۔ ان سے محبت کریں، ان کی بات سنیں، ان کی دلچسپی کو سمجھیں اور انہیں وہ راستہ اختیار کرنے دیں جس میں وہ اپنی بہترین صلاحیت دکھا سکیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی قوم کی ترقی صرف زیادہ ڈاکٹر پیدا کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ ایسے خوش، پُراعتماد، تخلیقی اور باکردار نوجوان تیار کرنے سے ہوتی ہے جو اپنی صلاحیت کے مطابق معاشرے کی خدمت کریں۔
یاد رکھیے!
ہر بچہ ڈاکٹر بننے کے لیے پیدا نہیں ہوتا، لیکن ہر بچہ کسی نہ کسی میدان میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ والدین کی اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ اس صلاحیت کو پہچانیں، اس کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنے بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ ان کی زندگی کسی بھی امتحان سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
بقول علامہ اقبال:
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے