कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غیر تسلیم شدہ غم: دل کی خاموش اذیت اور دورِ حاضر کے انسانی رویّے

نفسیاتی، سماجی، عصری اور اسلامی نقطۂ نظر سے ایک جائزہ

بقلم: شیخ محمود علی
8055402819

جون ایلیا سے منسوب ایک شعر ہے:
بے حسی شرط ہے جینے کے لیے
اور ہم کو احساس کی بیماری ہے
یہ دو مصرعے بظاہر ایک شعری کیفیت کا اظہار ہیں، مگر غور کیا جائے تو ان میں ہمارے عہد کی ایک پوری نفسیاتی اور سماجی داستان چھپی ہوئی ہے۔ آج کا انسان بظاہر پہلے سے کہیں زیادہ مربوط ہے، مگر اندر سے شاید پہلے سے زیادہ تنہا۔ رابطوں کی کثرت نے قربت کی ضمانت نہیں دی، اور اظہار کی آزادی نے لازماً یہ بھی ثابت نہیں کیا کہ ہمارے دکھ کو کوئی سمجھنے والا موجود ہے۔
انسانی زندگی میں بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو جسم پر نہیں لگتے، اس لیے دکھائی بھی نہیں دیتے۔ مگر ان کی چبھن بعض اوقات جسمانی زخم سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں Disenfranchised Grief یعنی غیر تسلیم شدہ غم کا تصور ہمارے سامنے آتا ہے۔
نفسیات میں اس اصطلاح سے مراد ایسا غم یا سوگ ہے جسے معاشرہ، خاندان یا اردگرد کے لوگ پوری طرح اہمیت نہیں دیتے۔ غم موجود ہوتا ہے، تکلیف حقیقی ہوتی ہے، مگر اسے وہ سماجی تسلیم حاصل نہیں ہوتی جو دوسرے معروف غموں کو ملتی ہے۔
ہر غم موت کا غم نہیں ہوتا۔
کبھی کسی رشتے کا خاموش خاتمہ بھی انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ کبھی کوئی گہری دوستی اچانک بے معنی ہو جاتی ہے۔ کبھی برسوں کا اعتماد ایک جملے سے بکھر جاتا ہے۔ کبھی کسی خواب کی شکست انسان کی شخصیت کے ایک حصے کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ کبھی ملازمت کا چھن جانا، کسی اہم تعلق کا ختم ہو جانا یا کسی عزیز انسان کا رویہ بدل جانا ایک ایسے خلا کو جنم دیتا ہے جسے دوسروں کے لیے سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انسان غمگین ہوتا ہے۔ اصل اذیت اس وقت بڑھتی ہے جب اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کا غم، غم ہی نہیں۔
"اتنی سی بات پر کیوں پریشان ہو؟”
"بھول جاؤ، زندگی میں یہ سب ہوتا رہتا ہے۔”
"اس میں رونے والی کیا بات ہے؟”
یہ جملے بظاہر تسلی کے لیے کہے جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہ تسلی کے بجائے انکار بن جاتے ہیں۔ وہ شخص جس کے دل پر بوجھ ہے، وہ آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ اپنے احساسات کا اظہار نہ کرے۔
وہ خاموش ہو جاتا ہے۔
اور بعض خاموشیاں سکون نہیں ہوتیں، وہ اندر چلنے والی جنگ کا دوسرا نام ہوتی ہیں۔
اپنوں کی بے اعتنائی کا دکھ:
انسان کو ہمیشہ دشمن کی سختی نہیں توڑتی۔ بعض اوقات سب سے گہرا زخم وہیں سے ملتا ہے جہاں محبت، احترام اور حسنِ سلوک کی سب سے زیادہ امید ہوتی ہے۔
اجنبی کی بے رخی شاید چند لمحوں کے لیے پریشان کرے، مگر کسی اپنے کا سرد رویہ دل میں دیر تک رہ سکتا ہے۔
اس کی وجہ بہت سادہ ہے: ہم ہر ایک سے توقع نہیں رکھتے، اپنوں سے رکھتے ہیں۔
اگر کوئی شخص کسی کے دکھ میں شریک رہا ہو، اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا ہو، اس کی مشکلات میں بے چین رہا ہو اور جواب میں اسے بے اعتنائی، طنز یا تحقیر ملے تو تکلیف صرف الفاظ کی نہیں رہتی۔ انسان کے اندر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "کیا میرے خلوص کی کوئی قدر نہیں تھی؟”
یہی سوال بعض اوقات رشتے کے خاتمے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
نفسیاتی پہلو:
انسانی جذبات کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔
غم اداسی، مایوسی، محرومی اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کے احساسات انسانی نفسیات کا فطری حصہ ہیں۔ جب انسان کو اپنے دکھ کا اظہار کرنے کا موقع ملتا ہے، جب کوئی اسے سن لیتا ہے، جب اس کے احساسات کو نام مل جاتا ہے، تو اس کے اندر جذباتی ترتیب پیدا ہونے لگتی ہے۔
لیکن جب وہ بار بار اپنے احساسات چھپاتا ہے تو یہ دباؤ دوسری صورتوں میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ تنہائی، بے چینی، نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، بے دلی اور بعض صورتوں میں ڈپریشن جیسی کیفیات اسی جذباتی دباؤ سے شدت اختیار کر سکتی ہیں۔
بعض اوقات انسان یہ سمجھتا ہے کہ مضبوط بننے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ محسوس نہ کیا جائے۔
حالانکہ اصل مضبوطی شاید یہ ہے کہ انسان اپنے احساسات کو پہچانے، انہیں سمجھے، مگر ان کا غلام نہ بنے۔
دورِ حاضر میں قربت کا بحران:
ہم ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں ایک کلک سے دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود انسان سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے فون میں سیکڑوں نمبرز ہیں، سوشل میڈیا پر ہزاروں دوست اور فالوورز ہو سکتے ہیں، مگر کیا ہم واقعی ایک دوسرے کو سن بھی رہے ہیں؟
ڈیجیٹل دنیا نے رابطے آسان کر دیے، لیکن شاید توجہ کو مشکل بنا دیا ہے۔
آج لوگ "لائک” کرتے ہیں، "ری ایکشن” دیتے ہیں، مختصر پیغامات بھیجتے ہیں، مگر کسی انسان کے دکھ کو خاموشی سے سننے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔
کسی غمگین انسان کے لیے سب سے بڑی ضرورت اکثر یہ نہیں ہوتی کہ اسے فلسفہ سمجھایا جائے۔ کبھی اسے صرف یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ "تمہارا دکھ میرے لیے اہم ہے۔”
ہمدردی کا مطلب ہر مسئلے کا حل دینا نہیں۔ بعض اوقات صرف موجود رہنا بھی ہمدردی ہے۔
رشتہ داروں میں حسد، جلن اور تقابل:
خاندان انسانی زندگی کا بنیادی ادارہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی بار محبت، تعاون، تحفظ اور وابستگی سیکھتا ہے۔ مگر اسی دائرے میں تقابل، مقابلہ اور بعض اوقات حسد بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
تعلیم، روزگار، معاشی حالت، سماجی مقام، اولاد کی کامیابی، شہرت یا کسی کی علمی ترقی کبھی کبھی ایسے تقابلی جذبات کو جنم دیتی ہے جو تعلقات کو متاثر کرتے ہیں۔
حسد ہمیشہ کھلی دشمنی کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا۔
کبھی کسی کامیابی پر خاموشی چھا جاتی ہے۔
کبھی تعریف کے بجائے نقص تلاش کیا جاتا ہے۔
کبھی خوشی کے موقع پر کوئی ایسا جملہ کہہ دیا جاتا ہے جو خوشی کو کم کر دے۔
کبھی انسان کی کامیابی کو اس طرح معمولی قرار دیا جاتا ہے جیسے اس کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔
سماجی نفسیات میں Social Comparison یعنی سماجی تقابل کا تصور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ انسان اکثر اپنی حیثیت کو دوسروں کے مقابلے میں دیکھتا ہے۔ جب یہ تقابل صحت مند حد میں ہو تو ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر جب دوسرے کی کامیابی ہمیں اپنی شکست محسوس ہونے لگے تو یہی تقابل حسد اور رنجش میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
تاہم انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم ہر خاموشی کو حسد اور ہر سرد رویے کو دشمنی نہ سمجھیں۔ لوگوں کی اپنی مصروفیات، ذاتی مسائل اور ذہنی کیفیات بھی ان کے رویوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
بدگمانی بھی رشتوں کو اتنا ہی نقصان پہنچا سکتی ہے جتنا حسد۔
لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ہر رویے کے پیچھے نیت تلاش کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ کیا کوئی نقصان دہ رویہ مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔
معاشرہ غم کی درجہ بندی کرتا ہے:
کچھ غم معاشرے میں فوراً تسلیم کر لیے جاتے ہیں۔ والدین، شریکِ حیات یا قریبی عزیز کی وفات پر لوگ تعزیت کرتے ہیں، وقت دیتے ہیں اور غم کے اظہار کو جائز سمجھتے ہیں۔
لیکن کچھ غم ایسے ہیں جن کے لیے کوئی باقاعدہ سماجی رسم موجود نہیں۔
گہری دوستی کا خاتمہ، طلاق یا ناکام رشتہ، ملازمت کا چھن جانا، حمل ضائع ہونا، کسی دیرینہ خواب کا ٹوٹنا یا پالتو جانور کی موت یہ سب انسان کے لیے حقیقی جذباتی صدمہ بن سکتے ہیں۔
لیکن اگر معاشرہ کہے کہ "یہ تو کوئی بڑا نقصان نہیں”، تو غم دوہرا ہو جاتا ہے۔
ایک نقصان کا غم، اور دوسرا اس بات کا کہ کسی نے اس غم کو سمجھا ہی نہیں۔
یہی Disenfranchised Grief کا بنیادی دکھ ہے۔
احساس اور عزتِ نفس:
حساس ہونا ایک انسانی وصف ہے۔
جو انسان دوسروں کے دکھ کو محسوس کرتا ہے، جو کسی کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، جو تعلقات میں وفاداری اور خلوص رکھتا ہے، وہ انسانی رشتوں کو معنی دیتا ہے۔
مگر حساسیت اور خود فراموشی میں فرق ہے۔
محبت خوبصورت ہے، مگر خود کو مٹا دینا محبت نہیں۔
خلوص اہم ہے، مگر اگر وہ مسلسل تحقیر برداشت کرنے پر مجبور کر دے تو وہاں جذباتی حدود قائم کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ہر رشتہ اس وقت تک صحت مند رہتا ہے جب تک اس میں احترام باقی رہے۔
خون کے رشتے انسان کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتے ہیں، مگر انہیں زندہ احترام، حسنِ سلوک، خیر خواہی، ہمدردی اور کشادہ دلی رکھتے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر:
اسلام غم کو کمزوری قرار نہیں دیتا۔ قرآن و سنت میں غم، صبر، دعا، امید اور اللہ پر توکل کا ذکر بار بار آتا ہے۔
اسلام انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ وہ احساسات سے محروم ہو جائے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ احساسات کے باوجود توازن قائم رکھے۔
ہر نیکی کا بدلہ انسانوں ہی سے ملے، یہ ضروری نہیں۔ بعض اوقات خلوص کا بدلہ بے اعتنائی کی صورت میں بھی ملتا ہے۔ مگر مومن کے لیے نیکی کا معیار دوسرے انسان کا ردِعمل نہیں بلکہ اللہ کی رضا بھی ہے۔
اسی طرح اسلام حسد سے بھی دل کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔ دوسروں کی نعمت پر خوش ہونا، ان کے لیے دعا کرنا اور اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرنا دل کو وسعت دیتا ہے۔
لیکن دوسروں کے بارے میں بلا دلیل بدگمانی سے بھی بچنا چاہیے۔
غم اور ذہنی بے چینی کے وقت ذکرِ الٰہی، نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن انسان کو روحانی سہارا فراہم کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں فرمایا گیا:
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”
(سورۃ الرعد: 28)
صبح و شام کے اذکار، آیت الکرسی، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت بھی مسلمان کے لیے روحانی تحفظ اور اطمینان کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
صلہ رحمی، معافی اور حدود:
اسلام صلہ رحمی کی تعلیم دیتا ہے، مگر صلہ رحمی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر قسم کی تحقیر یا جذباتی اذیت کو برداشت کرتا رہے۔
بعض رشتوں میں مکمل قطع تعلق کے بجائے باوقار فاصلہ بہتر راستہ ہوتا ہے۔
رابطہ محدود کیا جا سکتا ہے۔
غیر ضروری بحث سے بچا جا سکتا ہے۔
دل میں نفرت رکھے بغیر اپنے وقار کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔
معافی بھی بڑی اخلاقی قوت ہے، لیکن معافی اور دوبارہ خود کو نقصان کے لیے پیش کر دینا ایک ہی چیز نہیں۔
انسان دل کا بوجھ ہلکا کر سکتا ہے، مگر تجربے سے سبق لینا بھی ضروری ہے۔
آخری بات:
دورِ حاضر کو صرف نئی ٹیکنالوجی، تیز رفتار زندگی، معاشی ترقی اور جدید وسائل کی ضرورت نہیں۔
اسے احساس کی بھی ضرورت ہے۔
اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دوسروں کی کامیابی سے خوفزدہ نہ ہوں، جو غمگین انسان کا مذاق نہ اڑائیں، جو تعلقات کو مقابلہ نہ بنائیں اور جو اپنے خلوص کے ساتھ دوسروں کے وقار کی بھی حفاظت کریں۔
ہر احساس کو ختم کرنا زندگی کا حل نہیں۔
بے حسی شاید ہمیں کچھ زخموں سے بچا لے، مگر اگر یہی بے حسی انسانیت کو بھی ختم کر دے تو یہ بہت مہنگا سودا ہوگا۔
اس لیے انسان کو حساس رہنا چاہیے، مگر اپنی عزتِ نفس کے ساتھ۔
محبت کرنی چاہیے، مگر خود کو مٹا کر نہیں۔
معاف کرنا چاہیے، مگر سبق بھلا کر نہیں۔
خیر خواہی رکھنی چاہیے، مگر اپنی ذہنی سلامتی کی قیمت پر نہیں۔
اور اگر کبھی غم، بے چینی یا اداسی اس حد تک بڑھ جائے کہ نیند، صحت یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو کسی قابلِ اعتماد شخص، ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا بالکل مناسب ہے۔ علاج اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داری قبول کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
شاید اسی لیے یہ دو مصرعے آج بھی دل کو چھوتے ہیں:
بے حسی شرط ہے جینے کے لیے
اور ہم کو احساس کی بیماری ہے
مگر شاید انسان ہونے کا اصل حسن یہی ہے کہ بے حسی کے زمانے میں بھی احساس زندہ رکھا جائے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے