कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

تحریر:سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

آج ملک کو کئی مسائل درپیش ہیں،سماج کے تقریبا تمام طبقات کو کسی نہ کسی مسئلے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ مشکلات اور پریشانیوں کاشکار ہیں،آئے دن نت نئے مسائل ہمارے سامنے آتے چلے جارہے ہیں اور کئی مسائل ایسے بھی ہیں جن کا کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا ہے آج ملک میں نوجوان طبقہ سب سے زیادہ بھپرا ہوا ہے،اس طبقے میں شدید ناراضگی اوربرہمی پائی جارہی ہے،تعلیم کا شعبہ انتہائی مسائل کا شکار ہے،تعلیم سماج کی بنیادی ضرورت اورمستقبل کی تعمیر کا ذریعہ ہے،اس کے باوجود تعلیم جیسے شعبے پربجٹ انتہائی کم رکھا گیا ہے بلکہ تعلیم کے شعبے سے متعلق فنڈز کوبھی کم کیا جارہا ہے اور اس میں بھی سیاست کرتے ہوئے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،طلبہ برادری کو امتحان تحریر کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، کیونکہ پرچے مسلسل لیک ہونے لگے ہیں،امتحان تحریر کرنے کے بعد یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس کے نتائج آئیں گے،اسکے نتائج ٹھیک اوربہتر بھی رہیں گے یا نہیں یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے،اسی طرح روزگار کے مسائل ہیں،ملک میں نوجوان بے روزگاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گئی ہے،بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہو گئی ہے،تعلیم اگر کسی طرح مکمل ہوبھی جائے اور ڈگری مل بھی جائے تب بھی ملازمت کا کوئی بھروسہ نہیں ہے،حکومت کی جانب سے بھرتیوں پرغیر معینہ امتناع کی صورتحال دکھائی دے رہی ہے،خانگی شعبے میں ملازمتوں میں تخفیف ہورہی ہے،نئی بھرتیاں اور تقررات ٹھپ ہو کررہ گئے ہیں،سماج میں تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی مسائل پربے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے،نوجوانوں کو ان دونوں مسائل پر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑرہا ہے،مہنگائی کی سطح بڑھتی ہی چلی جارہی ہے،روز مرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہونے لگی ہیں،عوام کو دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو گیاہے،دال،چاول،آٹا،دودھ اور ادویات ہر شئی مہنگی سے مہنگی ہورہی ہے۔
ملک میں بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی پرمعاشی بوجھ میں اضافہ کردیا ہے،جولائی 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق ریاستوں کے درمیان مہنگائی کی شرح مختلف ریکارڈ کی گئی ہے،گزشتہ چند برسوں میں ملک میں مجموعی طورپرمہنگائی کی شرح میں اضافہ درج کیا گیا۔تلنگانہ،مہنگائی کی شرح میں ملک میں سرفہرست ہے جہاں 6.32 فیصدمہنگائی کی شرح ریکارڈ کی گئی،آندھرا پردیش 5.72 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پرہے،جبکہ تمل ناڈو اور پوڈو چیری میں مہنگائی کی شرح 5.44 فیصد ریکارڈ کی گئی،کرناٹک،اڈیشہ،مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرمیں مہنگائی کی شرح چار فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے،ریاستوں کے درمیان مہنگائی کی شرح میں تبدیلی کے نتیجے میں علاقوں کی سطح پر عام آدمی کی زندگی پرمنفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ گزشتہ 10برسوں کے دوران مرکزی حکومت نے مہنگائی پرقابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے،جس کے نتیجے میں عوام کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،الیکشن سے قبل برسر اقتدار پارٹی نے مہنگائی پرقابو پانے کو اہم وعدوں کی فہرست میں شامل کیا لیکن عملی طورپر کوئی قدم نہیں اٹھائے گئے جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کا سلسلہ جاری ہے اورمستقبل قریب میں ملک کو سنگین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،عوام کو مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے،ماہرین معاشیات نے ملک بھرمیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کواپنے قرضہ جات اور ان کے اقساط کے علاوہ اخراجات کے متعلق ضروری جائزہ لینے کے اقدامات کرنے چاہیے،ملک کے بیرونی ذرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کے نتیجے میں،جس معاشی انحطاط کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ روپیے کی قدرمیں بہتری پیدا ہو،اس کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے محض قابو میں رکھنے کے اقدامات ممکن ہوپارہے ہیں،ہندوستانی معیشت پر ہونے والے منفی اثرات کے سلسلے میں ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں کے دوران قرضہ جات مہنگے ہونے کے علاوہ بیرون ملک تعلیم بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے،علاوہ ازیں اشیائے ضروریہ،الیکٹرانکس،خام اشیاء اور درآمدی اشیاء کے ساتھ،حمل و نقل کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافے کاامکان ظاہر کیا جارہا ہے،معیشت پرپیدا ہونے والے اس دباؤ کے نتیجے میں ہندوستان بھر میں عوام کا گھریلو بجٹ بگڑسکتا ہے کیونکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں امکانی اضافے کے علاوہ دیگرسہولتوں کی قیمتوں میں اضافے کے سبب اخراجات بڑھ جائیں گے اور ان پر قابو پانے کے لیے آمدنی میں اس رفتار سے اضافے کے امکانات موہوم نظر آرہے ہیں،تفصیلات کے مطابق ہندوستان کوجاریہ ہفتے کے دوران 6.3 ارب ڈالر کے زرمبادلے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے جومعیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا تصور کیا جارہا ہے،خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کے نتیجے میں روپیے کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ ریکارڈ کیے جانے کے سبب ریزرو بینک آف انڈیا روپیے کو مستحکم رکھنے کے لیے بیرونی زرمبادلے پر انحصار کئے ہوئے ہے،ریزرو بینک آف انڈیا کے ذرائع کے مطابق کبھی ہندوستان میں 728 ملین ڈالر کے زرمبادلہ موجود ہیں لیکن اس میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کی رفتار ہندوستان کے متوسط طبقے کے لئے انتہائی تشویش ناک ثابت ہو سکتی ہے،ماہرین معاشیات نے ہندوستانی شہریوں بالخصوص متوسط طبقے کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی آمدنی اور اخراجات پرخصوصی توجہ مرکوز کریں،اگرمکان کا قرض ادا کررہے ہیں تو اس کی اقساط میں ہونے والے اضافے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بعجلت ممکنہ ادائیگی پرتوجہ دیں تاکہ جلد ازجلد قرض کے چنگل سے آپ باہر آسکیں۔
ملک بھر میں عام آدمی کی جیب پرمہنگائی کا شدید ترین بوجھ بڑھ رہا ہے ایل نینو کے اثرات غیرموسمی بارش،مانسون کی بے ترتیبی اورسپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے فصلوں کی پیداوارمیں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ترکاریوں کی شدیدقلت پیدا ہونے کے ساتھ قیمتوں میں زبردست اضافہ درج کیا جارہا ہے،خاص طور پر ترکاریوں کے آسمان چھوتے داموں نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے باورچی خانے کا بجٹ مکمل طور پر برباد کر کے رکھ دیا ہے،حالیہ دنوں میں پیاز کی قیمتوں میں 68.27 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے،آلو کی قیمت میں 11.05 فیصد کااضافہ ہوا ہے،جولائی میں کنزیومر پرائس انڈیکس(CPI) پرمبنی اشیائے خردو نوش کی مہنگائی کی شرح اچانک بڑھ جانے سے عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے،غریب اورمتوسط طبقہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف روزمرہ کی خوراک اور ترکاریوں پرخرچ کرنے پرمجبورہیں،اگرچہ کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک میں افراط زر کو چار فیصدپرقابو میں رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن خوراک کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث معاشی اشاریے غیر مستحکم ہورہے ہیں،معاشی تجزیہ نگاروں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اشیائے خرد و نوش کی مہنگائی پرفوری قابو نہ پایا گیا تو عوام کی قوت خرید مزید متاثر ہوگی جس کےمنفی اثرات دیگرتجارتی شعبوں پربھی مرتب ہوں گے۔
کانگریس نے مودی حکومت پر ملک کی معیشت کو برباد کرنے اورسرمایہ کاروں کا بھروسہ توڑنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ کمزور ہوتے روپے اورغیرملکی سرمایہ کاروں کی فروخت روکنے میں وہ ناکام ثابت ہورہی ہے جس سے شیئر مارکیٹ میں عام سرمایہ کاروں کونقصان ہورہا ہے،کانگریس ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت میں ملک کا ہرشہری پریشان ہے،نوجوان، کسان یا چھوٹا تاجر سب پریشان ہے،قرض سے پریشان کسان اورنوجوان ہردن خودکشی کررہے ہیں،لاکھوں عہدے خالی ہیں لیکن بھرتیاں نہیں کی جارہی ہیں،جہاں تقرری نکلتی بھی ہے وہاں پپر لیک ہو جاتا ہے اورحکومت کے پسندیدہ لوگوں کو اس کا فائدہ ملتا ہے،مسٹر گوہل نے کہا کہ 1991 میں جب کانگریس حکومت بنی تھی،ملک کی معیشت شدید بحران میں تھی اور اس وقت ملک کا سونا باہر گروی رکھا گیا تھا،اس وقت ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر خزانہ تھے،انہوں نے ملک کے مفادات کومدنظررکھتے ہوئے اقتصادی اصلاحات کی شروعات کی تھی،غیرملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو ہندوستانی مارکیٹ میں آنے کا راستہ دیا جس سے ملک میں غیرملکی سرمایہ آنے لگا اور معیشت کو مضبوطی ملی،آج صورتحال اس کے برعکس ہے،غیر ملکی سرمایہ کار،ہندوستانی مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں،انھوں نے سوال کیا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا،اب ایسا کیوں ہورہا ہے؟اور وزیراعظم مودی اس پر جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے شیئر مارکیٹ پربڑے دعوے کیے اور عوام سے اس میں پیسہ لگانے کی اپیل کی تھی جس دن شیر مارکیٹ کے اوپر جانے کی بات کہی گئی تھی اس دن سینسیکس 85.836 پرتھا لیکن 29 ستمبر 2026 کو یہ تقریبا 72.500 پرآگیا ہے،انہوں نے کہا کہ اس سے عوام کے سرمایے کی قدر گھٹ گئی اورعوام کو ٹیکس بھی دینا پڑا،گوہل نے کہا کہ جب ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے تھے،تب پوری دنیا میں کساد بازاری تھی لیکن اس کا اثر ہندوستان پرنہیں پڑنے دیا گیا،انہوں نے کہا کہ یوپی اے دور میں عالمی کساد بازاری کے باوجود سینسیکس میں تقریبا 398 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔
دوسری طرف ایک ایسے وقت جب بے روزگاری اورسرکاری ملازمتوں کے لیے بڑھتی مسابقت،ملک بھرمیں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے،ایک آر ٹی آئی کے جواب سے مرکزی حکومت کے محکموں میں افرادی قوت کی شدید کمی کا انکشاف ہواہے،جواب کے مطابق مرکزی حکومت کے سول اسٹیبلشمنٹ میں 8.23 لاکھ سے زیادہ عہدے خالی ہیں،اس میں بینکوں اورپبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس (پی ایس یوز) آسامیاں شامل نہیں ہیں،یہ اعداد و شمار ریلوے،دفاع اور ہوم منسٹری سے لے کر کابینی سیکریٹریٹ اور وزیراعظم کےدفتر تک وسیع خلا کو ظاہر کرتے ہیں،مجموعی طور پر 39.23.212 منظورشدہ عہدوں کے مقابلے میں یکم مارچ 2024 کوصرف 30.99.556 ملازمین عہدوں پر فائز تھے۔اس طرح 8.23.656 عہدے خالی تھے جومنظور شدہ سول افرادی قوت کا 21 فیصد بنتے ہیں،دوسرے لفظوں میں حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے ہر پانچ عہدوں میں سے ایک عہدہ خالی تھا،یہ معلومات چندرشیکھر گور کی جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں سامنے آئی ہیں،گور نے کہا بڑھتی ہوئی بےروزگاری کے وقت یہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں،سرکاری ملازمتیں نوجوانوں کا حق ہیں،حکومت کو ان خالی عہدوں کو ترجیحی بنیاد پر پر کرنے کا عمل شروع کرنا چاہیے اورمشن موڈ میں کام کرنا چاہیے،اس سے نوجوانوں کوروزگار ملے گا اورمحکموں کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی،خالی عہدوں کا یہ مسئلہ ہندوستان کے انتظامی ڈھانچے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے،آر ٹی آئی کے اعداد وشمار کے مطابق صدر کے سیکریٹریٹ میں 803 منظورشدہ عہدوں کے مقابلے میں صرف 516 افراد کام کررہے تھے یعنی 287 عہدے یا 35.74 فیصدخالی تھے،دوسرے لفظوں میں حکومت کے اپنے افرادی قوت سے متعلق بیان کے مطابق صدر کے سیکریٹریٹ میں تقریبا ایک تہائی اور پی ایم او میں ایک چوتھائی سے زیادہ منظور شدہ عہدے خالی تھے،19 اگست کو دیے گئے اپنے جواب میں محکمہ اخراجات کے پے ریسرچ یونٹ نے کہا کہ باقاعدہ مرکزی سرکاری سول ملازمین کی گروپ وار اورحیثیت وار تازہ ترین دستیاب تخمینی تعداد یکم مارچ 2024 تک کی ہے،جواب میں وزارت اورمحکمہ وارمنظور شدہ افرادی قوت اور ان عہدوں پرحقیقتا کام کرنے والے افراد کی تعداد بھی فراہم کی گئی جس سے کاغذ پرمنظور شدہ انتظامی ڈھانچے اور ان عہدوں پر کام کرنے والی اصل افرادی قوت کے درمیان بہت بڑا فرق ظاہرہوتا ہے،سب سے بڑا خلاء ملک کے اہم ترین اداروں میں سے ایک میں نظرآتا ہے،وزارت دفاع کے سول اسٹیبلشمنٹ میں 5.56.248 منظورشدہ عہدوں کے مقابلے میں صرف 3.14.005 ملازمین کام کررہے تھے،جس کے نتیجے میں 2.42.243 عہدے خالی تھے،یہ اس کی منظور شدہ سول افرادی قوت کا تقریبا 43.5 فیصد بنتا ہے،یہ اعداد و شمار صرف دفاعی شعبے کےسول ملازمین سے متعلق ہیں اور انہیں فوج،بحریہ یا فضائیہ میں افرادی قوت کی خالی آسامیوں کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔کانگریس جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ملک میں روزگار کی صورتحال کولے کرمرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے،انہوں نے نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کے دور میں لاکھوں سرکاری آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ کروڑوں نوجوان روزگار،تعلیم اور ہنرمندی کی تربیت سے محروم ہیں،سرجے والا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں اسے بی جے پی حکومت کی سب سے تلخ حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں لاکھوں سرکاری ملازمتیں خالی ہیں۔8.7 کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں اورصورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی تربیت بھی نہیں لے رہے ہیں،کانگریس قائد نے کہا کہ یہ اعداد و شماراپوزیشن کی طرف سے پیش نہیں کیے گئے بلکہ خودحکومت کے ادارے نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں،ان کے مطابق 15 سے 29 سال کی عمر کے 8.7 کروڑ نوجوان نہ تعلیم حاصل کررہے ہیں،نہ کوئی ملازمت کررہے ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام میں شامل ہیں،سرجے والا نے نوجوانوں کی اس صورتحال کے لیے معاشی مشکلات،مہنگی ٹیوشن فیس اوربڑھتی ہوئی مہنگائی کوبھی ذمہ دارقراردیا،سرجے والا کے مطابق ملک میں صرف 8.25 فیصد گریجویٹس ہی ایسے کام کررہے ہیں جوان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بڑی رقم خرچ کرکے ڈگری حاصل کرنے کے باوجود نوجوانوں کو اپنی قابلیت کے مطابق روزگار نہیں مل رہا ہے،سرجےوالا نے اس کے لیے اسکل انڈیا اورہنرمندی کے فروغ کے نام پر حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پربھی سوال اٹھایا،انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت بڑے بڑے پروگراموں اورتشہیری مہمات کے ذریعے اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتی ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نوجوان،مہنگے تربیتی کورسز کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے،انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی اتنی بڑی نوجوان آبادی،تعلیم،روزگار اورہنرمندی کی تربیت سے محروم ہے تو وکست بھارت کا خواب محض ایک نعرہ بن کررہ جاتا ہے۔
سرجے والا نے کہا کہ نوجوانوں کو کھوکھلے نعروں کے بجائے مستقل روزگار معیاری اورسستی تعلیم اور ہنر مندی کی تربیت کے بہترمواقع درکار ہیں،سرجے والا نے اپنی پوسٹ کے ساتھ دو اخباری خبروں کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے ہیں،ان میں سے ایک خبرمیں نیتی آیوگ کی رپورٹ کے حوالے سے 8.7 کروڑ نوجوانوں کے تعلیم روزگار اور تربیت میں شامل نہ ہونے اورصرف 8.25 فیصد گریجویٹس کو ان کی قابلیت کے مطابق روزگارملنے کا ذکر ہے،دوسری خبر میں مرکزی حکومت کے مختلف محکموں میں خالی سرکاری آسامیوں کی تعداد میں اضافے کی خبردی گئی ہے جس کے مطابق خالی آسامیوں کی تعداد ایک دہائی میں 4.2 لاکھ سے بڑھ کر8.24 لاکھ ہو گئی ہے،سرجے والا نے انہی اعداد وشمار کوبنیاد بناتے ہوئے مرکزی حکومت کی روزگار پالیسی پرسوال اٹھایا اور کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو دعوؤں اورنعروں کے بجائے حقیقی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔سوال یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن تو آگئے لیکن عوام کے اچھے کب آئیں گے؟
(مضمون نگارمعروف صحافی،کالم نویس اورسیاسی تجزیہ نگارہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے