कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عالم بدیع اعظمی، جن کی یادیں ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی

تحریر: مسعود محبوب خان (ممبئی)
رابطہ: 9422724040

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے نظام آباد اسمبلی حلقے سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاست دان، سماج وادی پارٹی کے ممتاز رہنما اور پانچ مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہونے والے جناب عالم بدیع اعظمی صاحب کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک، دل خراش اور پوری عوام کے لیے صدمے کا باعث ہے۔ ان کے انتقال سے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پورے نظام آباد، ضلع اعظم گڑھ، سیاسی حلقوں اور عوامی زندگی سے وابستہ افراد ایک مخلص، دیانت دار اور بے لوث عوامی نمائندے سے محروم ہو گئے ہیں۔
جناب عالم بدیع اعظمی صاحب کا شمار اتر پردیش کے ان باوقار سیاست دانوں میں ہوتا تھا جنہوں نے سیاست کو اقتدار، نمود و نمائش یا ذاتی مفاد کا ذریعہ بنانے کے بجائے عوامی خدمت، اخلاص اور دیانت داری کا وسیلہ بنایا۔ وہ ایک سادہ مزاج، نرم گفتار، خوش اخلاق اور عوام کے دکھ درد میں شریک رہنے والے رہنما تھے۔ ان کی پوری سیاسی زندگی خدمتِ خلق، شفاف کردار اور عوامی اعتماد کی روشن مثال رہی۔
انہوں نے پہلی مرتبہ 1996ء میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے نظام آباد اسمبلی حلقے سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں مسلسل عوامی اعتماد حاصل کرتے ہوئے کل پانچ مرتبہ اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جن میں 2012ء، 2017ء اور 2022ء کے انتخابات بھی شامل ہیں۔ بار بار کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام انہیں محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ اپنا خیر خواہ، ہمدرد اور قابلِ اعتماد نمائندہ سمجھتے تھے۔
عالم بدیع اعظمی صاحب کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی بے مثال سادگی تھی۔ طویل سیاسی سفر، اعلیٰ عوامی منصب اور وسیع سماجی اثر و رسوخ کے باوجود ان کی زندگی میں تکلف، شان و شوکت یا نمود و نمائش کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ سادہ لباس، سادہ طرزِ زندگی اور عوام کے درمیان رہنے کو اپنی عزّت سمجھتے تھے۔ ان کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھلے رہتے تھے، اور وہ بغیر کسی امتیاز کے ہر ضرورت مند کی بات سنتے اور حتیٰ المقدور اس کے مسائل کے حل کی کوشش کرتے تھے۔
ان کی عوامی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا شفاف کردار اور عوام سے مسلسل رابطہ تھا۔ وہ اکثر اپنے حلقۂ انتخاب کے دورے نہایت سادگی کے ساتھ کرتے، لوگوں کے گھروں تک پہنچتے، ان کے مسائل سنتے اور سرکاری سطح پر ان کے حل کے لیے بھرپور کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف ایک منتخب نمائندہ نہیں بلکہ علاقے کے بزرگ، سرپرست اور عوام کے اپنے آدمی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
راقم کو بھی مرحوم سے ایک خاص قلبی تعلق اور والہانہ عقیدت حاصل تھی۔ شدید سیاسی، سماجی اور عوامی مصروفیات کے باوجود وہ میرے مضامین کے مطالعے کے لیے وقت ضرور نکال لیتے تھے۔ وہ محض سرسری نظر سے انہیں نہیں پڑھتے تھے بلکہ نہایت توجہ اور انہماک سے مطالعہ کرتے، پھر فون پر رابطہ کرکے اپنے قیمتی تاثرات سے نوازتے، حوصلہ افزائی فرماتے، دعاؤں کا تحفہ دیتے اور مزید لکھنے کی بھرپور ترغیب دیتے تھے۔ ان کی یہ شفقت، خلوص اور دل افزا حوصلہ افزائی میرے لیے ہمیشہ اعتماد، عزم اور فکری استقامت کا سرمایہ بنی رہی۔
ان کی شخصیت کا نمایاں وصف ان کا حسنِ اخلاق، انکساری، سادگی اور محبت بھرا انداز تھا۔ بلند سیاسی مقام، عوامی مقبولیت اور بے پناہ مصروفیات کے باوجود ان کے رویّے میں کبھی تکلف، غرور یا فاصلے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ وہ ہر ایک سے خندہ پیشانی، اپنائیت اور خلوص کے ساتھ پیش آتے، اس کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اپنے حسنِ سلوک سے اسے اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے ملنے والا ہر شخص انہیں صرف ایک کامیاب عوامی رہنما ہی نہیں بلکہ ایک مخلص، بااخلاق، شفیق اور انسان دوست شخصیت کے طور پر یاد رکھتا ہے۔
اگرچہ میری مرحوم سے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی، لیکن ان کے خلوص، شفقت، محبت اور بے تکلف اپنائیت نے ہمیشہ یہی احساس دلایا کہ گویا برسوں سے ایک گہرا قلبی تعلق قائم ہے۔ فون پر ہونے والی مختصر گفتگو بھی ایسی مانوس اور پرخلوص ہوتی کہ اجنبیت کا ہر احساس مٹ جاتا۔ ان کی گفتگو میں سادگی، اخلاص، متانت اور عمر بھر کے مشاہدات و تجربات کی پختگی نمایاں ہوتی تھی، جو سننے والے کے دل پر خوشگوار اثر چھوڑتی تھی۔
وہ ان نادر اور صاحبِ ذوق قارئین میں سے تھے جو محض الفاظ کا مطالعہ نہیں کرتے تھے، بلکہ تحریر کے پس منظر، اس کے مقصد، اس کی فکری جہت اور اس کے درد و احساس کو بھی پوری گہرائی کے ساتھ محسوس کرتے تھے۔ اسی لیے ان کی آرا رسمی تبصرے نہیں ہوتیں، بلکہ حوصلہ افزائی، رہنمائی اور فکری تقویت کا ذریعہ بنتیں۔ ان کے خلوص بھرے کلمات اور مخلصانہ دعائیں ایک قلم کار کے لیے قیمتی سرمایہ تھیں، جو ہر نئے موضوع پر قلم اٹھانے کا حوصلہ عطا کرتی رہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسے شفیق، مشفق، صاحبِ دل اور اہلِ ذوق قارئین ہی کسی قلم کار کی اصل متاع ہوتے ہیں۔ انہی کی محبت، اعتماد، دعاؤں اور خیرخواہی سے قلم میں تازگی، فکر میں پختگی اور اظہار میں نئی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ مرحوم بھی انہی نادر شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی بے لوث محبت، خلوص اور دل نواز حوصلہ افزائی کے ذریعے میرے لیے ایسی یادیں چھوڑیں جو ہمیشہ میرے دل و دماغ میں زندہ رہیں گی اور جنہیں میں اپنے لیے ایک قیمتی روحانی سرمایہ سمجھتا رہوں گا۔
عالم بدیع اعظمی صاحب جیسے دیانت دار، مخلص، سادہ مزاج اور عوام دوست رہنما آج کے سیاسی ماحول میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی وفات ایک ایسا خلا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔ ان کی خدمات، ان کا کردار، ان کی سادگی اور عوام سے وابستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بنی رہے گی۔
بلاشبہ عالم صاحب جیسے مخلص، صاحبِ ذوق اور خیر خواہ قارئین ہماری ملت کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ آج وہ ہزاروں کلومیٹر دور اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، مگر ان کی یاد دل کو غمگین اور آنکھوں کو نم کر دیتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، رفقاء اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، ان کی عوامی و ملّی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اُمّتِ مسلمہ کو ان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے