कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

طلباء کی پُراثر تحریک اور حکومت کی آزمائش

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۹۹۳۴۹۳۳۹۹۲

طلبہ کی تحریکوں کو محض احتجاج کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ دنیا بھر میں طلبہ کی تحریکیں ہمیشہ بیداری، شعور اور مثبت تبدیلی کی علامت رہی ہیں۔ جب نوجوان کسی مسئلے کو اپنا مسئلہ بنا لیتے ہیں تو اس کی بازگشت صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ حکومتوں کو بھی اس پر غور کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد، جے پرکاش نارائن کی تحریک، منڈل کمیشن کے حق اور مخالفت میں ہونے والے احتجاج، شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف طلبہ کی تحریک اور اب نیٹ (NEET) کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف جاری احتجاج اسی حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ نوجوانوں کی آواز کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن ملکوں میں نوجوانوں کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لیا گیا، وہاں اصلاحات کا راستہ کھلا، جبکہ ان کی آواز دبانے کی کوششوں نے بے چینی اور بداعتمادی کو بڑھایا۔
نیٹ کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہونے والی تحریک اب کئی ریاستوں تک پہنچ چکی ہے۔ بہار میں اس نے خاصی شدت اختیار کر لی ہے۔ مختلف اضلاع میں مسلسل احتجاج ہوئے۔ جہان آباد میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے بعد فائرنگ تک کی نوبت آ گئی، جبکہ مظفرپور میں پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان مبینہ جھڑپ کے بعد احتیاطاً انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئیں۔ بعد ازاں 25 جولائی کو طلبہ اور نوجوان تنظیموں کی اپیل پر کامیاب ’’بہار بند‘‘ نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس صورت حال سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف قانون و انتظام کا نہیں بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کا ہے۔
اس تحریک کے مطالبات بالکل واضح ہیں۔ طلبہ چاہتے ہیں کہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں، اگر پرچہ لیک یا بدعنوانی ثابت ہو تو ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے، امتحانی نظام کو مزید محفوظ بنایا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط انتظامات کیے جائیں۔ یہ مطالبات کسی سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ ان لاکھوں نوجوانوں کے ہیں جنہوں نے برسوں کی محنت اور اپنے والدین کی امیدوں کے ساتھ اس امتحان میں شرکت کی۔ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ان کی محنت کا صحیح انصاف ہو۔
تعلیم ہر نوجوان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ ایک طالب علم کئی برس تک محنت کرتا ہے، والدین اپنی جمع پونجی کوچنگ، کتابوں اور رہائش پر خرچ کرتے ہیں، تب کہیں جا کر وہ ایسے امتحان میں شریک ہوتا ہے۔ اگر امتحان کی شفافیت ہی مشکوک ہو جائے تو سب سے زیادہ نقصان انہی طلبہ کو پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹ کے معاملے نے لاکھوں نوجوانوں میں بے چینی، مایوسی اور بے اعتمادی پیدا کر دی ہے۔ یہ صرف ایک امتحان کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام پر اعتماد کا سوال بھی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کا رویہ زیادہ تر سختی پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ کئی مقامات پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائیاں ہوئیں، گرفتاریاں عمل میں آئیں اور طاقت کے استعمال کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ حکومت مسئلے کے حل کے بجائے احتجاج کو روکنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ حالاں کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے کو طاقت سے دبانا کبھی مستقل حل نہیں ہوتا۔ احتجاج ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات ختم نہیں کیے جا سکتے۔
وقت کے ساتھ اس تحریک کو سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی ملنے لگی۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے طلبہ کے مطالبات کی تائید کی۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی احتجاج میں شرکت اور بعد ازاں گرفتاری نے اس معاملے کو مزید قومی توجہ دلائی۔ اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کس حد تک شامل ہونا چاہیے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس کے بعد یہ معاملہ قومی بحث کا موضوع بن گیا۔ اس کے باوجود ضروری ہے کہ اصل مسئلہ، یعنی امتحانی نظام کی شفافیت، سیاسی شور میں دبنے نہ پائے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی اس معاملے پر مسلسل ہنگامہ ہوتا رہا۔ اپوزیشن نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومت نے ان کا دفاع کیا۔ اس کشمکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہوئی اور کئی دوسرے عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ پارلیمنٹ ملک کے اہم مسائل کے حل کا سب سے بڑا جمہوری فورم ہے، اس لیے عوام کی توقع ہوتی ہے کہ وہاں الزام تراشی کے بجائے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کھو دیں تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ امتحانات کسی بھی ملک کے تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو پورا نظام سوالوں کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔ نوجوانوں کے دل میں یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ کامیابی صرف محنت اور قابلیت سے نہیں بلکہ دوسرے عوامل سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ سوچ کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ اس سے میرٹ اور انصاف دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری صرف امن و امان قائم رکھنا نہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال رکھنا ہے۔ اگر لاکھوں طلبہ امتحان کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں تو ان کے خدشات کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔ طاقت کا استعمال وقتی طور پر حالات پر قابو پا سکتا ہے، مگر اعتماد بحال نہیں کر سکتا۔ اعتماد صرف شفاف تحقیقات، جواب دہی اور عملی اصلاحات سے ہی واپس آتا ہے۔
دوسری طرف طلبہ تنظیموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے احتجاج کو پرامن رکھیں۔ تشدد، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا یا قانون کو ہاتھ میں لینا کسی بھی تحریک کو کمزور کر دیتا ہے۔ طلبہ کی سب سے بڑی طاقت ان کا اتحاد، نظم و ضبط اور مضبوط دلیل ہے۔ جب احتجاج پرامن رہتا ہے تو عوامی حمایت بھی بڑھتی ہے اور حکومت پر اخلاقی دباؤ بھی زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
آج کا طالب علم پہلے سے کہیں زیادہ باخبر ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے اس کی آواز کو چند لمحوں میں پورے ملک تک پہنچانے کی طاقت دے دی ہے۔ اس لیے کسی بھی مسئلے کو صرف انتظامی اقدامات سے دبانا ممکن نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ حکومت تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے، طلبہ کے نمائندوں سے کھل کر گفتگو کرے اور ان کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
بہار کی سرزمین طلبہ تحریکوں کی ایک بے مثال تاریخ رکھتی ہے۔ جے پرکاش نارائن کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے ملک کی سیاست کا رخ بدل دیا تھا۔ آج اگر ایک بار پھر نوجوان سڑکوں پر ہیں تو حکومت کو اسے محض سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ پیغام سمجھنا چاہیے۔ ہر تحریک حکومت گرانے کے لیے نہیں ہوتی، بہت سی تحریکیں نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی اٹھتی ہیں۔
سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت جیسے اہم مسئلے پر سنجیدہ بحث کے بجائے سیاسی الزام تراشی زیادہ ہو رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں، جبکہ لاکھوں طلبہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر ایسا امتحانی نظام بنایا جائے جو محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد ہو۔ امتحانی اداروں کی جواب دہی طے کی جائے، جدید ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال ہو اور بے ضابطگیوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی یقینی بنائی جائے تاکہ آئندہ ایسے بحران پیدا نہ ہوں۔
جمہوریت کی اصل طاقت اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور عوام کی آواز سننے میں ہے۔ اگر حکومت ہر احتجاج کو سیاسی سازش سمجھے گی اور طلبہ ہر سرکاری اقدام کو دشمنی، تو دونوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر تحمل، مکالمہ اور آئینی طریقہ اختیار کیا جائے تو نہ صرف موجودہ بحران کا حل نکل سکتا ہے بلکہ ملک کے تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔
آج کا سوال صرف نیٹ امتحان کا نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی مستقبل کا ہے۔ اگر نوجوانوں کا اعتماد ٹوٹ گیا تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس لیے حکومت کو طاقت کے بجائے اعتماد، سختی کے بجائے شفافیت اور تصادم کے بجائے گفت و شنید کو ترجیح دینی چاہیے۔ یہی جمہوری طرزِ حکمرانی کا تقاضا ہے اور یہی ملک کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے کا راستہ بھی۔ اگر آج صحیح فیصلے کیے گئے تو موجودہ بحران اصلاحات کا ذریعہ بن سکتا ہے، ورنہ نوجوانوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی بداعتمادی کو ختم کرنے میں طویل وقت لگے گا۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے