कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لیڈرشپ کے دس کمانڈمنٹس

تحریر:ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدرسوشیوریفارمس سوسائٹی آف انڈیا، حیدرآباد
9642571721

1۔ مشورے مت دیجئے، چاہئے چاہئے بند کردیجئے:
لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں لیڈرشپ کی کمی ہے۔ حالانکہ قوم میں بے شمار علما، جماعتی لیڈر، صحافی، ڈاکٹر اور پروفیسرز ہیں۔ جس سے بھی بات کیجئے، ایک آٹو والے سے لے کر ایک کروڑ پتی تک ہر شخص باتوں سے خود ہی لیڈر ہے۔ صرف لیڈر ہی نہیں بلکہ ایک دانشور، عالم اور مفتی بھی ہے۔ پھر مسئلہ کہاں ہے؟
مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام نے نصیحتیں کرنے اور تبصرے کرنے کو لیڈرشپ سمجھ رکھا ہے۔ اس لئے وہ صرف اپنی ہانکنا چاہتے ہیں، کسی کی سننے کے قائل نہیں ہے۔ جہاں موقع ملے یہ مشورے دینا شروع کردیتے ہیں۔ بالخصوص امیر لوگ جتنے زیادہ امیر ہوتے ہیں، ان کے پاس تو مشوروں کی فیکٹریز ہوتی ہیں۔ جب تک کوی مفاد نہ ہو، ایک روپیہ جیب سے نہیں نکالتے لیکن ان کو مہمانِ خصوصی کی نشت چاہئے۔ اسی طرح بڑے عہدوں سے ریٹائرہونے کے بعد جیسے کو سفیر تھا تو کوئی کمشنر، اِن کو قوم کی خدمت یاد آتی ہے۔ اور لوگ بھی بے وقوف ہوتے ہیں اِن کے ہاتھوں میں ہر جلسے میں مائیک تھما دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کی اکثریت اُن کی ہوتی ہے جو اپنے کیریئر میں اپنے سیکولر امیج کو باقی رکھنے کے لئے قوم کے کسی فرد کے کام نہیں آئے، نہ ظلم کے خلاف کبھی زبان ہلائی۔ یہ سارے لوگ حالات حاضرہ کی بہترین Diagnosis & Analysis کرتے ہیں لیکن بات جب Solution کی آتی ہے تو چاہئے چاہئے کی رٹ لگاتے ہیں۔ یعنی خود کوئی ذمہ داری نہیں لیتے بلکہ دوسروں کے سرپر ذمہ داریاں ڈال کر صرف اپنی دانشوری کی داد وصول کرتے ہیں۔ چاہئے چاہئے سے مراد مشورے ہیں کہ علمااور جماعتوں کو یہ کرنا چاہئے، عربوں کو یہ کرنا چاہئے، نوجوانوں کو آگے بڑھنا چاہئے، اتحاد ہونا چاہئے۔ یہ چاہئے چاہئے کی بکواس اب ایک ایسے کینسر کی صورت اختیار کرگیا ہے کہ آخری اسٹیج پر آگیا ہے۔ سیاست اور منصف جیسے اخبارات کا کوئی بھی آرٹیکل اٹھایئے، کسی بھی دانشور یا خطیب کی لمبی لمی تقریریں سنئےیا آجکل کے بے شمار Pseudo-intellectuals کو پڑھئے جو ہر روز واٹس اپ، فیس بک یا یوٹیوب پر کچھ نہ کچھ ڈالتے رہتے ہیں، اِن تمام کی کاوشوں کا خاتمہ دو چار چاہئے پر ہوتا ہے۔ اور یہ لوگ چاہئے چاہئے کی رٹ لگا کر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے ایک چوہا صدیوں پہلے بلّی کے جبرواستبداد کے خلاف بلّی کے گلے میں گھنٹی باندھ دینے کا مشورہ دے کر خوش ہوا تھا۔ اس کی خوب واہ واہ ہوئی تھی۔ اسی چوہے کی نسلیں آج بھی ہر محفل اور ہر جلسے میں موجود ہوتی ہیں جو اُسی چوہے کے مشوروں کی خلافت سنبھالی ہوئی ہیں۔
اگر آپ قوم کا واقعی بھلا چاہتے ہیں تو لیڈرشپ خود آگے بڑھ کر ہاتھ میں لیجئے۔ ہم امّتِ ابراہیمی میں پیدا ہوئے ہیں۔ جن کو امامت یعنی لیڈرشپ عطا کی گئی تھی۔ ’’اِنّی جاعِلُک للنّاسِ اماماً‘‘۔ لیڈرشپ کا پہلا step یہ ہے کہ آپ جو بھی مشورہ دینا چاہتے ہیں اُس سے پہلے ایک کاغذ پر اس مشورے پر عمل کرنے کتنا خرچ آئے گا اور کتنے افراد درکار ہیں، یہ حساب کیجئے۔ پھر بتایئے کہ آپ کتنا خرچ کرسکتے ہیں اور کتنا وقت دے سکتے ہیں اور کتنی ذمہ داری خود اٹھا سکتے ہیں۔ورنہ آپ اپنا بھی اور دوسروں کا بھی وقت برباد کریں گے۔
دوسرا Step یہ ہے کہ اگر آپ اتنا پیسہ خرچ نہیں کرسکتے تو دیکھئے کہ آپ کی استطاعت کتنی ہے اور کتنا وقت دے سکتے ہیں، اسی میں ہونے والے کام کو شروع کیجئے۔ لوگ برابر ساتھ آئیں گے مگر پہلے آپ کام شروع کیجئے۔
تیسرا Step یہ ہے کہ چاہئے چاہئے کے بیماروں کی پروا مت کیجئے۔کیونکہ یہ لوگ کسی بھی ذمہ داری سے بچنے کے لئے آپ کے کام میں کوئی نہ کوئی خامی نکال کر ایک ناممکن Alternative دیتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ Empowerment یا Education پر کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو یہ لوگ کہیں گے کہ اس کہیں زیادہ اہم کام تو فلاں فلاں ہے، پہلے آپ وہ کیجئے۔ اِس طرح نہ یہ خود کرنا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔
چوتھا Step یہ ہے کہ چاہئے چاہئے کے مشورے دینے والوں کا ایک Psychological problem ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ خود کو دانشور اورباقی تمام کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ Ideas صرف اُن کے دماغ میں آتے ہیں، اور باقی سارے لوگ دماغ سے محروم ہیں۔ مشورے دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ سارے بے وقوف لوگ جاکر ان کے مشوروں کے مطابق دن رات ایک کرکے کام کریں گے، خود ہی پیسہ جمع کریں گے اور خود ہی جان و مال کی قربانیاں دیں گے ، اور جب ایک انقلاب آجائے گا تو سارے آکر ان کے گھر پر بیل بجا کر کہیں گے کہ ’’حضور، ہم نے انقلاب برپا کردیا ہے تشریف لایئے اور ہماری قیادت فرمایئے‘‘۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے