कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زندگی گلزار ہے پھر بھی ڈپریشن کا وار ہے

تحریر:ثناء وقار [ سائیکالوجسٹ ]
نواب پورہ ، اورنگ آباد (مہاراشٹر)

سفر کو جب کسی داستان میں رکھنا
قدم یقین میں منزل گمان میں رکھنا
’’ڈپریشن‘‘ یہ ایک ذہنی بیماری ہے۔ ڈپریشن کا مرض ہمارے معاشرے میں ہر طرف پھیل چکا ہے۔ اِس مرض کو کبھی بھی غیرسنجیدگی سے نہ لیں۔ ڈپریشن کو سائلنٹ کلر کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا مرض ہے جو صحت ، ازواجی زندگی اور کیریئر کو بیک وقت متاثر یا ختم کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بظاہر خوش باش کامیاب اور مالی طور پر آسودہ انسان بھی اندر سے بیزار ، اداس یا زندگی سے مایوس ہوسکتا ہے۔ ڈپریشن سے دماغی اور ذہنی صلاحیتیں بہت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ذہن باقاعدہ اور صحیح کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے ذہن میں آتے ہیں۔ اس طرح ذہنی تفکرات پیدا ہوتے ہیں اور سوچنے کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ڈپریشن اور افسردگی کے مسلسل دورے، ناامیدی کا باعث بنتے ہیں۔ ناامیدی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔اعصابی تناؤ اور ڈپریشن سے منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور خوداعتمادی کا فقدان پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کے فیصلہ کرنے کی قوت بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ المختصر ڈپریشن سے زندگی کی تمام رنگینیاں اور خوشیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ جس سے مجموعی طور پر صحت تباہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ ڈپریشن کوئی مذاق نہیں ہے۔ ایک گہری اداسی جس میں انسان ہر ایک کام میں اپنی دلچسپی کھو دیتا ہے۔ اسے اپنی زندگی کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔ منفی سوچ اس کا گھیراؤ کرلیتی ہے۔ ایسے شخص کی زندگی میں سکون ختم ہوجاتا ہے۔ زندگی کے معاملات بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں۔ زیادہ سوچنے والے لوگ اکثر ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ اِن کا دماغ وہ مسئلہ بھی create کرلیتا ہے جو حقیقت میں موجود بھی نہ ہوں۔ ماہر نفسیات کے مطابق ہم جو بولتے ہیں جو سوتے ہیں اس کا ہماری باڈی سیلز پر ویسا ہی اثر ہوتا ہے ۔ منفی سوچنا اور بولنا ہمارے امیون سسٹم کو کمزور کرتا ہے۔ ہم انسان خود کو ڈاؤن اور بیمار محسوس کرتے ہیں۔ ڈپریشن کسی کو کسی بھی وقت ہوسکتا ہے لیکن بعض لوگوں کو ڈپریشن ہونے کا خطرہ اور لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ ہماری شخصیت بھی ہوسکتی ہے اور بچپن کے حالات و تجربات، معاملاتِ زندگی بعض تکلیف دہ واقعات جیسے کسی قریبی عزیز کا انتقال ، طلاق یا نوکری ختم ہوجانے کے بعد کچھ عرصہ اداس رہنا، عام سی بات ہے۔ کچھ ہفتوں تک ہم لوگ اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور بات کرتے رہتے ہیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد ہم اس حقیقت کو تسلیم کرلیتے ہیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں واپس آجاتے ہیں لیکن بعض لوگ اس اداسی سے باہر نہیں نکل پاتے اور ڈپریشن کی بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈپریشن اگر زیادہ مدت تک رہے تو خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔
ڈپریشن کی علامات ہر وقت یا زیادہ تر وقت اداس اور افسردہ رہنا ، جن چیزوں اور کاموں میں پہلے دلچسپی ہو، ان میں دل نہ لگنا ، کسی چیز میں مزا نہ آنا، جسمانی یا ذہنی کمزوری محسوس کرنا ، زیادہ تھکارٹ محسوس کرنا ، روزمرہ کے کاموں یا باتوں پہ توجہ نہ دے پانا، اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے کمتر سمجھنے لگنا ، خوداعتمادی کم ہوجانا، ماضی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے اپنے آپ کو الزام دیتے رہنا، اپنے آپ کو فضول اور ناکارہ سمجھنا، مستقبل سے مایوس ہوجانا، خودکشی کے خیالات آنا یا خودکشی کی کوشش کرنا اور بھوک میں زیادتی یا کمی، بے چینی لاحق رہتی ہے ، وزن میں کمی، چڑچڑاپن اور کاہلی ، بے خوابی ، معدے کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے، افسردہ افراد عام طور پر دل کے امراض کا بھی شکار ہوتے ہیں، ہر وقت کی پریشانی اور بے جا افسردگی ان کے دل کے اعصاب کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ بلڈپریشر بھی معمول سے گر جاتا ہے۔ اکثر اوقات دائمی ڈپریشن کے شکار افراد ہارٹ اٹیک سے جان کھو بیٹھتے ہیں کیونکہ ڈپریشن سے مجموعی طور پر صحت متاثر ہوتی ہے، جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے، کسی سے بھی ملنا اور بات کرنا پسند نہیں کرتے، مایوسی وغیرہ علامات یا مضر اثرات لاحق ہوتے ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں جس کی اہم وجہ بائیولوجیکل اور ہارمونل تبدیلی ہے۔
امریکی تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے مریضوں میں اس تعداد میں سفید خلیے تیار نہیں ہوپاتے جو انفکشن کے خلاف مزاحمت کرسکیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ۵۷ فیصد بوڑھے افراد اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی شدید ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کم عمری میں ہونے والے ڈپریشن کے اثرات زیادہ مہلک ہوتے ہیں جو ساری زندگی ساتھ رہتے ہیں۔ کہنے کو تو ذہنی تناؤ ، ڈپریشن محض ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے لیکن دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس مرض یا پریشانی میں مبتلا ہے۔ ایسے لوگوں کو وقت اور توجہ دیجئے ، اس مرض میں مبتلا لوگوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے۔ ذہنی مریض کی باتوں کو اِگنور کرنا اس مرض کو مزید بڑھانے کا سبب بنتا ہے جو نئی بیماریوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔
آج کے جدید دور میں معاشرتی، سماجی مسائل اور مالی پریشانیوں کی وجہ سے ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہر کوئی پریشان نظر آتا ہے۔ ڈپریشن کا مرض اتنا عام ہوچکا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو ڈپریشن سے محفوظ ہو۔ ڈپریشن زیادہ ہوجائے تو اس کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔ خودکشی کی سب سے بڑی وجہ ڈپریشن کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات بڑے بڑے کامیاب لوگ جن کی زندگی ہر لحاظ سے قابل رشک ہوتی ہے وہ بھی ڈپریشن کا شکار نظر آتے ہیں۔ ڈپریشن میں انسان خود کو لاچار اور بے بس محسوس کرتا ہے اور کوئی نہ کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسی حالت میں ڈپریشن دور کرنے والی اینٹی ڈپریشنسٹ ادویات اور کیمیکلز کی مقدار دماغ میں بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ڈپریشن کا علاج (سائیکوتھراپی) کے ذریعے سے بھی کیا جاسکتا ہے (سائیکولوجسٹ ) کی مدد سے ڈپریشن اس مرض کا حل ممکن اور فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
ڈپریشن ، اسٹریس اور دیگر ذہنی ، نفسیاتی امراض کے متعلق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی اچھی عادات، متوازن غذا ، روزانہ چہل قدمی، ورزش، اچھا ماحول اور سب سے اہم عبادت ہر نوعیت کی دماغی ، نفسیاتی، جسمانی اور دیگر بیماریوں کو ختم کردیتی ہے۔ اچھی سرگرمیاں جب شروع ہوتی ہیں تو دماغ کے اندر ایک خاص طرح کا کیمیکل پیدا ہوتا ہے ، جس سے دباؤ اور ڈپریشن کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کس طرح ڈپریشن سے نجات اور سکون حاصل کیا جائے۔
اسلام نے ڈپریشن، اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کا بہت ہی زبردست حل بتایا ہے۔ اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جس کے متعلق اسلام نے انسان کی رہنمائی نہ فرمائی ہو۔ ڈپریشن بھی انہی بیماریوں میں سے ایک ہے جس کا انتہائی آسان علاج ہمیں بتایا گیا ۔
میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ دل پورے جسم کو خون سپلائی کرتا ہے لیکن دماغ دل سے اوپر ہونے کی وجہ سے خون پورے پریشر سے دماغ تک نہیں پہنچتا اور یہ کمی دماغی کمزوری اور ڈپریشن کی وجہ بنتی ہے۔ ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان دن میں ایک مرتبہ بھی ایسی پوزیشن میں آئے کہ اس کا دماغ اس کے دل سے نیچے ہوتو خون درست طرح دماغ تک پہنچتا ہے اور انسان ڈپریشن ، دماغی کمزوری جیسی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ سائنس دانوں نے اس پوزیشن کے کچھ ایکسرسائز بتانی ہے لیکن اگر آپ ذرا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ نماز کے دوران جب نمازی سجدہ کرتا ہے تو اس حالت میں خون درست طریقہ سے دماغ تک پہنچتا ہے اور خون کا یہ بہاؤ دل و دماغ کو طاقت پہنچاتا ہے یعنی نماز کی پابندی ڈپریشن اور ذہنی کمزوری کا بہترین علاج ہے۔
ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ڈپریشن مرض کا علاج اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین قرار دیا ہے۔وَتَوَکّلْ عَلَی اللّٰہِ وکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیلاً (سورہ النساء : ۸۱) ذہنی دباؤ ، مایوسی اور ڈپریشن کا واحد حل اللہ پر بھروسہ ہے جو انسان کلمہ طیبہ پڑھتا ہے وہ کبھی ڈپریشن کا شکار نہیں ہوگا۔ ہمیشہ اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھیں اور ہر وقت اللہ کا شکر ادا کیجئے جس رب نے ہم تمام انسانوں کوجسمانی، دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر کوئی ایک نعمت چھن گئی ہے تو اللہ کی رحمت سے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ کی رضا میں راضی ہونا چاہئے، ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسی کیفیات کا بہترین علاج یہ ہے کہ انسان روحانیت کی طرف توجہ دے اور اللہ کی طرف زیادہ سے زیادہ دل لگائیں ، قرآن نے واضح الفاظ میں یہ اعلان کردیا ہے کہ اَلابِذکراللّٰہ تَطمئن القُلوب ’’اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون پہنچتا ہے۔‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے