कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ماں کی ممتا اور اس کی عظمت

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

لفظ ماں سن کر محبتیں، الفتیں اور ممتا کا وہ نقشہ اور تصور سامنے آتا ہے۔ اس تصور کے سامنے دنیا کی ہر چیز ہیچ اور ماند پڑ جاتی ہے۔ ماں ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس کا بدل یا متبادل دنیا میں کوئی نہیں۔ حدیث میں ہے ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ یعنی آپ والدین کی بہتر خدمت اور رضا سے جنت کو حاصل کر سکتے ہیں۔ جب آپ ﷺ سے کسی نے ماں کے متعلق حق کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے کہا "ماں” اور اس طرح تین مرتبہ ماں کے حق سے متعلق کہا، اور چوتھی مرتبہ باپ کے بارے میں فرمایا۔ الوالد اوسط من ابواب الجنہ یعنی باپ جنت کا دروازہ ہے۔ باپ کی بھی وہی قدر و منزلت ہے جو ماں کی۔ اس بات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ماں کی عظمت اور اس کی عزت و احترام کتنی اہمیت کی حامل ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے دعا کی کہ ہلاک ہو وہ شخص جو والدین میں سے کسی ایک کو پائے اور ان کی خدمت نہ کرے، تو آپ ﷺ نے آمین کہا۔ اس بات سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ والدین کی ان کی زندگی میں قدر کرنا کتنا اہم اور ضروری ہے۔ اگر والدین کی خدمت سے محروم رہو گے تو نہ جنت کا دروازہ کھلے گا اور نہ جنت میں داخلہ۔ چنانچہ ان سے محبت و الفت کا معاملہ رکھنا، ان کے ادب و احترام کو فوقیت دینا، اور ان کے دکھ اور سکھ میں شامل رہنا، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں آپ کو بہت سی تکالیف سے نشو و نما دی ہے اور پال پوس کر اس قابل کیا ہے کہ آپ ایک نوجوان کی شکل میں ہو۔ خدایِ برتر کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے، اپنے والدین کو اف بھی نہ کہو اور نہ ان سے زور سے بات کرو، جیسا کہ انہوں نے آپ کو بچپن میں پالا ہے۔
ماں کی اپنی اولاد سے محبت اور الفت کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بچے کو لے کر دو عورتیں یہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ یہ بچہ میرا ہے، اور دوسری کہہ رہی تھی یہ بچہ میرا ہے۔ جب یہ بات قاضی شریعت تک پہنچی تو قاضی نے فیصلہ کیا اور دونوں خواتین سے کہا کہ بچہ آدھا آدھا تم دونوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ تب جو حقیقی ماں تھی اس نے چیخ کر کہا کہ نہیں نہیں، یہ بچہ اسی عورت کو دے دو، وہی اس کی ماں ہے۔ تب قاضی نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کی حقیقی ماں یہ نہیں بلکہ وہ ہے جو یہ نہیں چاہتی کہ اس کا بیٹا کٹ جائے۔ یہ ہوتی ہے ماں کی اصل محبت۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ایک پایہ کے ولی گزرے ہیں۔ وہ اپنی ماں کی بہت خدمت اور والدین کا خیال رکھتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنی ماں کے لیے گلاس میں پانی لے کر آئے، تب تک ان کی والدہ محترمہ کی آنکھ لگ گئی تھی۔ حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ رات بھر گلاس لے کر ماں کے سرہانے کھڑے رہے۔ جب ان کی والدہ بیدار ہوئیں تو اپنے بیٹے کو پانی کا گلاس لے کر کھڑا پایا اور ماں نے ان کو دعا سے نوازا، جو اپنے وقت کے ایک بڑے پایہ کے ولی گزرے ہیں۔
یہی ماں اپنی اولاد کے لیے سائباں کی طرح ہوتی ہے، خود کانٹوں پر چل کر اپنی اولاد کو پھول میسر کرتی ہے۔ لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی، ایک ماں ہی ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی۔
جب آپ شیر خوار تھے، آپ کو کچھ سمجھ نہیں آتا تھا، آپ چلنے پھرنے اور اٹھ کر بیٹھنے سے قاصر تھے۔ جب ماں نیند میں ہوتی اور آپ کی ایک آواز سے وہ کروٹ بدل کر بچے کو دودھ پلاتی، ہم اس کروٹ بدل کر دودھ پلانے کا ساری زندگی احسان اور بدلہ نہیں چکا سکتے۔ اور یہی نہیں، اگر ہم اپنے والدین کو حج کے لیے اپنے کاندھوں پر بٹھا کر پیدل بھی لے جائیں تب بھی والدین کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ گویا کہ ماں کائنات کی ایک عظیم ہستی ہے جس کو خدایِ برتر نے ایک عظیم المرتبت بنایا ہے۔
منور رانا، مشہور عالمی شہرت یافتہ شاعر نے ماں کی عظمت اور الفت سے متعلق بہت ہی خوبصورتی سے عکاسی کی ہے:
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذان دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے
تیرے دامن میں ستارے ہیں، تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی
ایک شخص جماعت میں امریکہ گیا کہ وہاں دین کی تبلیغ کریں اور لوگوں کو عمل صالح کی ترغیب دیں۔ ایک عالم دین سے ان کی ملاقات ہوئی۔ گفت و شنید کے بعد اس عالم دین نے اس موصوف سے کہا: کیا آپ کے والدین حیات ہیں؟ اس نے کہا جی حیات ہیں۔ تب اس عالم دین نے فرمایا، پھر والدین کی خدمت کو چھوڑ کر اتنی دور کی مسافت طے کیوں کی؟ وہیں رہ کر والدین کی خدمت کرتے اور اس سے زیادہ اجر عظیم پاتے۔
اللہ ہمیں والدین کی خدمت اور ان سے الفت و محبت سے پیش آنے والا بنائے۔ آمین۔
ابھی زندہ ہے ماں میری، مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں، دعا بھی میرے ساتھ رہتی ہے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close