कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اقلیمِ ندوہ کے مقتدا حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کا سانحۂ ارتحال اور ایک حسرتِ ناتمام

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی

کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ أُجُوۡرَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ۖ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدۡخِلَ الۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ۗ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ إِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡر
(سورۃ آل عمران: 185)
موت و حیات کے تماشے اس سرائے فانی میں مشیتِ ایزدی سے ہمہ وقت وجود پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ عدم کی تیرگی سے وجود کے اجالے میں انسانی پیدائش کا ظہور ہو یا حیاتِ مستعار کا شباب، خاک کے پردے سے نمودار ہونے والے فرزندانِ آدم کے مقدر میں یہی تحریر ہے کہ جس نفس کو بھی سانسوں کی نعمت اور آغاز نصیب ہوا ہے، اس کا ایک روز انجام بھی مقدر ہے۔ آسمانِ علم و ادب پر کبھی کچھ ایسی شخصیات ضوفشاں ہوتی ہیں جن کی تابانی سے قریہ قریہ اور بستی بستی اجالا پھیلتا ہے، جب یہ آفتاب عالم تاب اپنی ضو افگنی کے بعد قضائے الٰہی سے روپوش ہو جائیں تو دلوں کی دنیا تاریک اور روحیں غم سے نڈھال ہو جاتی ہیں۔ موت کا یہ تازیانہ ہر ذی روح کے سر پر لٹک رہا ہے، اربابِ علم و دانش کا بچھڑنا پورے عالم کے ویران ہو جانے کے مترادف ہے۔
بقولِ شاعر:
قَدْ مَاتَ قَوْمٌ وَمَا مَاتَتْ مَكَارِمُهُمْ
وَعَاشَ قَوْمٌ وَهُمْ فِي النَّاسِ أَمْوَاتُ
(ترجمہ: بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ان کے اخلاق، کمالات اور مکارم کبھی نہیں مرتے؛ اور بہت سے لوگ زندہ ہیں مگر حقیقت میں وہ لوگوں کے درمیان مُردوں کی طرح ہیں۔)
سرورِ کائنات، فخرِ موجودات، آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ گرامی اس کٹھن گھڑی میں رہنمائی کرتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا (صحیح البخاری: 100)
ترجمہ: "بے شک اللہ تعالی علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے سینوں سے چھین لے، وہ علماء کو وفات دے کر علم کو اٹھا لے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے، ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔”
گزشتہ کل مورخہ 07 اکتوبر 2026ء، یومِ چہار شنبہ (بروز بدھ)، بعد نمازِ عصر، لکھنؤ کی سر زمین پر قیامتِ صغریٰ برپا ہوگئی۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم، مسندِ عربی کے سرخیل، فخرِ ہند، نابغۂ عصر اور عالمی شہرت یافتہ محقق و صاحبِ طرز ادیب، حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ نے اس دارِ فانی سے منہ موڑ کر ربِ کریم کے جوارِ رحمت میں پناہ لے لی۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
لَعَمْرُكَ مَا الرَّزِيَّةُ فَقْدُ مَالٍ
وَلَا شَاةٌ تَمُوتُ وَلَا بَعِيرُ
وَلَكِنَّ الرَّزِيَّةَ فَقْدُ حَبْرٍ
يَمُوتُ بِمَوْتِهِ خَلْقٌ كَثِيرُ
(ترجمہ: تیری جان کی قسم! اصل مصیبت مال کا ضائع ہو جانا یا کسی اونٹ و بکری کا مر جانا نہیں ہے؛ بلکہ اصل مصیبت و المیہ تو کسی صاحبِ علم و ربانی عالم کا اٹھ جانا ہے، جس کی موت سے درحقیقت ایک کثیر خلق کی موت واقع ہو جاتی ہے۔)
حضرت والا کا علمی خمیر جس خاک سے اٹھا وہ ہمارا مردم خیز خطہ ضلع مئو ناتھ بھنجن (اتر پردیش) ہے، جہاں 14 مئی 1935ء کو آپ کی ولادتِ با سعادت ہوئی۔ جس کی جڑیں تقویٰ اور علمِ حدیث میں پیوست تھیں۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا محمد ایوب اعظمیؒ، امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کے نامور اور ارشد تلامذہ میں شمار ہوتے تھے اور وہ مردم خیز خطہ مئو کے علمی افق پر مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ اور مولانا عبد اللطیف نعمانیؒ کے ہمراہ اس تاریخی اور باوقار علمی "مثلث” کا تیسرا ستون تھے جس نے چہار دانگِ عالم میں علم کے چراغ جلائے، نیز وہ طویل عرصے تک جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے باوقار شیخ الحدیث کے منصب پر بھی جلوہ افروز رہے۔ اسی طرح حضرت مرحوم کے برادرِ بزرگ حکیم عزیز الرحمن اعظمیؒ دارالعلوم دیوبند کی جامعہ طبیہ کے انتہائی لائق اور ذہین استاذ مانے جاتے تھے جنہیں حضرت شاہ وصی اللہ الہ آبادیؒ کے فیضِ صحبت اور معتقدین میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ خانوادۂ علم کے اس چشم و چراغ نے ابتدائی اور ثانوی مدارج مئو کے نامور علمی مرکز جامعہ مفتاح العلوم میں طے کیے، جہاں سے عالمیت و فضیلت کی سندِ فراغت حاصل کی۔ علومِ اسلامیہ کی اس پختہ بنیاد کے بعد مزید تخصص اور عربی زبان و ادب میں مہارتِ تامہ کے حصول کی خاطر آپ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا رخ کیا اور شعبۂ تخصص فی الادب میں امتیازی کمال حاصل کر کے علمی دنیا میں اپنی دھاک بٹھائی۔
علم کی سچی پیاس آپ کو مشرقِ وسطیٰ کے نامور علمی دیار تک لے گئی، جہاں آپ نے بغداد یونیورسٹی کے کلیۃ المعلمین سے اعلیٰ تربیتی مراحل طے کیے۔ عربی زبان کے دقائق اور اسالیبِ بیان میں پختگی اور نکھار پیدا کرنے کی خاطر آپ نے بغداد جا کر وقت کے یکتائے روزگار نقاد، عظیم ادیب اور ماہرِ لسان علامہ ڈاکٹر محمد تقی الدین ہلالی مراکشیؒ کے سامنے باضابطہ زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ ڈاکٹر ہلالیؒ وہ نابغۂ روزگار شخصیت تھے جو خود حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے بھی استاذ رہ چکے تھے، طویل عرصہ ندوۃ العلماء میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے تھے اور عربی، انگریزی اور جرمن زبانوں پر کامل دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ لسانِ عرب میں حجت مانے جاتے تھے۔ اس بحرِ زخار سے سیراب ہو کر حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمیؒ نے وہ فصاحت حاصل کی جس نے آگے چل کر انہیں اقلیمِ عرب کا معتبر ترین مصنف بنا دیا۔
وطن واپسی کے بعد سنہ 1955ء سے تا دمِ واپسیں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں 1993ء سے 1999ء تک ندوۃ العلماء کی "کلیۃ اللغۃ العربیۃ وآدابہا” کے عمید (ڈین) رہے، سنہ 2000ء سے اپنی وفات تک ربع صدی دارالعلوم ندوۃ العلماء کی مسندِ اہتمام کو رونق بخشی۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک آپ ندوہ کی جامع مسجد کے امام و خطیب کے منصب پر بھی فائز رہے، جہاں آپ کے مواعظِ حسنہ اور خطبات نفوس کی تطہیر اور ذہنوں کی تعمیر کا ذریعہ بنے رہے۔
علمی، فکری اور صحافتی محاذ پر آپ کا سب سے درخشندہ اور پائیدار کارنامہ عربی صحافت کی تجدید اور عالمی سطح پر اس کا باوقار احیاء ہے۔ سنہ 1955ء میں شہرۂ آفاق عربی مجلہ "البعث الاسلامی” کے اجراء کے وقت سے ہی آپ اس کی مجلسِ ادارت کے روحِ رواں اور بنیادی ستون بنے، جبکہ 1959ء میں پندرہ روزہ جریدہ "الرائد” کی تاسیس و اشاعت میں بھی پیش پیش رہے۔ بعد ازاں مولانا محمد الحسنیؒ کی عنفوانِ شباب میں ناگہانی وفات کے بعد جب "البعث الاسلامی” کی ادارت کی گراں قدر ذمہ داری آپ کے سپرد ہوئی، تو آپ نے نصف صدی سے زائد عرصے تک بحیثیت چیف ایڈیٹر اس کو ایسا فکری تمکنت اور ادبی شکوہ بخشا کہ اقلیمِ عرب و عجم کے اہلِ قلم آپ کے سحر انگیز، فصیح اور متوازن اسلوب کے معترف ہو گئے۔ اس طویل دورانیے میں آپ کے زرخیز قلم سے لکھے گئے پرشوکت اور فکر انگیز اداریے بجائے خود کئی ضخیم جلدوں کا قیمتی علمی مواد فراہم کرتے ہیں۔ مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کو آپ کی فکری جودت اور عربی انشاء پر غیر متزلزل اعتماد تھا؛ چنانچہ حضرت علی میاں ندویؒ کے مایہ ناز تاریخی شاہکار "تاریخِ دعوت و عزیمت” (رجال الفکر والدعوۃ فی الاسلام) کی بعض جلدوں کی عربی ترجمانی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے متعدد علمی رسائل و حصصِ فضائلِ اعمال کو فصیح عربی زبان کا پیرہن عطا کرنے کی سعادت بھی آپ ہی کے زرنگار قلم کے حصے میں آئی۔
ندوہ کی چہار دیواری سے آگے بڑھ کر آپ کی علمی سرپرستی کا دائرہ عالمی افق پر محیط تھا؛ آپ 1986ء میں عالمی رابطہ ادبِ اسلامی کے تاسیسی رکن بنے، دینی تعلیمی کونسل یوپی کے نائب صدر، دارِ عرفات رائے بریلی کے تاسیسی رکن اور انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ کے بانی و چانسلر کی حیثیت سے ادارہ جاتی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے دعوت و تبلیغ کے مقدس مشن کی خاطر سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، اردن، شام، عراق، عمان، ترکی، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سنگاپور، فیجی، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت دنیا بھر کے درجنوں ممالک کے دورے کیے۔ آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 1994ء میں آپ کو معزز ترین صدرِ جمہوریہ ایوارڈ (Presidential Award) سے سرفراز کیا گیا، اس کے علاوہ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ایوارڈ، مولانا احمد پرتاپگڑھی ایوارڈ اور مولانا عبد الحمید فرنگی محلی ایوارڈ سمیت لاتعداد علمی اعزازات آپ کی نذر کیے گئے۔
عربی اور اردو دونوں زبانوں پر آپ کا قلم روانی کے ساتھ گہر افشانی کرتا رہا۔ آپ کی تصانیف اسلامی کتب خانوں کا گراں مایہ اثاثہ ہیں، جن میں عربی کی مایہ ناز تالیفات:
شعراء الرسول في ضوء الواقع والقريض،
ساعات مع العارفين،
صور من واقع الدين،
محدث الهند الكبير حبيب الرحمن الأعظمي، اور
ندوة العلماء تواجه التحدي الكبير
شامل ہیں، اردو میں آپ کی شہرۂ آفاق کتب میں:
اسوۂ حسنہ کے آئینہ میں،
اسلام اور مغرب،
علم التصریف،
تذکرہ اہل دل، اور
اسلامی ثقافت اور ندوۃ العلماء
اہلِ علم میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔
عَلَيْكَ سَلَامُ اللهِ وَقْفًا فَإِنَّنِي
رَأَيْتُ الْجَمِيلَ الْحُرَّ لَيْسَ لَهُ عُمْرُ
(ترجمہ: آپ پر اللہ تعالیٰ کی ابدی سلامتی ہو، میں نے ہمیشہ یہی دیکھا ہے کہ جو صاحبِ کمال اور حریت پسند ہوتا ہے، اس کی حیات مختصر ہی ہوا کرتی ہے۔)
حضرت والا ایک طویل مدت سے شدید علالت، جسمانی نقاہت اور ضعف سے نبرد آزما تھے، یہاں تک کہ اجل کا وہ حتمی بلاوا آ پہنچا جس سے کسی ذی روح کو مفر نہیں ہے۔ آپ کے سانحۂ ارتحال پر یہ بلیغ اور تاریخی عربی شعر صادق آتا ہے:
وَمَا كَانَ قَيْسٌ هُلْكُهُ هُلْكُ وَاحِدٍ
وَلَكِنَّهُ بُنْيَانُ قَوْمٍ تَهَدَّمَا
(ترجمہ: قیس کا مرنا کسی ایک فرد کا مرنا نہیں تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی موت سے ایک پوری قوم کی عمارت زمین بوس ہو گئی ہے۔)
قلم اس مقام پر آ کر لرزنے لگتا ہے جہاں ضبط کے بندھن ٹوٹتے ہیں، دل کی خلش صفحۂ قرطاس پر اشک بن کر ڈھلنے لگتی ہے۔ ناچیز کے سینے میں حضرت کی زیارت و ملاقات کا ایک شدید اور ہمہ وقتی اشتیاق مچل رہا تھا۔ دل کی گہرائیوں میں یہی تمنا جاگزیں تھی کہ کسی صورت اس بحرِ علم کے کنارے بیٹھنے، مصافحہ و معانقہ اور دعا کا شرف حاصل ہو جائے۔ ابھی حالیہ ششماہی تعطیلات میں جب مدرسے سے وطن واپسی کا قصد باندھا تو سفر کی ترتیب دہلی، دیوبند اور لکھنؤ کے لیے طے پائی تھی۔ دیوبند کے قیام کے دوران اکابر اساتذۂ کرام کی خدمت میں حاضری اور ملاقاتوں کے طویل سلسلے کے سبب وقت اس قدر تنگ پڑ گیا کہ ناچار لکھنؤ کا رخ کرنے کا منصوبہ موقوف کرنا پڑا۔ یہ شدید آرزو دل ہی میں دبی رہ گئی کہ لکھنؤ کے چمن میں قدم رنجہ ہو کر دیگر اساتذہ کے ساتھ بالخصوص حضرت مہتمم صاحب نور اللہ مرقدہ کے دامنِ فیض سے وابستگی کا موقع ملے گا۔ لکھنؤ کے چند مخلص احباب کو اپنے ورود اور ملاقات کی ترتیب سے آگاہ بھی کر دیا تھا، تقدیر کے لکھے اور وقت کی تنگی نے اس اشتیاق کو پورا نہ ہونے دیا۔ آج جب عصر کی نماز کے بعد حضرت کے انتقالِ پرملال کی ہوش ربا خبر موصول ہوئی تو سینے میں ایک ہوک سی اٹھی۔ حسرت و ندامت کا ایک طوفان دل میں برپا ہوگیا کہ کاش! وہ ملاقات پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی ہوتی، کاش وہ دید نصیب ہو جاتی جو اب قیامت تک کے لیے مؤخر ہو چکی ہے۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
علم، وقار، حلم اور فصاحت کا یہ روشن پیکر 8 اکتوبر 2026ء، بروز جمعرات، بوقت صبح 8 بجے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے احاطے میں ہزاروں سوگواروں، علماء، تلامذہ اور عقیدت مندوں کی آہوں اور سسکیوں کے درمیان نمازِ جنازہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
بارگاہِ ربِ ذوالجلال میں عاجزانہ التجا ہے کہ وہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی لغزشوں کو درگزر فرما کر ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند کرے، ان کی گراں مایہ تصنیفی، دعوتی اور تدریسی مساعی کو شرفِ قبولیت سے نواز کر صدقۂ جاریہ بنائے، رب کریم انہیں فردوسِ بریں کے اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔ پسماندگان، تلامذہ اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے جملہ وابستگان کو صبرِ جمیل اور عالمِ اسلام کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

غم زدہ و دعا گو:
فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ، پیلیر، آندھرا پردیش
و ترجمان المعہد الاسلامی العربی العالمی
8 اکتوبر 2026ء بروز جمعرات بوقت بعد نمازِ فجر

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے