कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اذان ایک خوبصورت عمل

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی، پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

ہر سو ہوں جب وباؤں کے سائے، اذان دو
دنیا مریض ہو تو دوائیں اذان دو
اللہ نے انسانوں کے قلوب کی تسکین اس کے ذکر اور اس کی یاد میں رکھا ہے۔ انسان کے دل کو راحت اور سکون اللہ کا ذکر اور اس کی یاد ہی میسر کرا سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ سے یہ بات ہم پر آشکار ہوتی ہے۔ فرمایا: دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ عین فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہ بات الگ ہے کہ بعد کو ان کے والدین دیگر مذاہب پر ڈھالتے ہیں۔ ماضی میں سائنس دان ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے اذان کی آواز سن کر دل میں ایک قسم کا سکون پایا۔ اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ جب سیکڑوں اور ہزاروں غیر مسلم سیاح جب مسلم یا دیگر ممالک کی سیاحت کرتے ہیں تو انہیں مساجد سے اذان کی آواز سنائی دیتی ہے۔ جب یہ سیاح اذان سنتے ہیں تو ان کے دلوں پر گہرا اثر مرتب ہوتا ہے، اور وہ ایک قسم کا سکون اور حلاوت پاتے ہیں ہیں۔ اور یہی سکون اور حلاوت انہیں قرآن اور اسلام سے متعلق تحقیق (Scientific research) علمی ریسرچ کرنے پر دعوتِ سخن دیتی ہے۔
گویا کہ وہ قرآن کی اس آیت پر عمل کرنے کی حتی الامکان پوری کوشش کرتے ہیں۔ جس کا مفہوم ہے، اور جان لو کہ، قلوب کو مطمئن اور راحت بخشنے والی کوئی چیز ہے تو وہ صرف اللہ کا ذکر ہے۔ اللہ نے دنیا کی ہر شے میں غور و خوض رکھا ہے۔ اور جو اللہ کی تخلیق میں تدبر کرتا ہے، وہ اللہ کو پا لیتا۔ اور جو اللہ کو پاتا ہے، وہ دنیا کی ہر چیز پا لیتا ہے۔ ہے، وہیں سائنسی نقطۂ نظر (Medical scientific perspective) سے بھی نومولود کے کان میں دھیمی آواز پہنچانے کے کئی حیاتیاتی پہلو موجود ہیں۔ اور کئی فوائد ہیں۔ بچہ پیدائش کے فوراً بعد اس کی قوتِ سماعت فعال ہوتی ہے۔ اور اس کے کان میں دھیمی آواز یا اذان دینے سے (Auditory system) مزید متحرک ہوتا ہے، جو اعصابی نظام کے نشوونما کے لیے فائدے مند ہے۔ جب انہوں نے اذان کی حقیقت کو سمجھا تو وہ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوئے۔
اذان کے کلمات کیا ہیں؟ دنیا کو یہ بتانا ہے کہ "اللہ” ایک ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ نماز کے لیے آئیے۔ نماز کے لیے آئیے۔ کامیابی اور کامرانی کی طرف آئیے۔ کامیابی اور کامرانی کی طرف آئیے۔ اللہ بڑا ہے، اللہ بڑا ہے۔ اور نہیں ہے کوئی سوائے اللہ کے۔
اذان کے کلمات اور زیادہ روح پرور اور خوبصورت ہو جاتے ہیں، جب منادی کہتا ہے، الصلوٰۃ خیر من النوم۔ الصلوٰۃ خیر من النوم۔ نیند سے بہتر نماز ہے، نیند سے بہتر نماز ہے۔ یہی کلمات دنیا کے ہر گوشہ میں سنائی دیتے ہیں، یہی نہیں بلکہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں ہر سیکنڈ اذان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اور یہ خدا کی وحدانیت اور اس کی قدرت کا مظہر ہے۔
اذان یہ بھی کہتی ہے کہ رکیے اگر مصروف ہیں، اور اذان کے کلمات آپ کو سنائی دیں تو نماز کے لیے آئیں، جو دنیا و مافیہا سے بڑی کامیابی ہے۔ جیسا کہ اللہ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا۔ جس کا مفہوم ہے، اے ایمان والو، جب تم جمعہ کے نماز کی اذان سنو تو فوراً اپنے کاروبار کو روک کر اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جان لو۔
چنانچہ قرآن کریم صرف مومنوں کہ حد تک محدود نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کے لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں انسانیت کی عظمت اور اس کے تحفظ کا ذکر ہے۔ چنانچہ اذان ایک خوبصورت اور روحانی کلمات ہیں۔ دنیا کے ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے دل اور قلبِ سلیم عطا کیا ہے۔ جس سے دنیا کا ہر جدت پسند انسان اور روایت پسند انسان اذان کے کلمات کو سن کر دلی سکون اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اور یہ بات الگ ہے کہ منصب اور جھوٹی شہرت کی خاطر منفی سوچ رکھتے ہیں وہ خسارہ میں ہیں۔ اور جو مثبت سوچ رکھتے ہیں وہ اللہ کی ہر تخلیق کو خدا کی قدرت کا مظہر سمجھتے ہیں۔
چناں چہ اذان صرف نماز کا اعلان ہی نہیں بلکہ یہ اسلام کا شعار اور دل اور روح کی غذا بھی ہے۔ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو وہ راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔ اذان کی آواز جہاں تک رسائی ہوگی وہاں کی ہر چیز منادی کے حق میں گواہی دے گی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اذان دینے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کے کیا فضیلت ہے تو لوگ قرعہ اندازی کریں گے۔
لیکن افسوس ہوتا ہے کہ آج کا نوجوان موبائل اور اس کی لغویات میں مبتلا ہوگیا۔ آج ہمارے نوجوانوں کو اذان اور کامیابی کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ کیونکہ وہ موبائل میں غرق رہتے ہیں۔ اور اپنے آس پاس کے ماحول سے ناآشنا رہتے ہیں۔ آج موبائل کے غلط استعمال سے کئی نوجوان مصائب اور آلام کا شکار ہیں۔ یہی نہیں جس سے دنیا اور آخرت کی تخریب کاری کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی جان لو کہ سوشل میڈیا پر غلط استعمال گناہ کا باعث ہے۔
چناں چہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنا قیمتی وقت تعلیم، سماج اور معاشرہ کو بہتر بنانے میں صرف کریں۔ اور اللہ کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تروتازہ رکھیں۔ آج کے اس مصروفیت بھاگ دوڑ اور شور شرابہ کے ماحول میں بس ایک میٹھی سی اور روح کو سکون میسر کرنے والی آواز گونجتی ہے۔ وہ آواز کہتی ہے کہ اے انسان تو کس طرف دوڑ رہا ہے۔ جو سراب اور دھوکہ ہے۔ وہ خوبصورت آواز یہ کہتی ہے کہ اے انسان ادھر آ، تیرے لیے کامیابی اور کامرانی ہے۔
اللہ ہمیں اذان کے کلمات سن کر نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، آمین۔
ہم نے سیکھا ہے اذانِ سحر سے یہ اصول
لوگ خوابیدہ ہی سہی، ہم نے صدا دینی ہے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے