कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

موجودہ دنیا خدا کی گواہی کا واضح ثبوت ہے

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی، پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

دنیا میں انسانوں کی تخلیق سے قبل، فرشتوں اور جنات کا وجود تھا، جہاں وہ اللہ کی تابعداری اور اس کی عبادت میں ہمہ تن مصروف تھے۔ پھر خدا نے آدم علیہ السلام کے ذریعے انسان کی تخلیق کی اور مرد و زن وجود میں آئے۔ خدا نے دنیا میں قیامت تک پیدا ہونے والی ہر چیز کا ذکر قرآن میں کیا ہے، جو قیامت تک پیدا ہوتی رہیں گی۔
دنیا میں کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے۔ ہماری نظر میں وہ طاقت نہیں کہ خدا کا دیدار کر سکے۔ خدا کے دیدار اور اس کو دیکھنے کا شرف حاصل کرنے کے لیے "مرنا” ضروری ہے، بغیر مرے خدا کا دیدار ممکن نہیں۔
اب تک کی تاریخ میں خدا سے ہم کلام ہمارے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے۔ حضرت موسیٰ سے اولاً اللہ نے اپنے جوتے اتارنے کو کہا تھا۔ پھر گفت و شنید بھی ہوئی تھی۔
موجودہ دنیا کے ساتھ اللہ نے ازل سے ابد تک اپنی وحدانیت پوری کائنات پر آشکارا کی ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ چاند تاروں کو چمکتا دمکتا دیکھ کر یہ قیاس آرائیاں کرتے تھے کہ آسمان سے چسپاں ہیں، جب لوگوں نے قرآن کو پڑھا اور سمجھا تو معلوم ہوا کہ کائنات میں اجسامِ فلکی اپنے اپنے مدار پر تیر رہے ہیں، گھوم رہے ہیں، اور یہ اپنے رب کے ایماء پر اور ایک مکمل سسٹم کے تحت مقررہ وقت تک گردش میں ہیں۔
قرآن نے اس بات کو یوں کہا ہے: "کُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ”، یعنی ہر سیارہ اپنے اپنے مدار میں متعینہ وقت تک گھوم رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کی ریسرچ نے انسان کو چاند تک پہنچایا، اور اللہ نے اپنے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دربار تک۔ سائنس نے کائنات کے جس سسٹم کو بتایا، وہ قرآنِ کریم نے اَن گنت سالوں پہلے بتا دیا کہ خدا ہی اس کائنات کا خالق و مالک ہے۔
ابراہیم علیہ السلام کا ایک زمانہ ایسا تھا کہ وہ اپنے رب سے ناآشنا تھے۔ رب العزت نے ان کے شرک سے چھٹکارے اور بیزاری کو اور ان کی سرگزشت قرآن میں بیان کیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کبھی خالقِ کائنات سے ناآشنا تھے۔
لیکن وہ وقت بھی ناقابلِ فراموش ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو مصنوعی بتوں، مصنوعی اصنام کی عبادت سے اجتناب کرنے کو کہا تھا، جس کو قرآن نے اَن گنت سالوں پہلے دنیا پر آشکارا کیا۔
جب اللہ نے دن کو رات میں بدلا، تب ابراہیم علیہ السلام نے رات میں چمکتے ہوئے ستارے کو اپنا رب کہا، لیکن جب وہ غروب ہوا تو کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا، میں غروب ہونے والے سے عقیدت نہیں رکھتا۔ جب چاند کو منور پایا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے۔ جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا کہ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دے تو میں گمراہ لوگوں میں ہو جاؤں گا۔
جب آفتاب کو دیکھا تو کہا کہ یہ سب سے بڑا ہے، یہ میرا رب ہے۔ جب وہ بھی غروب ہو گیا تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں تمہارے اس طرح کے شرک سے پریشان اور بیزار ہوں۔ اب میں اپنے رب کو مانتا ہوں جس نے چاند، سورج، سیارے اور کائنات میں اجسامِ فلکی بنائے، اور یہی نہیں بلکہ ایسا بلیک ہول بنایا جس میں چاند، سورج اور زمین سے کئی زیادہ بڑے سیارے بلیک ہول میں سما جاتے ہیں۔
اور یہ تمام خدا کے ایماء پر اپنے اپنے (Orbit) دائرے میں گردش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا نمودار ہونا، شام میں (Sunset) سورج کا غروب ہونا اور صبح طلوع ہونا، چاند کا رات کو منور کرنا، اور ستاروں سے راستے طے کرنا، بارش، گرمی اور سردی کا زمین پر واقع ہونا، گیلیکسی، کہکشاں اور شہابِ ثاقب میں خدا کی قدرت جھلکتی ہے۔
چناں چہ بہت سارے فلاسفروں نے یہ بات کہی ہے۔ ایلون پلانٹنگا (Alvin Plantinga) کا ماننا ہے کہ خداے برتر پر ایمان رکھنا بنیادی عقیدہ ہے۔ فلاسفروں میں کہیں کہیں اختلاف ضرور رہا ہے، لیکن عقلِ سلیم رکھنے والوں نے ایک ہستی، جس نے (Universe) کائنات اور (Human Creation) انسان کی تخلیق کی ہے، خدا کو خالق کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔
چناں چہ ابنِ سینا کا یہ جملہ بہت مشہور ہے اور حقیقت پر مبنی ہے۔ کہتے ہیں کہ: "پہلا علم یہ ہے کہ (God is Existence) خدا موجود ہے۔”
گویا کہ ان کا یہ جملہ قرآن کی اس آیت پر دلالت اور اس کی تصدیق کرتا ہے: "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ” الیٰ آخر۔
اپنے رب کے نام سے پڑھو۔ علم اللہ کی صفتِ اعلیٰ ہے اور اسی نے دنیا کے سارے انسانوں کو مختصر علم عطا کیا ہے۔ اس طرح سے ابنِ سینا خدا کے وجود (God Existence) کا قائل ہوا۔
آئزک نیوٹن (Isaac Newton) فزکس کا بانی ہونے کے ساتھ خدا پر کامل ایمان رکھتا تھا۔ کہتا ہے کہ: "یہ انتہائی خوب صورت نظامِ سورج، اور رات دن کا نمودار ہونا صرف ایک ذہین قادرِ مطلق (Omnipotent) کی قدرت سے ہی ممکن ہوتا ہے۔”
لہٰذا اس موجودہ دنیا کی سائنس، فلاسفرز اور بڑی بڑی عقل رکھنے والوں نے آج سے ہزاروں سال پہلے پیغمبروں کی بات کی تصدیق اور ترجمانی کی ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے وجود کو تسلیم کر رہے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے