कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محلے کی رپورٹر خالا جان

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

ہمارے کاشانۂِ ناز کی دہلیز پر جب بھی خالہ جان کا برقع کسی سایۂِ عاطفت کی طرح فروکش ہوتا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ در و دیوار کے افسردہ رنگوں پر یکسر بہار اتر آئی ہو۔ ان کی پُرشکوہ آمد سے فضا میں ایک ایسی مسرت خیز اور بے ساختہ چہل پہل بھر جاتی ہے، گویا گوشۂِ ویرانی میں عیشِ رفتہ لوٹ آیا ہو۔ قدم رنجہ فرماتے ہی ان کا سب سے پہلا جملہ حسبِ معمول گونجتا ہے: "اچھا! ابھی تک بیدار نہیں ہوئے؟ کیا اب تک خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہو؟” اور اس کے ساتھ ہی گفتگو کا وہ زریں اور لاامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے جو ان کی رخصتی کے بعد ہی تھمتا ہے۔
خالہ جان اور خالو جان کا یہ مختصر سا مسکن پرانے طرزِ تعمیر کا ایک دلکش اور حسین آشیانہ ہے، جو دو خلوت کدوں، ایک باورچی خانے اور ایک چھوٹے سے ہال پر محیط ہے۔ اس کوزے میں دریا جیسی وسعت رکھنے والے اس گھر کے اردگرد قدرت کی مہربانیاں بکھری پڑی ہیں۔ صحنِ خانہ میں بادام، نیم اور املی کے توانا درخت اپنی گھنی چھاؤں تانے رہتے ہیں، جبکہ کھلی کیاریوں میں کڑی پتہ، ہرا دھنیا اور ٹماٹر کے پودے اپنی مہک سے فضا کو معطر کرتے ہیں۔ اس چھوٹے سے کچے پکے آشیانے میں اس جوڑے کی عمر ستر برس کا سنگ میل عبور کر چکی ہے، مگر ماشاءاللہ، ان کے جسموں کی چستی اور شگفتگی دیکھ کر نو عمر جوان بھی رشک کی تصویر بن جائیں۔ صبح کا اجالا ان کے لیے بستر پر کروٹیں بدلنے کا استعارہ نہیں، بلکہ علیٰ الصباح بیدار ہو کر سیر و سیاحت کے لیے نکل جانے کا پختہ اور اٹل معمول ہے۔
ربِ کریم نے انہیں سات دخترانِ نیک سیرت کی نعمتِ عظمیٰ سے نوازا تھا، جو سب کی سب بیاہ کر اپنے اپنے گھروں کی زینت بن چکی ہیں۔ اب اس ویران نما رونق کدے میں خالہ اور خالو تنہا ہی اپنی اس پرسکون دنیا کو آباد کیے ہوئے ہیں۔ خالو جان کے ساتھ ان کی کھٹی میٹھی نوک جھونک اور روزمرہ کی چشمک اس گھر کا سب سے دلچسپ اور متحرک باب ہے۔ جب وہ ہمارے یہاں تشریف لاتی ہیں، تو خالو جان کی شکایتوں کا ایک طومار کھل جاتا ہے اور وہ بڑے ہی چٹکیدار، شگفتہ اور مضحکہ خیز پیرائے میں شکوہ کناں ہوتی ہیں: "ارے بھئی! ذرا ان کا حال تو ملاحظہ فرمائیے! رات گئے تک تکیے سے سر نہیں لگاتے، ٹیلی ویژن اور موبائل سے اس طرح پیوست رہتے ہیں جیسے روح اور قالب کا رشتہ ہو، وقت کی کوئی قد و قیمت نہیں اور بس دنیا داری کے لایعنی دھندوں میں الجھے رہتے ہیں!”
صرف یہی نہیں، بلکہ وہ ہمارے گھر کی دہلیز پھلانگتے ہی جملہ امور کا کڑا محاسبہ کرنے لگتی ہیں۔ جھاڑو دینے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ سالن بنانے کا ڈھنگ یہ نہیں وہ ہے! روٹیاں دائرے کی شکل میں گول کیوں نہیں اتریں؟ اور اس سالن میں کون سا مصالحہ ڈالا گیا ہے اور کون سا تڑکا لگایا گیا ہے؟ ان کی یہ بے جا فکرمندی اور طنز و ملامت کی چھوٹی چھوٹی ٹوکیں بعض اوقات یوں محسوس ہوتی ہیں گویا ہم پر کوئی سخت گیر سوتیلی ماں یا کوئی محتسب بیٹھا ہو۔ مگر ان کے اس روایتی رعب اور نک جچڑے پن کے پسِ پردہ سراسر بے پناہ شفقت، خلوص اور اپنائیت کا بحرِ بیکراں موجزن ہوتا ہے۔ خود خالہ جان کا اپنا وجود نفاست اور سلیقے کا معتبر ترین استعارہ ہے۔ اس کہنہ سالی میں بھی ان کے تن پر اجلے اور ستھرے کپڑے، سر پر سلیقے سے لپٹا ہوا دوپٹہ، بالوں میں روغن اور کنگھی کا اہتمام ان کی نفاست پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محلے بھر میں ان کا کردار کسی باخبر سفیر، جاسوس یا نیوز رپورٹر سے کم ہرگز نہیں۔ صبح کے ٹھیک پانچ بجے سے بیدار ہو کر دس بجے تک گھر کے جملہ امور کو چٹکیوں میں سمیٹ کر، وہ صبح دس سے لے کر نمازِ عصر تک محلے کی گلیوں اور کوچوں کی خبروں کا مرکزی محور بن جاتی ہیں۔ کس کے گھر کیا واقعہ رونما ہوا، کس کے ہاں کون سی تقریب ہوئی، کس کی گود ہری ہوئی، کس کی شادی کی شہنائیاں بجیں اور کس کا جنازہ اٹھا۔ عزیز و اقارب سے لے کر دور دراز کے رشتہ داروں تک کی ہر ایک اندرونی اور بیرونی تفصیل ان کے سینے میں محفوظ رہتی ہے۔ کوئی انہیں اپنے شجر سے مفت میں تازہ کڑی پتہ توڑ کر دیتا ہے، تو کوئی محبت میں پھل تھما دیتا ہے۔ محلے کا بچہ بچہ ان کی عظمت اور احترام کا قائل ہے اور محبت کے طور پر انہیں پان پیش کرتا ہے۔ سفرِ حج یا عمرہ سے لوٹنے والے مسافر ان کے لیے آبِ زمزم، عجوہ کھجوریں اور جائے نماز جیسے متبرک تحائف لانا کبھی فراموش نہیں کرتے۔ ہمارے گھر کے افراد بھی ان کی تکریم اور تعظیم میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ ہمارے گھر کا بھائی بازار سے لوٹتے وقت ان کے لیے تر و تازہ سبزیاں اور ٹماٹر ساتھ لے آتا ہے، گو کہ خالہ جان ان کی قیمت بے چون و چرا ادا کرتی ہیں، مگر اس تعاون سے ان کے روزمرہ کے امور میں بڑی آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔
بچوں کے ساتھ ان کا رشتہ تو حد درجہ ممتا سے لبریز اور گہرا ہے۔ اگر گھر کا کوئی طفلِ شیریں دہن رونے لگ جائے، صبح کا ہنگامہ خیز وقت ہو اور چولہے پر ہانڈیا چڑھانے کی جلدی لگی ہو، تو خالہ جان مسیحا بن کر فوراً میدان میں اتر آتی ہیں۔ وہ اس روتے بلکتے بچے کو گود میں اٹھاتی ہیں، دکان پر لے جا کر بہلاتی ہیں، سیر کراتی ہیں، محبت سے نہلاتی ہیں، اپنے گھر لے جا کر اپنی شفقت کی چادر تان دیتی ہیں اور پیار و الفت کی دولت سے مالامال کر دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ, خالہ جان نہ صرف ایک صائمہ، قانتہ اور پرہیزگار خاتون ہیں، بلکہ وہ روایتی ٹوٹکوں، جڑی بوٹیوں اور گھریلو علاج کی ایک چلتی پھرتی دائرۃ المعارف ہیں۔ کھانسی کا شافی نسخہ ہو، جسمانی درد کے لیے ادرک اور شہد کے مجرب نسخے ہوں، یا پھر نظر بد اتارنے کے لیے دم درود اور دعاؤں کے عاملانہ جوہر۔ وہ ہر مرض کے لیے ایک بے مثال معالج ثابت ہوتی ہیں۔
دوسری جانب، ان کی یہ گلیوں میں گھومنے اور محلے میں بیٹھنے کی عادت بھی عجیب رنگ دکھاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب خالہ جان کوچوں کی سیر میں ذرا زیادہ مصروف ہو جاتی ہیں اور ادھر گھر پر خالو جان کو چائے کی طلب مچلنے لگتی ہے، تو وہ انہیں ڈھونڈنے کے لیے خود گلیوں میں نکل پڑتے ہیں۔ جب خالو جان انہیں کسی گھر بیٹھا ہوا پاتے ہیں، تو غصے اور لاڈ میں جھڑک دیتے ہیں: "اتنی دیر کیوں لگا دی؟ کیا گھر پر تمہارے قدم نہیں ٹکتے؟ گھر میں بیٹھنا نصیب نہیں ہے کیا؟” لیکن مجال ہے جو خالہ جان پلٹ کر کوئی سخت جواب دیں! وہ اپنے شوہر کا پُرخلوص ادب ملحوظ رکھتے ہوئے سر جھکا کر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ جب خالو جان اپنی تیز اور غصے بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، تو وہ فوراً مسکرا کر کہتی ہیں: "ارے بس! میں تو اب آ ہی رہی تھی، چلیے، چلیے! میں ابھی آپ کو ادرک اور مصالحوں والی بڑی شاندار اور کڑک چائے بنا کر پلاتی ہوں!” بڑھاپے کی اس دہلیز پر ان دونوں کے درمیان محبت، اپنائیت اور خلوص کا یہ لازوال منظر دل کو موہ لیتا ہے۔
اور پھر جب کبھی وہ طویل سفر سے واپس لوٹتی ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اطلاعات اور نشریات کا پورا محکمہ بحال ہو گیا ہو! ان کی واپسی پر خاندان بھر کی ایسی لامتناہی اور چٹکیدار داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔ کس رشتے دار نے سفر میں کیا حماقت کی، کس نے کس سے منہ پھیر لیا، کس کی بہو نے کیا غل مچایا اور کس کے ہاں کیا نیا تماشا ہوا۔ ان کا ہر قصہ کسی سنسنی خیز ناول کی طرح طول پکڑتا ہے اور ان کی زبان سے نکلنے والی ایک ایک مفصل رپورٹ پورے خاندان کا کچا چھٹھا کھول کر رکھ دیتی ہے۔ ان کی یہ دلفریب اور مزے دار کہانیاں سننے کا جو لطف آتا ہے، وہ کسی فلم یا داستان سے کم نہیں ہوتا۔
مختصر یہ کہ خالہ جان محض ایک گوشت پوست کی انسان نہیں، بلکہ ہمارے پورے محلے کی دھڑکن، اس کی شگفتگی اور اس کی زندہ دلی کا ایک روشن ترین استعارہ ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے